پاکستانی مذہبی قیادت بے بصیرت ہے

198

پاکستان کس لیے بنا؟ اسلام کے لیے یا مسلمانوں کے لیے؟ ان دونوں میں فرق ہے۔ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے زندگی تنگ ہو رہی تھی، خصوصاً جب انگریزوں سے آزادی کی جنگ لڑی جارہی تھی۔ اسی وقت مسلمان قیادت کو اندازہ ہو گیا تھا کہ انگریزوں کے چلے جانے کے بعد ہندو انتہا پسند مسلمانوں کا جینا دوبھر کر دیں گے۔چوٹی کی قیادت کا یہی فیصلہ تھا کہ مسلمانوں کا اپنا علیحدہ ملک ہو جہاں وہ اپنی مرضی سے رہ سکیں۔ اپنی عبادتیں اور رسومات اپنی مرضی سے ادا کر سکیں۔ ہندووں اور مسلمانوں کے مذہبی عقائد، طرز معاشرت اور رسومات میں زمین آسمان کا فرق تھا جو ان کی معاشرتی زندگی پر نمایاں نظر آتا تھاا ور دونوں فرقوں کے درمیان وجہ تنازعہ بنتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے بت پرستی ایک ناقابل برداشت عقیدہ تھا اور ہندووں کے لیے مسلمانوں کا گائے ذبح کرنا اتنا ہی نا قابل برداشت عمل تھا۔ مسلمانوں کا مرنا، جینا، شادی ، بیاہ، ختنہ ، کھانا ، پینااورکتنی ہی رسومات ہیں جو ہندووں سے با لکل مختلف تھیں اور ہیں۔ میاں نواز شریف سے معذرت کے ساتھ، پاکستان اور ہندوستان کی سرحد ایک لکیر نہیں بلکہ ایک خلیج ہے جس نے دو متصادم تہذیبوں کو جدا کر کے مسلمانوں کو اطمینان کا سانس لینے کا موقع دیا ہے۔نہ ہمارا معاشرہ ایک ہے اور نہ زبان۔ ہمارا خدا بھی اور ہے اور انکے خدا اور۔ اگر کوئی قدر مشترک ہے تو وہ ہماری نسل ہو سکتی ہے اور وہ بھی کسی حد تک۔
پاکستان ایک ایسا ملک بنا جس میں مسلمانوں کی اکثریت تو ضرور تھی لیکن اس میں اقلیتوں کے لیے بھی پوری گنجائش تھی۔اس لیے مسلمانوں کے ملک میں بھی یہ ضروری نہیں تھا کہ اسلام کو ڈنڈے کے زور سے نافذ کیا جائے گا۔ بلکہ یہ تھا کہ جو مسلمان مذہب پر اپنے عقائد کے مطابق عمل پیرا ہو نا چاہیں، ان کو اس کی پوری آزادی ہو گی۔چونکہ مسلمانوں کے بہت سے فرقے ہیں، اس لیے کسی ایک فرقہ کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ دوسروں کو اپنے عقائد کا پابند کرے۔یہ ایک قدرتی امر تھا کہ پاکستان بننے کے بعد کچھ لوگ جو اپنے آپ کو مذہبی رہنما سمجھتے تھے انہوں اس نئی ریاست کو اپنا یرغمال بنا لیا۔ اورسمجھا کہ مسلمانوں کی ریاست میں ان ہی کا راج ہو گا۔
شریعیہ کے قوانین نافذ ہو نگے۔ پھر ملاؤں کی حکومت میں سب قاضی بن جائیں گے اور عوام ان کے تلوے چاٹیں گے۔ چنانچہ، مولویوں کی جماعتیں بن گئیں۔ ہندوستان والے جو پاکستان کے قیام کے ٖخلاف تھے وہ بھی چپ چپاتے پاکستان آ گئے اور ان کو بھی سہانے خواب نظر آنے لگے۔ پاکستان میں دھڑا دھڑ مدرسے بننے شروع ہو گئے۔ ان لوگوں نے اندازہ لگا لیا کہ بہت سی مسجدیں بنیں گی اور ان میں اماموں کی ضرورت ہوگی۔پھر قاضیوں کی ۔ جو تقسیم ملک سے پہلے چند سو مدرسے تھے، وہ ہزاروں تک پہنچ گئے۔ ہر سال ان مدرسہ کے فارغ التحصیل طلبا بیروزگاروں کی تعداد میں اضافہ کرنے لگے۔ وہ اس لیے کہ مدرسہ میں ان کو کوئی ایسا ہنر نہیں سکھایا جاتا تھا جس کی مسجد کے علاوہ کہیں مانگ ہوتی۔
