عالمی ادارہ صحت سمیت 14 ممالک نے کورونا تفتیشی رپورٹ کو ناکافی قرار دیدیا

375

جنیوا: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ادھانوم گیبریئسس اور 14 ممالک نے کورونا کی جائے پیدائش سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید تفتیش کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس ادھانوم نے اپنے ہی ادارے کی کورونا کی جائے پیدائش سے متعلق تحقیقی رپورٹ کے ایک نکتے پر مزید ریسرچ کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او نے رپورٹ سے متعلق کہا کہ کورونا وائرس کی لیبارٹری میں پیدائش سے متعلق مزید تفتیش ہونی چاہیئے۔ اس حوالے سے کی گئی تحقیق ناکافی ہے۔

دوسری جانب امریکا، برطانیہ، جاپان اور اسرائیل سمیت 14 ممالک نے بھی عالمی ادارہ صحت کی کورونا کی جائے پیدائش سے متعلق رپورٹ کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مزید تفتیش پر زور دیا۔

ڈبلیو ایچ او نے 14 عالمی ماہرین پر مشتمل ایک ٹیم کو کورونا کی جائے پیدائش کا سراغ لگانے کے لیے جنوری کو چین کے شہر ووہان بھیجا تھا جس نے ایک ماہ کے قیام کے دوران لیبارٹریز، اسپتالوں اور مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور شواہد نوٹ کیے تھے۔

ماہرین نے 9 فروری کو پریس کانفرنس میں رپورٹ کے مکمل ہونے کا اعلان کرتے ہوئے جلد رپورٹ کے اجرا کا عندیہ دیا تھا تاہم رپورٹ چینی مداخلت کے باعث ایک ماہ کی تاخیر سے دو روز قبل جاری کی گئی۔

رپورٹ میں کورونا کے لیبارٹری میں تیار کرنے کے امکان کو مسترد کردیا تھا جب کہ چمگادڑ سے کورونا وائرس کے کسی دوسرے جانور کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہونے کے امکان کو ظاہر کیا گیا تھا۔