بیک ڈور ڈپلومیسی نے کام کر دکھایا – کنٹرول لائن پر اچانک خاموشی ہو گئی !!!

248

کنٹرول لائن پر پچھلے کئی برسوں سے ہندوستانی فوج کی طرف سے بلا اشتعال سرحد سے متصل شہری آبادی پر آئے دن فائرنگ ہوتی رہتی تھی جس سے اکثر بے گناہ پاکستانی شہری جاں بحق ہو جاتے تھے۔ بلکہ پچھلے چند مہینوں سے تو روزانہ کنٹرول لائن پر فائرنگ کے نتیجے میں پاکستانی فوجیوں کے ساتھ اکثر شہری بھی جاں بحق ہوتے، ہمارا کام بس یہ رہتا کہ بھارتی سفارت کار کو وزارت خارجہ میں بلا کر احتجاجی مراسلہ پکڑا دیتے، جس کا بھارت کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مقبوضہ کشمیر میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی مظالم، جس میں بھارتی فوجوں کا گھروں میں گھس کر نہتے نوجوانوں کو ہلاک کرنا، بے گناہوں کو گرفتار کرنا ان پر جھوٹے مقدمات قائم کرنا روز کا معمول ہے، پاکستان نے بین الاقوامی برادری کی توجہ بارہا بھارت کے اس ظلم کی طرف مبذول کرانے کی کوشش کی لیکن کسی طرف سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیںآیا۔
اب ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ کنٹرول لائن پر اچانک خاموشی ہو گئی ہے کسی سرحدی دیہات پر بھارتی فوجیوں کی فائرنگ کی کوئی کارروائی سامنے نہیں آئی، آئے دن جو ہمارے فوجی اور بے گناہ شہری فائرنگ کی زد میں آکر مرتے رہتے تھے وہ سلسلہ بھی بند ہوگیا ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں ایسی کیا تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں جس میں پاکستان کو اپنی سرحدوں پر یہ ریلیف مل رہا ہے۔
منگل 23مارچ کے اخبارات میں اس حوالے سے جو خبریں شائع ہوئی ہیں ان کی تفصیل کچھ اس طرح ہے کہ پاک بھارت تعلقات معمول پر لانے کے لیے متحدہ عرب امارات کی درپردہ کوششیں جاری، جنگ بندی بھی اسی کا نتیجہ ہے دونوں ملک شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت انسداد دہشت گردی کی مشقوں میں بھی حصہ لیں گے امریکا بھی افغانستان میں دونوں ملکوں کی محاذ آرائی ختم کرانے کے لیے کوشاں ہے، امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امن کے وسیع روڈ میپ کاآغاز ہو گیا ہے، کشمیر کا حتمی فیصلہ، تجارت کی بحالی اور سفیروں کا تقرر ایجنڈے میں شامل ہے دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات کا بھی امکان ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ سیز فائر معاہدے کے پیچھے متحدہ عرب امارات کا ہاتھ ہے، جنگ بندی کا یہ معاہدہ دونوں ممالک کے مابین پائدار امن کے وسیع روڈ میپ کاآغاز ہے، اس کے بعد کے مراحل میں دونوں ممالک میں سفیروں کا تقرر تجارت کی بحالی اور کشمیر کا حتمی فیصلہ ہو گا۔ ماضی کے مقابلے میں یہ کوششیں اس لیے مستحکم ہیں کہ جو بائیڈن افغانستان میں قیام امن کی کوششیں کررہے ہیں۔ پچھلے دنوں اسی سلسلے میں متحدہ عرب امارات کے وزیر خاجہ شیخ عبداللہ بن زید نے بھارتی ہم منصب ایس جے شنکر سے جو بات چیت کی اس میں وسیع تر روڈ میپ کے لیے جنگ بندی کے بعد اب مشکل مرحلے شروع ہوں گے جن میں سفیروں کا تقرر اور تجارت کی بحالی شامل ہے۔
پچھلے دنوں ماسکو میں افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا کے حوالے سے ایک کانفرنس ہوئی جس میں امریکا، روس، پاکستان، ایران، طالبان اور ترکی شامل تھے اس میں بھارت نہیں تھا۔ اس کانفرنس میں گلبدین حکمت یار، ڈاکٹر رشید دوستم، زلمے خلیل زاد اور طالبان کے نمائندے شریک تھے، افغانستان میں امن وامان اور بیرونی افواج کے انخلا کے حوالے ماسکو میں جو اجلاس ہوا اس میں کئی باتیں خاص تھیں مثلاً جب دوستم نے طالبان کے ایک رہنما سے ہاتھ ملانا چاہا تو طالبان کے اس رہنما نے دوستم کا ہاتھ یہ کہہ کر جھٹک دیا کہ میں قاتلوں سے ہاتھ نہیں ملاتا دوسری بات یہ ہوئی کہ اس اجلاس میں رشید دوستم فوجی وردی پہن کرآئے تھے اجلاس کے تمام ہی شرکاء نے اس پر اعتراض کیا تو دوستم نے لباس تبدیل کرکے سادے اور شہری لباس میں اجلاس میں شرکت کی۔ روس جو ایک زمانے میں طالبان کا حریف تھا اب وہ بہت حد تک طالبان کے موقف کا حامی ہے۔ اب اس کا اگلا اجلاس ترکی میں ہو گا جس میں بھارت کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