جب پاکستان بنا تو ہماری بد قسمتی سے، اس کے بانی قائد اعظم محمد علی جناح تیرہ مہینے بھی حیات نہ رہے اور ملک نا اہلوں کے ہاتھوں چھوڑ کر چلے گئے۔ جاگیر دار طبقہ دولتمند تھا اور ان کی اولادیں اعلیٰ تعلیم بھی حاصل کر رہی تھیں یا کر چکی تھیں۔ چنانچہ انہی جاگیر داروں اور ان کی اولادوں نے پاکستان کی سیاست پر قبضہ کیا، پھر آہستہ آہستہ صنعتوں پر، فوج کے اعلیٰ عہدوں پر، اور سول سروس پر۔
یہ پرانا رواج تھا کہ گائوں کی مسجد کے ملا کو باقی کمیوں کے ساتھ ہر فصل پر کچھ حصہ دیا جاتا تھا۔ ان کمیوں میں لوہار، کمہار، نائی، وغیرہ شامل تھے۔اس ناطے سے مُلا ہمیشہ سے جاگیر داروں اور زمینداروں کے زیر احسان رہتے تھے ۔جاگیر داروں نے جب چاہا مذہبی ٹولوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔جب ایوب خان کی حکومت کو آٹھ نو سال ہو گئے اور اس نے جانے کا نام نہیں لیا تو یہ جاگیر دار تنگ آ گئے کہ ایوب خان تو جاتا نہیں اس کی حکومت کا تختہ کیسے الٹا جائے۔ سیاستدانوں نے حکومت کے خلاف کاروائی شروع کر دی۔ خدا کا کرنا کیا ہوا کہ امریکنوں کے اصرار اور امداد کے لالچ میں ایوب خان نے خاندانی منصوبہ بندی کا پروگرام چلانے کی حامی بھر لی۔ اور اس کی مہم چلادی۔ مذہبی رہنماؤں نے بغیر سوچے سمجھے اس مہم کے خلاف احتجاج شروع کر دیئے جس میں جاگیر داروں نے نہ صرف انکو شاباش دی بلکہ ان کو خوب اعانت دی۔ مذہبی رہنماؤں نے طرح طرح کی ، بیہودہ افواہیں پھیلائیں کہ عوام میں نہ صرف فیملی پلاننگ کے خلاف اشتعال پھیلے اس کے ساتھ امریکنوں کے خلاف بھی۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ملاؤں نے کسی افواہ کی تصدیق کیے بغیر سڑکوں پر ایسی مہم چلائی کہ ایوب خان زچ ہو گئے اور اپنی کرسی چھوڑ دی۔ سیاستدانوں اور مذہبی ٹولوں کا گٹھ جوڑ کامیاب رہا۔ اس کا ایک نتیجہ یہ نکلا کہ جب ملاؤں نے ملک میں شریعیہ قانون کی بات کی تو جاگیرداروں نے انہیں تھپکی دے کر بٹھا دیا۔ نہ فوج اور نہ ہی جاگیردار اور نہ ہی پاکستانیوں کی اکثریت اس قانون کے حق میں نظر آتی تھی۔ بقول مشرف پرویز کے، پاکستانی ایک موڈریٹ قسم کے مسلمان ہیں۔شریعیہ قوانین کے نفاذ کا سب سے بڑا چیلنج ایسے ایماندار اور با علم منصفین کا ہونا تھا جو قاضی بننے کا حق ادا کر سکتے۔ جس قسم کے معاشرے سے ہمارا واسطہ تھا اس میں یہ ایک نا ممکن امر دکھائی دیتا تھا اور ہے۔
مذہبی رہنماؤں نے بھانپ لیا کہ ان کی دال نہیں گلے گی۔ اب ملاؤں کی ایک فوج ظفر موج کی طاقت کو کیسے بروئے کار لایا جائے؟ یہ ایک بڑا سوال تھا۔ پاکستان کے عوام جنکی اکثریت یا نا خواندہ تھی یا ابتدائی سکول کی تعلیم یافتہ تھی۔ ان کی نظر میں ملا کی ضرورت یا شادی بیاہ پر پڑتی تھی یا فوتگی اور فاتحہ خوانی پر۔ یہ لوگ نہ تو علوم جدید سے واقف تھے اورنہ حکومت چلانے کے اہل تھے۔ مذہبی رہنمائوں نے سیاسی جماعتیں بنائیں اور انتخابات میں حصہ لیا اور زیادہ تر منہ کی کھائیٍ ۔ اگر کہیں حکومت بنانے میں کامیاب بھی ہوئے تو اسے برقرار نہیں رکھ سکے۔ عوام میں رہا سہا اعتماد بھی جاتا رہا۔سیدھی سی بات ہے کہ حکومت چلانے کے لیے جن ہنروں کی ضرورت پڑتی ہے وہ علوم جدید سے ملتے ہیں۔ پاکستان میں انگریزی بلد ہونا لازمی ہے۔ پھر اس کے بعد سائنس اور حساب پر کم از کم بنیادی تعلیم ہونا ضروری ہے۔