’’میں بہت بُری آدمی ہوں‘‘

288

میں ایک معروف گھرانے میں پیدا ہوا تھا اس لئے اس کا احساس مجھے بہت جلدی ہو گیا تھا، جہاں بھی جاتے لوگ آٹوگراف لینے، تصویریں کھنچوانے امی ابو کے پاس آتے، وہ لوگ جنہیں ہم جانتے بھی نہیں تھے وہ بہت خوش ہو کر امی ابو سے ملتے اور امی ابو بھی ان سے بے حد عزت اور محبت سے ملتے۔
امی یعنی نیلو فر عباسی کے ریڈیو، ٹی وی کے ڈرامے دیکھ کر اور ابو قمر علی عباسی کے کالمز اور کتابوں کو پڑھ کر ایک بڑی تعداد ان کے fansکی تھی اور وہ جس طرح امی ابو سے ملتے تھے پسندیدگی کا اظہار کرتے مجھے احساس ہو گیا تھا کہ امی اور ابو مشہور اور پسندیدہ شخصیات ہیں۔
ایک چیز جو میں بچپن سے لے کر آج تک، پاکستان سے لے کر امریکہ تک دیکھتا آیا ہوں کہ امی سے ملنے والا ہر شخص ان سے ’’شہزوری‘‘ کا ذکر ضرور کرتا ہے۔ شہزوری پاکستان ٹیلی ویژن کا ایک miniserialتھا جو 1972میں ٹیلی کاسٹ ہوا تھا،برسہا برس گزر جانے کے باوجود لوگ اس کا ذکرایسے کرتے جیسے ابھی کل ہی کی بات ہو۔ آج یو ٹیوب آجانے کے بعد سے کوئی بھی ٹی وی پروگرام فلم کوئی بھی گانا ہم صرف ایک Clickکر کے بآسانی دیکھ سکتے ہیں لیکن 2004ء سے پہلے یعنی یوٹیوب سے پہلے کوئی بھی چیز Repeatپر دیکھنااتنا آسان نہیں تھا۔ ویڈیو خریدو اور VCRپر دیکھو۔ ستر ،اسی یا پھر نوے کی دہائی میں جو چیز بھی لوگ ٹی وی پر دیکھ لیتے تھے تو وہ یا تو ان کو ہمیشہ کیلئے یاد رہ جاتی تھی یا فوراً بھول جاتے اور اگر کسی کے دماغ میں کوئی ڈرامہ ایسا گھر کر جائے کہ کئی دہائیاں گزرنے کے باوجود بھی اسے بھلایا نہ جائے تو اس میں یقینا کوئی ایسا کمال تو ہو گا ہی اور یقینا ’’شہزوری‘‘ میں ایسا کچھ خاص تھا۔
’’شہزوری‘‘نے پاکستان کی آج کی لڑکی کوجنم دیا، ایک ماڈرن پاکستانی لڑکی کو، بہت سے لوگوں کو یہ غلط فہمی ہوتی ہے کہ ویسٹرن کپڑے پہن کر یا پھر انگریزی زبان بول کر کوئی ’’ماڈرن‘‘ ہو جاتا ہے نہیں، ماڈرن انسان اپنی سوچ سے ہوتا ہے چاہے کوئی برقع اوڑھتا ہو یا پھر جینز پہنتا ہو، اس کا ماڈرن ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ شہزوری میں ’’تارا‘‘ کا کردار نیلو فر علیم (عباسی) نے ادا کیا تھا۔ تارا کی دور کی رشتے دار ’’مالی خالہ ‘‘ تھیں یہ کردار عرش منیر صاحبہ نے کیا تھا، مالی خالہ تارا کو بتاتی ہیں کہ کس طرح ان کی سسرال والوں نے ان پر زیادتیاں کیں اور انہیں طلاق دلوا کر ہی دم لیااس پر تارا بپھر جاتی ہے اور کہتی ہے کہ آپ نے اپنے حق کیلئے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟؟ خالہ کہتی ہیں ایسا صرف قصے کہانیوں میں ہوتا ہے۔ اصل زندگی میں نہیں مگر تارا اس بات کو نہیں مانتی، جس پر خالہ یہ کہہ کر بات ختم کرتی ہیں کہ ’’ہم بھی دیکھیں گے جب اونٹ پہاڑ تلے آئے گا‘‘۔ آگے چل کر ڈامے میں ٹھیک اسی طرح ہوتا ہے اور امیر گھرانے میں شادی کے بعد تارا کے سسرال والے اس کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے اور اسے گھر چھوڑ کر جانے کا کہتے ہیں مگر وہ جانتی ہے کہ میں صحیح ہوں اور حق پر ہوں اس لیے ہار نہیں مانوں گی اور لڑوں گی اپنے حقوق کیلئے۔ پاکستان میں پہلی بار کسی ڈرامے میں یہ دکھایا گیا کہ لڑکیاں کمزور نہیں ہوتیں اور نہ صرف چولہے ہانڈی تک محدود ہوتی ہیں ان میں عقل سمجھ ہوتی ہے اور وہ فیصلے کر سکتی ہیں۔ ڈرامے ہیرو کے گرد گھومتے تھے، لڑکی کو کمزور بلکہ بیچارہ سا دکھایا جاتا تھا مگر شہزوری نے یہ ٹرینڈ بدل دیا۔ وہ ٹرینڈ جو آج تک جاری ہے۔
شہزوری کا ایک جملہ ’’میںبہت بری آدمی ہوں‘‘ بے حد مشہور ہوا اور یہ بعد میں بننے والی فلموں میں بھی استعمال ہوا جیسے گولڈن جوبلی فلم ’’انمول‘‘ میں ہیروئن (میڈیم شبنم) اسی انداز سے کہتی نظر آئیں کہ ’’میں بہت بری آدمی ہوں‘‘ لیکن اس بری آدمی کے ڈائیلاگ کے پیچھے یعنی کہ اس ڈرامے کو لکھنے والی رائٹر ایک بہت ہی سیدھی سادھی اور مہذب انسان تھیں ’’حسینہ معین‘‘ ان کا یہ پہلا ٹی وی سیریل تھا، نیلو فر عباسی یعنی اس وقت کی نیلو فر علیم ایک Seasonedنام تھا اور شکیل فلموں کے ہیرو باقی کاسٹ میں بھی بڑے بڑے آرٹسٹ تھے ان سب کے ساتھ ایک ایسی رائٹر جو ٹی وی کیلئے پہلی بار سیریل لکھ رہی ہوں ان پر بہت زیادہ پریشر ہو گا لیکن حسینہ معین کی تحریر میں کوئی ایسا پریشر محسوس نہیں ہوا وہ ہمیشہ سے مضبوط تھیں اور ہمیشہ رہیں۔ شہزوری پی ٹی وی کے انتہائی ذہین پروڈیوسرز عشرت انصاری اور محسن علی کی پروڈکشن تھی۔
’’لوگ کیا کہیں گے‘‘ یہ خیال ہم کو کئی کام کرنے سے روک دیتا ہے لیکن حسینہ معین کو یہ ڈر نہیں تھا، اگر وہ ایسا سوچتیں تو شاید شہزوری کو اس طرح نہیں لکھ پاتیں۔ جب انہوںنے لکھا اور وہ ایک ایسا ڈرامہ ہر گز نہ بن پاتا کہ جسے ناظرین نے اتنے برس گزرنے کے بعد بھی فراموش نہیں کر سکتے۔
حسینہ معین اب ہمارے بیچ نہیں ہیں لیکن ان کے ڈرامے ، ان کی تحریریں انہیں ہمیشہ زندہ رکھیں گے۔ شہزوری، ان کہی، تنہائیاں، کرن کہانی، پرچھائیاں، دھوپ کنارے، انکل عرفی، زیر زبر پیش اور ان گنت دوسرے ڈراموں نے انہیں لازوال بنا دیا۔
اپنے پیروں پر چلتے پھرتے دنیا سے چلے جانا بھی ایک نعمت ہے اور اللہ تعالیٰ نے حسینہ معین کو اس نعمت سے نوازا۔ وہ تین چار دن پہلے اسلام آباد سے واپس آئی تھیں اور اگلی صبح ان کو لاہور کی فلائیٹ لینی تھی لیکن ان کی فلائیٹ تو کہیں اور کی لکھ دی گئی تھی۔ مصروف اتنا زیادہ مصروف رہتے رہتے 26مارچ کو علی الصبح تمام مصروفتیں ختم ہو گئیں، حسینہ معین کی سانسیں رک گئیں۔ کچھ لوگوں کی صرف زندگی لمبی ہوتی ہے لیکن اس زندگی کا سفر بہت چھوٹا۔
اللہ تعالیٰ نے حسینہ معین کو ایک بہت اچھی زندگی دی اور اس زندگی کا سفر ایسا جس سے ایک نہیں کئی نسلوں کی تربیت ہوئی۔