اسرائیلی وزیراعظم پر ‘طاقت کے ناجائز استعمال’ کا الزام

224

اسرائیلی پراسیکیوٹرز نے وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو پر ‘کرنسی’ کی صورت میں فوائد دینے کا الزام عائد کیا ہے۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم اپنے خلاف کرپشن کے مقدمے کا ایسے وقت میں سامنا کررہے ہیں کہ جب صدر نے حکومت تشکیل دینے کے لیے بات چیت کا آغاز کردیا ہے۔

بینجمن نیتن یاہو کو عدالت میں ابتدائی دلائل کے لیے ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا جس پر وہ سیاہ رنگ کا ماسک پہنے یروشلم کی ضلعی عدالت پہنچے۔

سماعت میں پروسیکیوشن نے ان پر سیاسی مفادات کو بڑھاوا دینے کے لیے دفتر کے غلط استعمال کا الزام عائد کیا۔

کیس میں اسرائیلی وزیراعظم پر نامناسب تحائف وصول کرنے اور مثبت کوریج کے بدلے ریگولیٹری فائدے دینے کے لیے میڈیا اداروں سے تجارت کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

تاہم انہوں نے رشوت، بھروسہ توڑنے اور فراڈ کے الزامات سے انکار کیا۔

کیس 4000 کی پیروی کرنے والے پراسیکیوٹر نے عدالت میں کہا کہ ‘بینجمن نیتن یاہو اور مدعا علیہان کے مابین تعلقات کرنسی بن گئے تھے، ایسی چیز جس کی تجارت کی جاسکے’۔

انہوں نے مزید کہا کہ ‘یہ کرنسی کسی سرکاری ملازم کے فیصلے کو تبدیل کرسکتی تھی’۔

خیال رہے کہ یہ کسی بھی اسرائیلی وزیراعظم کا عہدے پر موجودگی کے دوران پہلا اس قسم کا ٹرائل ہے، سماعت میں پہلے گواہ کے بیان سے قبل ہی وہ عدالت سے چلے گئے تھے۔

بینجمن نیتن یاہو نے اپنے آپ کو سیاسی طور پر نشانہ بنائے جانے کا شکار قرار دیا۔

پیر کو ہونے والی مقدمے کی سماعت ایک زیادہ گہری ، شناختی مرحلے میں داخل ہوئی تاہم فیصلہ آنے میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