امریکہ میں پولیس کو ‘ڈی فنڈ’ کرنے کا مطالبہ زور پکڑ گیا

448

امریکہ میں ایک سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی پولیس کی کارروائی میں ہلاکت کے واقعے نے بڑے پیمانے پر امریکیوں کی نظر میں پولیس کی کارکردگی پر سوال اٹھا دیے ہیں۔

ساتھ ہی، ان لوگوں کا معاملہ بھی سامنے آگیا ہے جو آج تک پولیس کے ہاتھوں جان سے گئے اور جوں جوں ایسے واقعات اور پولیس کے رویے کے بارے میں احتجاج بڑھتا جا رہا ہے، وہیں یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ پولیس کو ڈی فنڈ کر دیا جائے۔ اس کے معنی کیا ہو سکتے ہیں اس کے بارے میں امریکی میڈیا میں بہت کچھ لکھا جا رہا ہے۔

یو ایس اے ٹو ڈے کا کہنا ہے کہ اس کے معنی ہیں پولیس کے بجٹ کو کم کر دیا جائے یا پولیس کو دی جانے والی رقم ایسے فلاحی اداروں کو دی جائے جو معاشرے میں بہتری لا سکتے ہوں۔

امریکی ریاست اوریگن کے شہر یوجین میں کوہوٹس نامی ایک تنظیم ایسی ہے جو اکثر ایسے لوگوں کی مدد کرتی ہے جو کسی معاشرتی مسئلے کا شکار ہوتے ہیں، مگر پولیس کو نہیں بلانا چاہتے۔ اس تنظیم کی عہدیدار ایبنی مورگن نے امریکی ٹیلی وژن نیٹ ورک، سی این این کو بتایا کہ لوگ انہیں اپنی مشکل میں مدد کے لئے بلاتے ہیں اور انہیں یہ علم ہوتا ہے کہ ہم مسلح نہیں ہیں تو وہ بھی زیادہ مزاحمت نہیں کرتے۔ معاملہ کسی خاندانی جھگڑے کا ہو یا نفسیاتی کشمکش کا، وہ اس میں خاندانوں کی مدد کرتے ہیں، لیکن اگر صورتِ حال زیادہ خراب ہو تو پولیس کو بھی بلا لیا جاتا ہے۔

پولیس کو ڈی فنڈ کرنے کا مطالبہ کرنے والوں کا یہی کہنا ہے کہ ان کی مدد کا کوئی ادارہ ایسا ہونا چاہئے جو تعصب سے پاک اور طاقت استعمال کرنے کی بجائے انسانی سطح پر مسائل کا حل نکال سکے۔ مگر پولیس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے نظریے سے زیادہ اتفاق نہیں کیا جا رہا۔

یہی وجہ ہے کہ سیکرامنٹو، کیلیفورنیا پولیس کے سربراہ ڈینیل ہان کہتے ہیں کہ کوئی اور معاشرتی ادارہ پولیس کا متبادل نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا ہے کہ کوئی حادثہ ہو، کوئی ایمرجنسی ہو لوگ پولیس ہی کو بلاتے ہیں۔

یہی کہنا ہے شکاگو کی ول کاؤنٹی کے علاقے بولنگ بروکس کے پہلے مسلمان پاکستانی امریکی پولیس کمشنر طلعت رشید کا۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس امریکہ میں شہریوں کی جس طرح مدد کرتی ہے اور اس کی کثیر الجہت خدمات کا تقاضا ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ حمایت کی جائے نہ کہ اس کا بجٹ ہی کم کر دیا جائے یا یہ محکمہ ہی ختم کر دیا جائے۔

شکاگو یونیورسٹی کے پروفیسر اور ریاست الی نوئے کی سپریم کورٹ میں اٹارنی ریجسٹریشن اینڈ ڈسپلنری کمشن کے کمشنر، ڈاکٹر ظفر بخاری کہتے ہیں کہ امریکہ میں پولیس میں بھرتی ہونے کیلئے کسی ڈگری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ عام طور پر ہائی سکول مکمل کرنے کے بعد ہی نوجوان پولیس کی ملازمت اختیار کر لیتے ہیں اور افسر کہلاتے ہیں۔ ساتھ ہی انہیں بہت وسیع اختیارات بھی حاصل ہو جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پولیس میں ملازمت اور پولیس افسروں کی تربیت کے طریقہ کار پر نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