یہ تو پوری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان میں امن وامان کے قیام کے حوالے سے اور فوجوں کے انخلا کے حوالے سے بھی امریکا کو پاکستان کی ضرورت پڑے گی گو کہ اب بھی پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کا افغان طالبان سے ہلکا پھلکا رابطہ تو ہے لیکن پہلے جیسی بات نہیں ہے لیکن امریکا اس زمینی حقیقت کے باوجود یہ سمجھتا ہے کہ اب بھی پاکستان طالبان پر اپنے اثر و رسوخ استعمال کر سکتا ہے۔ امریکا کو پاکستان کے تزویراتی (اسٹرٹیجک) مسائل کا اندازہ ہے کہ جب تک بھارت کے ساتھ پاکستان کے تعلقات نارمل سطح پر نہیں آئیں گے پاکستان دلجمعیٔ کے ساتھ افغان مذاکرات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ عالمی سیاست میں کیا ہورہا ہے، دو مسلم ممالک سعودی عرب اور امارات پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و امان کے قیام کے لیے مذاکرات میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہے ہیں یہ بات ظاہر ہے کہ کسی بڑی طاقت کے کہنے پر ہی ایسا کچھ ہو رہا ہے ورنہ جب بھی کسی کی ثالثی کی بات آتی تو بھارت سب سے پہلے انکار کرتا رہا ہے اب بھارت کیوں تیار ہو گیا ہے اسے بڑی طاقتوں کی طرف کیا یقین دہانیاں کرائی گئیں ہیں۔
بین الاقوامی سیاست کی پیچیدگیوں کواآسانی سے سمجھنا بہت مشکل ہے جیسے جیسے سفارتی سرگرمیاں آگے بڑھتی رہیں گی مستقبل کا نقشہ اور اس کے خد وخال سامنے آتے رہیں گے اس وقت تو کشمیر کی صورتحال یہ ہے کہ 23مارچ والے دن بھی یہ خبریں آئی ہیں کہ چار کشمیری نوجوانوں کو جعلی پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ یہ جو بات آئی ہے کہ کشمیر کا حتمی حل ہوگا تو حتمی حل کیا ہوگا؟ پاکستان کے لیے مثبت پیش رفت تو یہ ہوگی کہ بھارت پہلے اگست 2019 کی آئینی ترمیم واپس لے، ہماری سمجھ میں تو یہ نکتہ آرہا ہے کہ کشمیر کے حتمی حل کے حوالے سے اصل بات کو چھپایا جارہا ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے اقتدار سنبھالنے کے بعد مودی سے فون پر بات کی تھی لیکن پاکستان جس کی انہیں افغان معاملے میں ضرورت پڑے گی اس کے وزیر اعظم کو ابھی تک کوئی فون یا رابطہ نہیں کیا یوم پاکستان کے حوالے سے امریکا کے صدر بائیڈن کا پاکستان کے صدر عارف علوی کے نام تہنیتی پیغام آیا ہے۔ اسی طرح شاید پہلی بار بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی یوم پاکستان پر پاکستان کے عوام کو تہنیتی پیغام بھیجا ہے۔ دراصل یہ جو مختلف دانشوروں کے تجزیے سامنے آتے رہے ہیں کہ امریکا بھارت کو اس علاقے میں تھانیدار بنانا چاہتا ہے چین کے مقابلے پر تیار کررہا ہے کسی حد تک سمجھ میں آتی ہے۔ ایک اور بات سامنے رہنا چاہیے کہ سلامتی کونسل کی نشست کے لیے بھارت کو کہا گیا ہو کہ وہ اپنے پڑوسی ممالک سے اپنے تعلقات کو بہتر بنائے ابھی حال ہی میں بھارتی وزیر اعظم مودی نے بنگلا دیش کی حسینہ واجد کے ساتھ ایک پل کا افتتاح کیا ہے، پاکستان کے ساتھ بھی بھارتی رویوں میں یہ تبدیلیاں حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی و عارضی نظر آتی ہیں لیکن ہمیں امید اچھی رکھنا چاہیے اور مستقبل کے اندیشوں کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے۔