ندیم بابر اور حفیظ شیخ کی برطرفی، عمران خان کا درست فیصلہ

231

عمران خان نے اقتدار میں آنے اور وزیراعظم بننے کے بعد بہت سی غلطیاں کیں، یاتو ان کو حکومت کرنے کا کوئی تجربہ نہ تھا یا ان کی ٹیم میں غلط لوگ شامل ہو گئے۔ زیادہ تر لوگ ناتجربہ کار تھے یا حکومتی دائو پیچ سے ناآشنا تھے۔ دوسری طرف عمران خان اکیلا تھا۔ نہ اس کا خاندان تھا اور نہ کوئی صحیح مشورہ دینے والا۔ حکومت میں آتے ہی اپوزیشن نے اس پر حملے شروع کر دیئے۔ سلیکٹڈ یا فوج کا نمائندہ، نہ جانے کن کن القابوں سے اس کو نوازا جانے لگا۔ بلورانی یا بلاول نے حد کر دی، اس کو قومی اسمبلی میں کھڑے ہو کر ’’ذلیل‘‘ کہہ دیا حالانکہ اس کا باپ اور وہ خود بھی ذلیل ہی ہیں۔ ان حالات میں اس کی ٹیم کے سب سے اہم کھلاری اسد عمر نے خزانہ کا قلمدان سنبھالا۔ اسد سے امید کی جارہی تھی کہ جتنا اس کو تجربہ ہے اس حساب سے وہ ایک نیا اور کامیاب وزیر خزانہ ثابت ہو گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ اسد عمر قوتِ فیصلہ سے محروم رہنما ثابت ہوئے۔ آئی ایم ایف سے مذاکرات اور لون سے متعلق وہ بہت کمزور وزیر خزانہ ثابت ہوئے۔ آئی ایم ایف سے لون لینا ہے یا نہیں کئی ماہ تک اس کا فیصلہ نہ کر سکے پھر حکومت کو سعودی عرب اور متحدہ امارات سے بھیک مانگنا پڑی۔ سعودی عرب نے بھی سود کے ساتھ ایک ارب ڈالر دئیے۔ پاکستان کو قرضے کی قسطوں میں واپسی میں شدید مشکلات تھیں۔ تب عمران خان کو مجبوراً اسد عمر کو ہٹانا پڑا اور آئی ایم ایف کے دو نمائندے حفیظ شیخ اور گورنر سٹیٹ بنک ہم پر نازل ہو گئے۔ ایک کہاوت ہے نزول تو آسمانوں پر سے ہوتا ہے لیکن یہ دو ہم پر شیطانوں کی طرف سے نازل ہو گئے۔ آئی ایم ایف ہم پر شیطان سے بھی بڑھ کر مسلط ہے۔
عمران خان کو امید تھی حفیظ شیخ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی وزیر خزانہ رہے ہیں۔ تجربہ کار ہیں، ملکی معیشت کو سمجھتے ہیں، ملک کو معاشی بحران سے نکال لیں گے اور مہنگائی پر قابو پا لیں گے لیکن ایسا نہ ہوا۔ مہنگائی بڑھتی گئی، پٹرول مہنگا ہوتا گیا، چینی اور گندم کی قیمتیں بڑھتی گئیں۔ حفیظ شیخ کو ٹماٹر ۱۷ روپے کلو دکھائی دے رہا تھا جبکہ مارکیٹ میں 80روپے کلو ٹماٹر بک رہا تھا۔ حفیظ شیخ اتنی فرعون طبیعت کا انسان تھا جب عمران خان نے کوئی محکمہ حماد اظہر کو دے دیا تو اس نے دمکی دی وہ وزارت چھوڑ دے گا مجبوراً عمران خان کو وہ محکمہ حماد اظہر سے واپس لینا پڑا۔
وہ اپنے آپ کو ڈیفیکٹو وزیراعظم سمجھ بیٹھا تھا۔ فرعونوں کے انداز میں باتیں کرتا تھا۔ تنگ آ کر عمران خان نے اس کو فارغ کیا۔ ملک کے مفاد میں بہت اچھا کیا۔ حماد اظہر کو وزیر خزانہ کا چارج دے دیا گیا صحیح کیا وہ ملک چھوڑ کر دبئی تو نہیں بھاگے گا۔ حفیظ شیخ دبئی سے آیا تھا وہیں چلا جائے گا۔
ندیم بابر کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ عمران خان کے دوست ہیں لیکن عمران خان کسی کا دوست نہیں وہ صرف پاکستان کا دوست ہے۔ ندیم بابر کیونکہ اسی فیلڈ سے تعلق رکھتے ہیں امید تھی کہ وہ عمران حکومت کی مدد کریں گے اور اپنے تجربہ سے اپنے دوست کے لئے نیک نامی پیدا کریں گے جب انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا تھا تب بھی لوگوں نے اعتراض کیا تھا کہ ان پر کرپشن کے کیسز ہیں۔ انہوں نے حکومت کا بہت قرضہ دینا ہے لیکن عمران نے ان سب اعتراض کر مسترد کردیا اوعر ندیم بابر کو ایک موقع دیا کہ وہ اپنے اوپر سے کرپشن کے داغ کو دھو ڈولیں اور ملک کی بہتری کیلئے کا مکریں لیکن ایسا نہ ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ بے ایمان انسان ہر دور میں بیایمان ہی رہتا ہے چاہے اس کو سیدھے راستے پر آنے کے لئے کتنے ہی موقع دئیے جائیں اور یہی ندیم بابر کیساتھ ہوا۔ بجائے ملک کی بہتری کیلئے کام کرتے اس نے اپنی بہتری کیلئے کام کرنا شروع کر دیا۔ مال بنانا شروع کر دیا۔ سیکرٹری پٹرولیم کے ساتھ مل کر پٹرول کی قیمتیں بڑھاتے رہے۔ عوام عمران خان کو گالیں دیتے رہے لیکن ندیم بابر اپنے کام میں لگے رہے۔ ایک ایسا بھی وقت آیا جب پٹرول کی پرائس زیرو ڈالر پر پہنچ گئی تھی۔ امریکہ پٹرول لینے کے لئے کرائے کے بھی پیسے دے رہا تھا لیکن ندیم بابر نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی بلکہ مال بنانے میں لگے رہے۔ دونوں آدمیوں کو ہٹا کر عمران خان نے بہترین فیصلہ کیا ہے۔ خبریں آرہی ہیں کہ انفارمیشن منسٹر شبلی فراز کو پٹرولیم کا محکمہ دیا جارہا ہے وہ بہت بڑے باپ کا بیٹا ہے احمد فراز کی ایک اپنی حیثیت تھی۔ وہ مشرف کے آگے کبھی نہیں جھکا۔ امید ہے شبلی فراز کرپشن کئے بغیر عوام کی بہتری کے لئے کام کریں گے اور عوام کو کم قیمتوں میں پٹرول مہیا کریں گے۔ اس ملک کے لوگ ان سے بہتری کی امید رکھتے ہیں۔ عمران خان نے دونوں لوگوں کو ہٹا کر ایک بہترین فیصلہ کیا ہے۔ ایک کہاوت بہت مشہور ہے ’’دیر آید درست آید‘‘ امید ہے آنے والے دونوں ووزراء عوام کی بہتری کیلئے کام کریں گے۔