کورونا کے باعث 100 سال پرانی ایوی ایشن انڈسٹری زوال کا شکار

231

سو سال سے قائم ایوی ایشن انڈسٹری  عالمی وبا کورونا وائرس کے باعث زوال کا شکار ہو چکی ہے اور عالمی سطح پر ایوی ایشن انڈسٹری کو تقریبا 60 فیصد خسارے کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مجموعی آمدنی میں 4 سے 5 ارب ڈالرز کی کمی واقع ہوگئی۔

کورونا وائرس کی وبا نے جہاں دنیا بھر میں مختلف انڈسٹریز کو نقصان پہنچایا وہیں ایوی ایشن انڈسٹری بھی زبوں حالی کا شکار ہو گئی، سیاحت اور کاروباری سرگرمیاں معطل ہو کر رہ گئیں۔ 

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا سوا سال کے دوران 8 ہزار طیارے گراؤنڈ ہو چکے ہیں جبکہ انڈسٹری سے وابستہ 90 ہزار ملازمین نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

مختلف کمپنیوں کے پاس 60 نئے جہاز تیار ہیں لیکن ان کا کوئی خریدار نہیں جبکہ 18 اے تھری ففٹی طیاروں کے آرڈر بھی منسوخ ہو چکے ہیں۔

اقوام متحدہ کے تحت کام کرنے والی عالمی تنظیم انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے مطابق کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کی کوششوں میں دنیا کی 70 ایئر لائنز نے چین کے لیے پروازیں معطل کر رکھی ہیں جبکہ 50 فیصد فضائی کمپنیوں نے پروازیں محدود کر دیں ان پروازوں سے 2 کروڑ مسافر متاثر ہوئے۔