اس کے بعد علم اقتصادیات ، تاریخ، جغرافیہ، وغیرہ کی آ گہی۔ یہ وہ سب علوم ہیں جن سے علماء کی اکثریت عاری ہوتی ہے۔لہذٰا سیاست میں اور حکمرانی میں کامیابی حاصل کرنا مشکل ہوتا ہے۔اگر حکمران بن بھی جائیں تو افسر شاہی کے ہاتھوں بے بس ہو جاتے ہیں۔عوام بھی یہ جانتے ہیں اور ان کو اس مقام پر نہیں لاتے جہاں وہ حکمرانی کے خواب دیکھیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کی ایوب خان کی حکومت گرنے کے بعد اور کسی حد تک ۱۹۴۷ میں کشمیر میں جہادمیں کامیابی کے بعد، ملائوں کو اپنی عددی طاقت کا اندازہ ہو گیا تھا۔ لیکن اس بات کا بھی کہ وہ صرف چند مذہبی مسائل پر عوام کی حمایت حاصل کر سکتے تھے جو ان کو آسانی سے سمجھ آ سکتے تھے۔چنانچہ، انہوں نے ختم نبوت کا نعرہ بنایا اور اسے پوری طرح استعمال کیا۔ احمدیوں کوجو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے اور کہتے ہیں، مظاہرے کر کے اور دنگہ فساد کروا کے ، کافر قرار دلوا دیا۔ اس کے بعد طرح طرح کے معمولی یا اہم مذہبی اختلافات کو وجہ نزاع بنا کر ہنگامے کروا کر اپنی طاقت برقرار رکھتے رہے۔ لیکن ایسے مسائل کم ہی ملتے تھے جن پر اس ناخواندہ اور جاہل قوم کو جب دل کرے پیچھے لگا لیں۔اس کو کہہ سکتے ہیں دکھتی رگ۔بڑی سوچ بچار کے بعد ، ان حضرات نے ایک اور شوشہ چھوڑا اور ناموس رسول کے نام پر فتنہ کھڑا کیا اور لبیک یا رسول اللہ کے نام پر ایک نئی جماعت بنا لی۔ اس کا محرک پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل کو کہا جا سکتا ہے جو اس کے ایک شدت پسند گارڈ بنام قادری نے کیا تھا، صرف اس لئے کہ اس نے ایک ناموس رسالت کی ملزمہ آسیہ بی بی سے ملاقات کی تھی اور ناموس رسالت کے قانون پر نظر ثانی کا عندیہ دیا تھا۔ اس جماعت نے دنوں میںپاکستانیوں کواپنے پیچھے لگا لیا اورگورنر کے قاتل کو ہیرو بنا دیا۔یہ بہت قوت حاصل کرنے کی مثال تھی۔ قادری کو عدالت نے قتل کا جرم ثابت ہونے پر موت کی سزا دی تو ہزار ہا لوگوں نے اس کے جنازے میں شرکت کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملا پاور میں بڑی جان ہے اگر مسئلہ حرمت دین کا ہو یا ناموس رسالت کا ہو۔ جب ڈنمارک میں آنحضرت کے خاکے شائع ہوئے تو بھی سارے ملک میںپاکستانیوں نے احتجاج کیا۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ مذہبی مسائل کی فہرست بہت مختصر ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے تو مدرسے کے طالب علموں کی بھرتی کر کے باقاعدہ ایک بڑا جتھہ بنا لیا، جیسے خاکساروں کا ہوتا تھا۔ یہ، خلاف قانون، ڈنڈا بردار فوج ان کے ایک اشارے پر جہاں ضرورت ہو پہنچ سکتی ہے اور انتظامیہ کے لیے خاصا درد سر بن سکتی ہے۔
پاکستان کو بنے اب تہتر سال ہونے کو ہیں۔ اس دوران میں ملا پاور نے ، ہندوستان کی جمعیت علماء ہند کی طرح ،لاکھوں پاکستانی بچوں کو تعلیم جدید سے بے بہرہ رکھا ۔ اس طرح وہ معاشرے کے بڑے دھارے کا رکن نہیں بن سکے۔ ان کو نہ ہی سول سروس میں جگہ ملی، نہ ہی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل بن سکے۔ وہ زیادہ سے زیادہ مساجد کے امام، چوکیدار، مزدور، اورمعمولی دوکاندار بن سکے۔یہ مذہبی رہنماوٗں کی ضد تھی کہ مدرسہ کے طالب علم صرف قرآن پڑھیں گے اور وہ بھی بغیر سمجھے۔اس لیے پاکستان میں کبھی بھی اسلامی نظام نہیں آئے گاجو علم اور انصاف کے تقاضوں پر پورا اترے گا۔
