بھارت کورونا کی ساڑھے 7 ہزار اموات کے ساتھ دنیا کا بدترین خطہ بن گیا، برطانوی اخبار

223

غیرملکی اخبار “فنانشل ٹائمز” کے ہاتھوں مودی سرکار کی بدترین سبکی ہوئی اور بھارت کی کورونا وبا کے خلاف حکمت عملی کو بری طرح ناکام قرار دے دیا۔

1.4 ارب آبادی والا ملک بھارت کورونا کی 7 ہزار 500 اموات کے ساتھ دنیا کا بدترین خطہ بن گیا، بھارتی وزیراعظم مودی نے 500 کورونا کیسز پر 24 مارچ کو دنیا کا ظالمانہ لاک ڈاؤن کیا اور فتح کا نعرہ لگایا، لیکن پھر تباہ ہوتی معیشت کے باعث مئی کے آخر میں لاک ڈاؤن ختم کیا، جس کے بعد مرض کا پھیلاؤ مزید بڑھ گیا اور اسپتال بھر گئے۔

مودی کا بھارت خطرناک حد تک وائرس کی طوالت برداشت کرنے کو تیار نہیں اور لاک ڈاؤن حکمت عملی بری طرح ناکام ہو گئی، کاروبار بند، ٹرانسپورٹ معطل اور مزدور بے روزگار ہو گئے۔ لاکھوں افراد کچی آبادی، صنعتی علاقوں میں بنا معاش پھنسے رہے جب کہ بیشتر اپنے اپنے دیہاتوں کو پیدل گئے۔

رپورٹ  کے مطابق بھارت میں لاک ڈاؤن سے سنگین معاشی بحران پیدا ہوا، 14 کروڑ افراد بے روزگار ہوئے، جبکہ کورونا کیسز 9 ہزار 439 یومیہ ہو چکے ہیں۔ مودی کی پالیسیوں کے باعث ہندوستان 40 سال میں پہلی مرتبہ شدید کساد بازاری سے گزر رہا ہے۔

اخبار کا انتباہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جولائی کے آخر تک بھی بھارت میں کورونا کیسز عروج پر نہیں پہنچیں گے، لاک ڈاؤن کے بعد بھارتی معیشت مخدوش ہوگئی جب کہ کورونا کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، شہروں سے دیہی علاقوں کو جانے والے مزدور کورونا پھیلاؤ کا ذریعہ بن گئے۔

فنانشل ٹائمز نے کورونا کے بعد ٹڈی دل کو ہندوستانی معیشت کے لیے دوسرا بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹڈی دل کے غول بھارتی معیشت اور غذائی پیداوار کے لیے دوسرا بڑا خطرہ ہیں، لاک ڈاؤن کے مضر اثرات اور معاشی حقائق نے مودی کو سب کھولنے پر مجبور کر دیا۔ بھارت کا شعبہ صحت بغیر مالی وسائل شدید دباؤ میں ہے۔