مریم …قبر میں…سکون …کرو کیا مریم کو کوویڈ ہونے کے بعد یہ ہیش ٹیگ کیا جانا چاہیے؟

231

جب گزشتہ ہفتے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا کہ انہیں کوویڈ 19ہو گیا ہے اور انہوں نے اپنے آپ کو قرنطینہ کر لیا ہے تو دنیا بھر سے مختلف سربراہان کی جانب سے نیک تمنائوں اور جلد از جلد صحت یابی کے پیغامات وصول ہونے لگے، یہاں تک کہ پاکستان کے دشمن نمبر ون نریندر مودی تک نے بھی نیک خواہشات کا پیغام بھجوایا لیکن افسوس ناک اور شرمناک بات یہ ہے کہ اس انسانی المیے کے موقع پر بھی نواز لیگ کے میڈیا سیل نے گھٹیا پن کا مظاہرہ کرنے سے گریز نہیں کیا اور پرائم منسٹر کے ایک دئیے گئے انٹرویو کا جملہ کہ ’’سکون تو قبر میں ہی ملتا ہے‘‘ نکال کر ایک ہیش ٹیگ شروع کیا۔’’# نیازی…قبر میں…سکون…کرو‘‘۔ اس ہیش ٹیگ کو سب سے زیادہ فالو کیا نواز لیگ کے سیاستدانوں نے جس میں سرفہرست مسلم لیگ نواز کی نائب صدر مریم نواز ہیں۔ کہتے ہیں کہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے جو جس کیلئے گڑھا کھودتا ہے وہ خود بھی اسی میں گر جاتا ہے۔ عمران خان کے کورونا سے متاثر ہونے پر خوشیاں منانے والی نواز لیگ اور ان کی موت کی دعا گو مریم نواز پر بھی چند ہی روز بعد کورونا کا اٹیک ہو گیا اور وہ آخری خبریں آنے تک منظر سے غائب ہیں۔ یہ لوگ شاید یہ بھول گئے کہ کوئی بھی وباء یہ نہیں دیکھتی کہ کون امیر ہے یا غریب، کون اقتدار میں ہے یا حزب اختلاف میں یا کون مرد ہے یا عورت۔ بابا بلھے شاہ نے کیا خوب کہا ہے کہ دشمن مرے تے خوشی نہ کرئیے۔ شادیانے بجانے والوں کے خود اپنے گھروں میں یہ وباء پہنچ گئی۔ اب ہمارا سوال یہ ہے کہ کیا مریم نواز کے کورونا سے متاثر ہونے کے بعد پی ٹی آئی والوں کو بھی یہ ہیش ٹیگ شروع کرنا چاہیے ’’#مریم…قبرمیں…سکون…کرو‘‘ آخر کار تحریک انصاف کا بھی میڈیا سیل ہے!۔ ابھی تک تو ایسا نہیں ہوا ہے اور نہ ہی ہو تو اچھا ہے کیونکہ قافلے پر تو کتے بھونکتے ہی ہیں مگر قافلہ سالار ان کتوں کا جواب نہیں دیتے بلکہ اپنا سفر جاری رکھتے ہیں۔
پاکستان میں کورونا وباء کی صورت حال مسلسل بگڑ رہی ہے۔ صدر پاکستان ڈاکٹر عارف علوی، وزیر دفاع پرویز خٹک اور سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ بھی کورونا متاثر میں شامل ہو گئے ہیں۔ ملک بھر میں مختلف علاقوں میں سمارٹ لاک ڈائون ہورہے ہیں۔ پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن نے حکومت سے کہا ہے کہ کم از کم دو ہفتوں کیلئے ملک میں مکمل لاک ڈائون کر دیا جائے تاکہ کورونا کی یہ تیسری لہر محدود ہو جائے کیونکہ ہسپتالوں میں بستر ختم ہورہے ہیں اور ایمرجنسی کی صورت حال پیدا ہوتی جارہی ہے۔ گو کہ عمران خان اب کوویڈ سے مکمل طور پر صحت یاب ہو چکے ہیں (اپوزیشن کی امیدوں اور بددعائوں پر پانی پھر گیا ہے) جو کہ اہالیان وطن کیلئے ایک خوش آئند اور حوصلہ افزا بات ہے مگر اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں لیا جانا چاہیے کہ ہم سب لوگ اس وباء کو ہلکے انداز میں لیں۔احتیاط بہرطور لازم ہے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک کے قدامت پسند ترین طبقے نے بھی اس وباء کی سنگینی کو سنجیدگی سے لیا ہے اور رائے ونڈ میں ہونے والا سالانہ تبلیغی اجتماع کو منسوخ کر دیا گیا ہے جس میں لاکھوں افراد اندرون ملک اور بیرون ملک سے شرکت کرتے ہیں۔ پاکستان نے اب تلک اس وباء کابڑی حد تک سمارٹ طریقے سے سامنا کیا ہے اور امید ہے کہ اس آخری لہر سے بھی صحیح طریقے سے نمٹا جائے گا۔ بس سمجھیں کہ ہاتھی نکل گیا ہے، دم باقی ہے۔ انشاء اللہ ہم قابو پا لیں گے وباء پر۔