پلاٹ

353

پاکستان میں ذہین انسان کم پیدا ہوئے اور 1947 کے بعد تو ایسا کال پڑا کہ اس کو قحط الرجال ہی کہیں، وہ انگریزی نظامِ تعلیم کی وجہ سے بڑے بنے وہ نسل معدوم ہوتی جارہی ہے، ان میں اکثر ادب میں کام کر گئے، بڑے ادیب اور بڑے شاعر، سیاست میں چند نام ہیں جو انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، اور وہ جو ملک کے ساتھ مخلص تھے وہ تو دو چار ہی ہوں گے، اگر یہ سوال ہو کہ گزشتہ تہتر سال میں کس سیاست دان نے پاکستان کی خدمت کی تو شائد شرمندگی ہو، پوری سیاسی تاریخ میں خاک ہی اڑتی نظر آتی ہے، 1958سے قبل جو سیاست میں رہے ان کے نام بھی بھلائے جا چکے ہیں، اور ان کو یاد بھی رکھا جاتا تو کیوں؟ کوئی کام تو تھا نہیں جس پہ ناز کیا جائے، وہ جو ڈاکٹر عبدالسلام تھے یا ڈاکٹر منیر وہ بھی انگریزی نظام تعلیم نے دئیے تھے، ان کی قدر بھی نہ ہو سکی، مذہب کو یہ اختیار دے گیا کہ وہ ان بڑے سائنس دانوں RECOGNITIONکا کام انجام دے سو فرقے کی بنیاد پر یہ فتویٰ سامنے آیا کہ یہ دونوں قادیانی تھے سو ان کی خدمات کا اعتراف کیا معنی، نوبل پرائز ملتا رہے، ملتا رہے ہم تو فرقہ شناخت کرتے ہیں، انہی کو اختیار کہ وہ کسی بھی سیاست دان کو کافر قرار دے دیں۔ قائداعظم بھی ان کے فتوئوں کی زد میں آگئے، تلاشِ بسیار کے بعد زندگی کے کسی خانے میں ذہین انسان نہیں ملتے، مذہب کو سائنس پسند نہ تھی سو سائنس کی تعلیم سے معذرت کر لی گئی، کہا گیا کہ ہمیں قرآن کافی ہے،ادب کا پودا بھی سوکھتا چلا گیا، ادب کو آزادی درکار ہوتی ہے مذہب نے یہ آزادی بھی دینے سے انکار کر دیا، خوف اتنا تھا کہ تخلیق کاروں نے اپنے ضمیر اور دل کی آواز بھی سننا چھوڑ دی اور اب قحط الرجال ہے۔
قوموں کی زندگی میں سیاست کو بڑی اہمیت حاصل ہے، سیاست ملک کے مستقبل کے لئے اور عوام کی معاشی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کرتی ہے،اس کام کے لئے ایک دلیر منصوبہ ساز لیڈر کی ضرورت ہوتی ہے، ایسا شخص پاکستان کی سیاست میں پیدا نہیں ہوا، ایوب خان کے زمانے میں صنعتی ترقی تو ضرور ہوئی اور مغرب کی خوشنودی بھی ایوب خان کو حاصل تھی مگر ایوب خان کے بہت سے اقدام تھے جن کو دینی حلقوں نے پسند نہیں کیا، میرے خیال میں بی ڈی سسٹم نے نچلے طبقے کو موقع دیا کہ وہاں سے لیڈر شپ ابھر سکے اور یہ سلسلہ بھی شروع بھی ہو گیا تھا، ہر چند کہ بی ڈی سسٹم میں خرابیاں بھی تھیں مگر ان کو درست کیا جاسکتا تھا، اسی طرح عائلی قوانین اور خاندانی منصوبہ بندی اچھے اقدامات تھے، مگر مولوی ٹولے نے پاکستان کو تاریکیوں میں دھکیلنے کے لئے جتن کرنا شروع کئے اور آخر کار ایوب کے جانے کے بعد یہ سارے منصوبے بھی دم توڑ گئے، ایسے ہی منصوبوں میں سستی روٹی کے پلانٹ بھی لگائے گئے اور اس کے پیچھے سوچ یہ تھی پاکستان کی عورت کو صنعتوں میں کام کرنے کی طرف راغب کیا جا سکے اور وہ چولہا چکی سے آہستہ آہستہ دور ہو جائیں اور معاشی دوڑ میں اپنا کردار ادا کر سکیں، دینی اکابرین نے سوچا کہ ان اقدامات سے عوام الناس ان کے ہاتھوں سے نکل جائیں گے اور مذہب دھڑام سے گر جائیگا، سماج بدل جائیگا، ایوب خان کے خلاف فوج کے RANK AND FILESمیں بھی MURMURشروع ہو چکی تھی سارے جنرلز یحییٰ خان کے زیر اثر آچکے تھے، کچھ تجزیہ کاروں نے لکھا کہ بیرونی طاقتیں پاکستان کی مقتدرہ نوکر شاہی اور سیاسی ایلیٹ سے رابطوں میں آگئی تھیں اور ایوب کے خلاف سازشیں شروع