کورونا وائرس کا آغاز کیسے ہوا؟ اب تک کی مستند تحقیق سامنے آگئی

380

دنیا بھر میں 13 کروڑ سے زائد انسانوں کو متاثر اور 29 لاکھ تک انسانوں کی زندگیاں نگلنے والی وبا کورونا سے متعلق عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی سربراہی میں کی جانے والی اب تک کی مستند تحقیق کو بھی نامکمل قرار دے دیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے رواں برس کے آغاز میں مختلف ممالک کے ماہرین صحت پر مشتمل ایک ٹیم چین بھیجی تھی تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ کورونا کا وائرس کہاں سے اور کیوں پھیلا؟ کیا مذکورہ وائرس لیبارٹری میں تیار ہوا؟

مختلف امور کے ماہرین کی جانب سے فروری میں مکمل کی گئی تحقیقات کو اب رپورٹ کی صورت میں شائع کردیا گیا۔

عالمی ادارہ صحت نے 120 صفحات مشتمل مذکورہ رپورٹ کو 29 مارچ کو شائع کیا، جس میں اگرچہ کورونا وائرس کے ممکنہ پھیلاؤ سے متعلق مفصل مگر مختصر صورت میں جوابات دیے گئے ہیں۔

تاہم اس باوجود مذکورہ تحقیق پر خود عالمی ادارہ صحت سمیت دیگر 14 ممالک نے بھی اعتراضات اٹھاکر اسے نامکمل قرار دیا ہے اور معاملے پر مزید تفتیش پر زور دیا ہے۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق عالمی ادارہ صحت کی جانب سے شائع کی گئی رپورٹ میں اس بات کو مکمل طرح واضح نہیں کیا گیا کہ اصل میں کورونا وائرس کہاں سے شروع ہوا؟

تاہم رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس بات کی قوی امکانات ہیں کہ کورونا کا وائرس چمگادڑوں سے شروع ہوا جو دوسرے جانوروں تک پہنچنے کے بعد انسانوں میں منتقل ہوا۔

اسی طرح رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس بات کے امکانات بھی موجود ہیں کہ ممکنہ طور پر کورونا کا وائرس چین کے شہر ووہان کی مچھلی مارکیٹ سے انسانوں میں پھیلا، تاہم اس کے امکان کم ہی ہیں۔