بائیڈن اور انخلا کا فیصلہ

208

گرم و سرد چشیدہ جو بائیڈن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ straight shooter ہے نشانے کے وسط پر حملہ کرتا ہے کانگرس سے اس نے 1.9 کھرب ڈالر کا stimulus package بہ آسانی منظور کروا لیا آجکل ہر امریکن کو چودہ سو ڈالر کے چیک کا انتظار ہے اسکے علاوہ اضافی بیروز گاری الائونس بھی ہر ہفتے بیروز گاروں کوملتا رہیگا صدر بائیڈن اپنے ایجنڈے پر عملدرآمد کرتے ہوے ریپبلیکن پارٹی کو خاطر میں نہیں لا رہاوہ انہیں راضی کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے مگر زیادہ انتظار نہیں کرتا اسکی ٹیم نے جو فیصلہ کیا ہوتا ہے اسے عملی جامہ پہنا دیتا ہے افغان جنگ کا خاتمہ البتہ ایک ایسا معاملہ ہے جس پر وہ ابھی تک یکسو نہیں ہوا، اس منظقے میں اضمحلال غالب ہے سیکرٹری آف ڈیفنس لائیڈ آسٹن چند روز پہلے بھارت اور افغانستان کا دورہ ختم کر کے واپس آ چکے ہیں سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن بھی نیٹو اتحادیوں سے فوجوں کے انخلا پر مشاورت کر کے واشنگٹن واپس پہنچ چکے ہیں ماسکو میں امن کانفرنس بھی اختتام پذیر ہو چکی ہے اب یہ کہا جا رہا ہے کہ بائیڈن اپنے وزرا سے بات چیت کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے آجکل واشنگٹن میں افغانستان سے 3500 امریکی فوجیوں کی واپسی پر جو مکالمہ ہو رہا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ یکم مئی کو واپسی ممکن نہیں یوں تو بائیڈن انتظامیہ شروع ہی سے اس معاملے میں گو مگو میں مبتلا ہے مگر ایک انٹیلی جنس رپورٹ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی ہے یہ رپورٹ گذشتہ سال کے اواخر میں پیش کی گئی تھی ایسی رپورٹیں کیونکہ ہر سال مرتب کی جاتی ہیں اسلئے ٹرمپ انتظامیہ نے اسے زیادہ اہمیت نہیں دی تھی مگر اب اس پر سیر حاصل گفتگو ہو رہی ہے میڈیا کے مطابق انٹیلی جنس افسروں نے بائیڈن کی خارجہ پالیسی بنانے والی ٹیم کو بتا یا ہے کہ اگرنیٹو افواج کابل حکومت اور طالبان کے درمیان کسی مفاہمت کے بغیر واپس آ جاتی ہیں تو پھر افغان نیشنل آرمی زیادہ سے زیادہ دو سال تک طالبان کا مقابلہ کر سکے گی جس کے بعد اسے شکست ہو جائیگی یوں افغانستان میں القاعدہ کی واپسی کا دروازہ کھل جائیگا یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ مشرقی ممالک کے لوگ اس خوف اور اضطراب کا اندازہ نہیں کر سکتے جو القاعدہ نے نائن الیون کے بعد سے آج تک مغربی دنیاپر مسلط کیا ہوا ہے مشرقی ممالک کے لئے القاعدہ ایک بھولی بسری حقیقت ہے لیکن نیٹو ممالک کی حکومتیںدو دہائیوں تک افغانستان میں ایک کھرب ڈالر سے زیادہ خرچ کرنے اور ہزاروں فوجی ہلاک کروانے کے بعد کسی بھی صورت ایسی غلطی نہیں کرنا چاہتیں جسکے نتیجے میں القاعدہ افغانستان میں دوبارہ ڈیرے ڈال دے اس صورت میں نیٹو حکومتوں کو سخت شرمندگی اور عوامی احتساب کا سامنا کرنا پڑیگا۔