ہو چکی تھیں، ایوب خان کوئی لیڈر نہ تھا اس سے بہت سی غلطیاں ہوئیں اگر لیڈر ہوتا اور قوم کو منظم کرلیتا تو شائد پاکستان خطے کی ایک بڑی قوت بن کر ابھرتا، ایوب کی ناکامی کا سبب عوام کی جہالت اور صوبائیت بھی تھی، اگر پاکستانی ایک قوم ہوتے تو یہ کام آسان ہو جاتا، لکھا گیا ہے اور سچ لکھا گیا ہے کہ پاکستانی قوم ہیں ہی نہیں یہ قومیتوں کا مجموعہ ہے، یہ کبھی ایک ہو ہی نہیں سکتے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ چاروں صوبوں کے جاگیردار ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرنے کے لئے ایک ہو جاتے ہیں مگر صوبوں کے عوام کو ایک نہیں ہونے دیتے، ایسی کچھ باتیں ابوالکلام آزاد بھی لکھ گئے ہیں۔
ایوب کے بعد پاکستان کا ہر حکمران بیرونی طاقتوں کا نمائندہ تھا، بھٹو بھی اس میں شامل ہے۔ بھٹو کو پھانسی اس لئے بھی دی گئی تاکہ پاکستان کے تمام نام نہاد لیڈروں تک یہ پیغام پہنچے کہ عالمی طاقتوں کی ناراضگی مول لی تو انجام یہی ہو گا، اس کے بعد سب کو سانپ سونگھ گیا، اب کوئی بھی استعماریت کے خلاف بات نہیں کرتا، ایک تھے نوابزادہ نصراللہ خان ان کے بارے میں لوگ کہتے ہیں کہ وہ بیرونی ایجنسیوں کے آلہ ء کار بن چکے تھے، ان کو بابائے جمہوریت بھی کہا جاتا ہے، کئی کتابیں ہیں جن میں لکھا گیا کہ پاکستان میں چلنے والی تمام تحریکیں فارن اسپانسرڈ تھیں، ہیلری کلنٹن نے ایک بار کہا تھا کہ ہم پاکستان کی جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، ان سے کوئی پوچھے کہ پاکستان میں کون سی جمہوریت ہے، بہت مشاقی اور مہارت سے پاکستان کے عوام سے الیکشن چھین لیا گیا ہے الیکشن کی COSTاتنی زیادہ ہے کہ عام شہری خواہ وہ مڈل کلاس کا ہو الیکشن لڑنے کا خواب دیکھ نہیں سکتا، پاکستان میں یہ کھیل جاگیرداروں کا ہے اور اس وقت پاکستان کے 1274خاندان پاکستان کے وسائل پر قابض ہیں، عجیب بات ہے کہ شوگر مافیا ایوب کو لے ڈوبی تھی، وہی شوگر مافیا ہر دور میں ایک خاص وقت متحرک ہو جاتی ہے، مافیاز کے تمام طاقتور ڈان اس وقت عمران کے دائیں بائیں بیٹھے ہیں، ایوب خان کے بعد ہر حکومت فوج کی مرضی سے آتی ہے، عمران کے خلاف پی ڈی ایم کی تحریک کامیاب ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ فوج عمران کے ساتھ ہے اور عمران فوج کی مرضی کے خلاف سانس بھی نہیں لے سکتے، پی ڈی ایم بھی جاگیرداروں اور مولوی مافیا کے اقتدار کے لئے نکلی ہے اس کا عوام کی بہبود سے کوئی تعلق نہیں، عمران کے کان میں پھونکا گیا ہے کہ لنگر خانوں اور پناہ گاہوں کے قیام سے خانقاہی نظام لے آئو، اس کو نہیں معلوم کہ ملک کو لنگر خانے نہیں کارخانے چاہئیں’’کوئی بھوکا نہیں سوئے گا‘‘ بھی ایک بڑا ڈھونگ ہی ہے، کیا اس کا مطلب یہ لیا جا سکتا ہے کہ ملک میں وہی ہو گا جو فوج چاہے گی، فوج اگر پاکستان پر ایسے ہی حکمران مسلط کرتی رہے گی تو پاکستان عشروں تک اس خباثت سے نکل نہیں پائے گا، پاکستان میں زندگی عذاب ہو چکی ہے اور اس کی ذمہ داری فوجی جنرلز کو لینی چاہیے، یہ سارے بحران ایک پلاٹ کے تحت لائے جاتے ہیں اور میڈیا اصل مسائل کی نشان دہی کرنے کی بجائے فوجی ترانوں پر رقص کرتا ہے، میڈیا پر کبھی نہیں کہا گیا کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ جاگیر داری نظام ہے اور میڈیا یہ کہنے کی ہمت بھی نہیں رکھتا کیونکہ جاگیردار، فوج اور مولوی کا مضبوط اتحاد ہے اس کو کون چیلنج کریگا؟