زرداری ایک۔۔پرانی بیماری

198

بلاشبہ پی پی پی کے کارکنوں اور قیادتوں نے مختلف ادوار میں ظلم و ستم برداشت کئے ہیں جن پر جنرل ضیاء کا جبر طاری رہا۔ جنہوں نے اپنے قائد ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کوناقابل برداشت سمجھا ۔بیگم بھٹو نے ایم آر ڈی بنائی جس نے گیارہ سال تک جنرل ضیاء کو ناکوں چنے چبوا کر رکھے مگر پی پی پی کو سب سے پہلا دھچکا اس وقت لگا جب 1989میں بے نظیر بھٹو کو اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کمپرومائز کر کے اسٹیبلشمنٹ کے دیرینہ ملازم غلام اسحاق کو صدر منتخب کرنا پڑا۔ جنرل کاکڑ کی سازشوں میں ملوث ہونا پڑا بعدازاں محترمہ بے نظیر بھٹو کو احساس ہوا کہ اسٹیبلشمنٹ انہیں استعمال کر کے ٹشو پیپر کی طرح پھینک دیتی ہے تو انہوں نے ماضی کے اسٹیبلشمنٹ کے حامی اور اپنے مخالف نواز شریف سے میثاق جمہوریت طے کیا کہ اب ہم ایک دوسرے کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں استعمال نہیں ہوں گے۔ ملک میں حقیقی جمہوریت بحال کریں گے۔ آئینی اداروں کو مضبوط اور آزاد کرائیں گے وغیرہ وغیرہ مگر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے لمبے ہاتھ ہیں جنہوں نے سب سے پہلے بے نظیر بھٹو کو قتل کر کے پارٹی کی باگ ڈور زرداری کے حوالے کی جو عرصہ دراز سے اسٹیبلشمنٹ کے حق میں تھے کہ حکومت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر کی جائے جس کے بعد زرداری نے پے در پے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ایسے ایسے کام کئے کہ وہ پی پی جس کا لاہور گڑھ تھا وہاں پی پی پی کا امیدوار چند ہزار ووٹ لے پاتا ہے۔ وہ لیاری کراچی جو پی پی پی کا گھر تھا وہاں بھٹو کا نواسہ اور بینظیر بھٹو کا صاحبزادہ بلاول بھٹو ہارگیا۔ وہ لاڑکانہ جو آبائی جائے مقام ہے وہاں بھی بلاول بڑی مشکل سے جیت پایا جبکہ نیچے صوبائی اسمبلی کی سیٹ ہار گیاجس میں زرداری پرانی بیماری ثابت ہوئے۔ پاکستان کی تاریخ میں ایم آر ڈی کے بعد دوسرا بڑا اتحاد پی ڈی ایم اسٹیبلشمنٹ سے پاک بنا تھا جس کو زرداری نے بدحال اور بے حال کر دیا ہے۔ پہلے انہوں نے جمہوریت کے نام پر اپنے ضیائی گھوڑے یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے سینیٹر منتخب کرایا جس کے لئے 169قومی اسمبلی کے ممبران نے ووٹ دے کر کامیاب کرایا جس میں 86ممبران صرف مسلم لیگ (ن) کے تھے پھر یوسف رضا گیلانی کو پی ڈی ایم کے معاملے کے مطابق سینٹ کا چیئرمین کاالیکشن لڑایا جس میں پی پی پی کے ساتھ سینیٹروں نے گیلانی کی تصویر پر مہرلگا کر الیکشن کو متنازعہ بنا دیا جس کو عدالتوں میں چیلنج کیا گیا کہ ہم موجودہ مگر منتخب چیئرمین صادق سنجرانی کو تسلیم نہیں کرتے جن کے ووٹ 47ہیں اور گیلانی کے 49ووٹ ہیں لہٰذا چیئرمین یوسف رضا گیلانی ہوں گے مگر پھر اچانک رات کے اندھیروں میں زرداری نے ایک لومڑی والی چال چل کر پورے ملک کو ششدر کر دیا کہ جب یوسف رضا گیلانی بلوچستان میں جنرلوں کی بنائی باپ نامی پارٹی کے سینیٹروں کے ہاتھوں اپوزیشن کا لیڈر نامزد کر کے اپوزیشن کو مطلع کئے بغیر اپوزیشن کے لیڈر بن گئے وہ چیئرمین سنجرانی جس کو عدالت میں چیلنج کیا گیا اس کے سامنے درخواست دہندہ بن کر پیش ہو کر یکطرفہ اپوزیشن کے لیڈر بن گئے جس میں باقی اپوزیشن شامل نہیں ہے جس کے بعد میڈیا نے سینیٹ کے چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر کو سرکاری عہدیدار قرار دیا ہے چونکہ زرداری کی حسب معمول عادات اور روایات کے مطابق وعدہ اور معاہدہ کوئی صحیفہ نہیں ہے جس کی خلاف ورزی نہ کی جائے جبکہ وعدے کے بارے میں اسلام میں حکم ہے کہ وعدہ کرو تو اُسے پورا کرو۔ اس طرح جدید دنیا میں وعدوں سے انحراف زوال کا باعث بنتا ہے جس کا شاید پی پی پی کی قیادت کو پتہ چل چکا ہے کہ ان کی پارٹی گھوڑے سے خرگوش کی شکل اختیار کر چکی ہے جس میں اب سندھ تک محصور ہے جو شاید آئندہ صرف اور صرف اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر چل پائے گی وہ اہل سندھ جو جنرلوں کے ہاتھوں بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کے قتل پر شدید غم و غصے میں مبتلا چلے آرہے تھے وہ آج شرمندہ نظر آرہے ہیں کہ وہ جنگ جو ان کے لیڈر بھٹو اور بینظیر بھٹو نے شروع کی تھی جس کی وجہ سے پورا خاندان شہید ہوا اس پارٹی پر آج اسٹیبلشمنٹ کا قبضہ ہو چکا ہے جو فتح کی بجائے شکست میں تبدیل ہو چکی ہے۔ بہرحال سینیٹ کے چیئرمین صادق سنجرانی کو 2018ء میں زرداری نے بنایا تھا جس میں پی پی پی اور پی ٹی آئی کے سینیٹروں نے ووٹ دئیے تھے۔ آج پھر وہ ان کے سات ووٹ قصداً غلطی سے دوبارہ وہ چیئرمین بنے ہیں جس کو ٹوپی ڈرامے کے لئے عدالت میں چیلنج کیا گیا۔ جس کے بعد اپنا اپوزیشن لیڈر بنوا کر ثابت کیا ہے کہ پی پی پی اور پی ٹی آئی کا خفیہ اتحاد ہے جس سے پی ڈی ایم کی قیادتوں کو بے وقوف بنایا گیا ۔پی ڈی ایم کو فوری پی پی سے نجات پا کر پاکستان کی دوسری جمہوری اور ترقی پسند قتوں کے اتحاد میں شامل کرنا ہو گا تاکہ جمہوریت کی بحالی کی جنگ جاری رہے۔