انٹونی بلنکن نے گذشتہ ہفتے یورپ میں اتحادی ممالک سے جو مشاورت کی ہے اس پر امریکی رد عمل کی تفصیلات ابھی تک سامنے نہیں آئیںبلنکن نے سی این این کو دئے گئے انٹر ویو میں کہا ہے کہ یورپی ممالک عجلت میں کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتے انکی رائے بھی یہی ہے کہ یکم مئی تک انخلا نہیں ہو سکتا صدر بائیڈن نے جمعرات کے دن کہا کہ I do not view May 1 as a deadline I must meet لیکن اسکے ساتھ ہی انہوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ I could not picture troops being there next year یعنی میں اگلے سال تک فوج کو وہاں رہتے ہوئے نہیں دیکھ رہابائیڈن انتظامیہ میں ایسے سینئر افسر بھی ہیں جو یہ بات ماننے پر آمادہ نہیں کہ القاعدہ پرانے دم خم کیساتھ میدان جنگ میں دوبارہ واپس آ سکتی ہے لیکن رپورٹ مرتب کرنے والے مصر ہیں کہ القاعدہ مناسب وقت کا انتظار کر رہی ہے اور وہ افغانستان میں یا کسی بھی دوسرے کمزور اسلامی ملک میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہے یہ رپورٹ ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی مگر اس پر ہونے والی گفتگو سے پتہ چلتا ہے کہ بعض ملٹری کمانڈر اس سے پوری طرح متفق ہیں اور انکی رائے میںانخلا اگر جلدی میں کیا جاتا ہے تو اسکے نتیجے میںکابل حکومت ختم ہو جائیگی جس کے بعد طالبان خواتین کے حقوق غصب کر لیں گے اور اسکے ساتھ ہی دنیا بھر کی دہشت گرد تنظیمیں اس ملک میں جمع ہو جائیں گی انکی رائے میں پھر امریکہ کو اسی طرح واپس افغانستان میں جانا پڑیگا کہ جس طرح اسے عراق میں انخلا کے بعد واپس جانا پڑا تھااس خفیہ رپورٹ کے جو حصے ظاہر کئے گئے ہیں انکے مطابق افغان فوج خاصی حد تک امریکہ کے فضائی تعاون پر انحصار کرتی ہے رپورٹ میں پوچھا گیا ہے کہ کیا انخلا کے بعد بھی یہ فضائی سپورٹ مہیا کی جائیگی اس ضمن میں مشورہ دیا گیا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی اڈوں کو اس مقصد کیلئے استعمال کیا جا سکتا ہے
چندروز پہلے افغانستان پر ہونیوالی ایک ورچوئل کانفرنس میںہائوس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین ایڈم سمتھ نے کہا کہ یہ 1990 نہیں ہے جب القاعدہ نے افغانستان میں کیمپ بنائے تھے ‘ طالبان انکی مدد کر رہے تھے اور کسی نے بھی اس پر توجہ نہیں دی تھی ایڈم سمتھ نے فوج کی بر وقت واپسی کے حق میں دلائل دیتے ہوے کہا کہ ’’جب تک ہماری فوج وہاں موجود رہیں گی ہمارے فوجی ہلاک ہوتے رہیں گے‘ ہمارے اربوں ڈالر خرچ ہوتے رہیں گے اور ہمارے دشمن پروپیگنڈا کر کے نئے سپاہی بھرتی کرتے رہیں گے‘‘
افغانستان میں داعش کی موجودگی کے بارے میں امریکی میڈیا کہہ رہا ہے کہ طالبان نے اگر چہ کہ انہیں مکمل شکست نہیں دی مگر وہ انہیں پیچھے دھکیل رہے ہیں طالبان کے بارے میںیہاں اس رائے سے اختلاف نہیں کیا جاتا کہ وہ ایک نظریاتی گروہ ہیں اور انکا نظریہ Afghan centric A ہے یعنی افغانستان پر مرتکز ہے اور وہ القاعدہ اور داعش کی طرح اپنے نظریے کو پوری دنیا پر مسلط نہیں کرنا چاہتے۔
اس قومی مکالمے میں جس بات کا ذکر نہیں ہے وہ یہ ہے کہ امریکہ اگر افغانستان کو خانہ جنگی میں جھونک کر واپس آجاتاہے تو اسے اقوام عالم کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑیگا اقوام متحدہ چارٹرکے چیپٹر سیون کے آرٹیکلز چالیس ‘ اکیالیس اوربیالیس کے تحت امریکہ افغانستان کو حالت امن میں چھوڑ کر نکلنے کا پابند ہے بصورت دیگر اسے بیس برس کی فوج کشی کے بعد بھی امن قائم نہ کر سکنے کے الزام کا سامنا کرنا ہو گاصدر بائیڈ ن کو انخلا کا فیصلہ کرتے وقت ان تمام ذمہ داریوں کو مد نظر رکھنا ہو گااس تناظر میں یکم مئی تک انخلا ممکن نظر نہیں آرہا اس صورت میں افغان سر زمین ایک نئی امریکہ طالبان جنگ کا میدان بن سکتی ہے