موجودہ حکومت سارے ملک میں ایک بنیادی تعلیمی نظام لانا چاہتی ہے، لیکن مفتی منیب اور فضل الرحمٰن جیسے مذہبی قائدین اور مدرسوں کی انجمنوں کے سرخیل، مدرسوں کے بچوں کو انگریزی، حساب اور سائنس نہ پڑھانے پر ضد کیے بیٹھے ہیں ۔ اس کی غالباً ایک ہی وجہ سمجھ میں آتی ہے کہ سعودی عرب سے ، وہابی مکتب فکر سے منسلک،انہیں جو مدرسے چلانے کے لیے امداد آتی ہے، اس کی شرائط میں ایسی ہدایات شامل ہیں کہ وہ اس امداد کو صرف قرآنی اور دینی تعلیم کے لیے استعمال کریں گے۔ اگر حکومت پاکستان انہیں مجبور کرے گی تو اسے اس امداد کا بدل دینا پڑے گا جو حکومت نہیں دے سکتی۔ اس لیے پرنالہ وہیں گرے گا۔
پاکستان میں دیکھا جا رہا ہے کہ عورتیں میں مکمل حجاب کا رحجان بڑھ رہا ہے، اورداڑھی بڑھانے والے نو جوانوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے۔ اگرچہ مساجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ اسی تناسب سے بڑھتا نظر نہیں آ رہا۔ اور نہ ہی ملک میں جرائم میں کمی ہو رہی ہے۔ اب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حجاب اور داڑھی دونوں فیشن کی مد میں آتے ہوں اور وقتی ہوں؟ اگر معاشرے میں خباثتیں ، عورتوں اور بچوں پر جرائم، چوری، ڈاکہ زنی، لوٹ مار، اغوا، اور سرکاری املاک پر قبضہ ، رشوت ، وغیرہ کم ہوتے نظر آتے تو کہا جا سکتا تھا کہ شاید پاکستانی اسلام پسند ہو رہے ہیں۔لیکن ایسا نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ جب طالبان نے پاکستان میں زور پکڑا اور اپنی طرف سے شریعیہ کو نافذ کرنے کی کوشش میں ہاتھ کاٹنے، عورتوں کا سنگسار، وڈیو سٹوروں کی تباہی، اور لڑکیوں کے سکولوں کا جلانا شروع کیا، توجو لوگ حکومتوں کی نااہلی، کرپشن اور انصاف نہ ملنے سے نا امیدی میں مبتلا تھے، انہوں کچھ امید نظر آئی۔انہوںنے طالبان سے متاثر ہو کر یا خوفزدہ ہو کر، پردہ اور داڑھی کو اسلامی شعار سمجھ کر اپنانا شروع کر دیا ہو۔ ؟ لیکن کسی صورت بھی یہ رحجان اللہ سے اپنے گناہوں سے معافی مانگ کر راہ مستقیم پر چلنے کا پیمان نہیں معلوم ہوتا۔
مذہبی رہنماؤں نے اس ملک پر ظلم کیا۔ لاکھوں نو جوانوں کو دنیاوی تعلیم سے بے بہرہ رکھا۔ ملک میں خاندانی منصوبہ بندی کی مخالفت کر کے آبادی کو اتنا بڑھنے دیا کہ آج لوگوں کے پاس نوکریاں نہیں۔ مساجد میں بجائے لوگوں کو قرآن کی وہ تعلیم دیتے جس سے معاشرہ بہتر ہوتا، ایسی تعلیم دی جسے کہانیاں سنا کر سلا نا کہہ سکتے ہیں۔ ان علماء نے زندگی کے حقائق سے آنکھیں بن رکھیں۔بچوں کے لیے مناسب خوراک نہیں، سر پر چھت نہیں، اور مہنگائی کا کوئی ٹھکانہ نہیں۔سرکاری سہولتوں جیسے سکول، ہسپتال، شفا خانے، سڑکیں، کوڑا کرکٹ اٹھانے کے وسائل اور حفظ عامہ کی کمی، وسائل آمد و رفت بڑھانے، اور بالغوں میں نا خواندگی ختم کرنے کا کوئی پروگرام نہیں۔لوگ ٹیکس نہیں دیتے۔ حکومت سے ہر قسم کی امداد مانگتے ہیں۔ حکومت قرضے اٹھا اٹھا کر کب تک یہ بوجھ اٹھائے گی؟