پی ڈی ایم کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے، بلاول اور مریم میں لفظی جنگ!

304

یہ بات تو پہلے روز سے عیاں تھی کہ پی ڈی ایم مختلف خیال جماعتوں کا اجتماع ہے جس کو مولانا نے اپنے ذاتی مفاد اور عمران دشمنی میں اکٹھا کر دیا تھا۔ مولانا کو اس سے3 فائدے ہوئے پہلا تو انہوں نے ن لیگ اور ملک دشمن قوتوں سے مال پکڑا، اس میں بیرونی ملک بھی شامل تھے، دوسرا ان کی سیاسی حیثیت زیرو ہو گئی تھی اس کو انہوں نے زندہ کیا، تیسرا وہ دفاعی اداروں کو پیغام دینا چاہ رہے تھے کہ آئندہ سیٹ اپ میں ان کو بھی ضرور شامل رکھا جائے۔ اس لئے کہ مولانا کا کام مال کمانا اور عوام کو بیوقوف بنانا ہے۔ ان کو اسلام سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کو اسلام آباد سے دلچسپی ہے۔ مفتی محمود مرحوم جس قدر مال اور اقتدار سے دور بھاگتے تھے یہ بالکل اپنے باپ کے الٹ ہیں ان کو مال اور اقتدار سے اتنی ہی دلچسپی ہے ہر دور میں مشرف سے لے کر یہ اقتدار کا حصہ رہے۔ عمران خان نے ان کے نیچے سے قالین کھینچ لی ہے۔ اب وہ بلبلارہے ہیں۔ اقتدار میں حصہ حاصل کرنے کے لئے لیکن ان کے سامنے ایک چالاک ترین اور کرپٹ ترین سیاستدان موجود ہے جس کا نام ہے آصف علی زرداری اس نے آخر وقت میں مولانا کو الٹا بائونسر مار دیا جس سے مریم اور نواز شریف بھی چارو خانے چت ہو گئے مولانا کی تو کوئی حیثیت نہیں آصف علی زرداری کے سامنے، زرداری نے آخری لمحات میں پی ڈی ایم کا جنازہ نکال دیا اس نے فوج کو پیغام دے دیا کہ آپ ہم پر بھروسہ کر سکتے ہیں۔ نواز شریف کو اس نے فوج اور عوام کے سامنے ذلیل کر کے رکھ دیا۔ اس نے آج تک فوج یا اس کے سربراہ کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا۔ نواز شریف بکواس کرتا رہا، کرتا رہا لیکن فوج نے خاموشی اختیار کی۔ فوج نے آخر میں زرداری کے ہاتھوں ن لیگ اور نواز شریف کو گندا کر دیا اب نواز شریف اور مریم فوج کو گالیاں دیں گے یا آصف علی زرداری کو۔ فوج نے بھی اپنے پتے خاموشی اور برداشت سے کھیلے اور آخر میں نواز شریف کو اس کی اوقات یاد دلا دی۔ اب نواز شریف کی بولتی بند ہو جائے گی۔ اس پوری پی ڈی ایم کی تحریک میں عمران خان نے بہت صبر اور برداشت کا مظاہرہ کیا۔ نہ تو اس نے کسی بات کا دبائو لیا اور نہ کوئی حکومتی کمزوری دکھائی۔ جب وزیر خزانہ حفیظ شیخ کو شکست ہوئی تو فوج کے منع کرنے کے باوجود اس نے اعتماد کا ووٹ لیا اور پہلے سے زیادہ ۲ ووٹ لئے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عمران کی حکمت عملی پہلے سے زیادہ کامیاب رہی اور جو لوگ کہہ رہے تھے کہ عمران کی سپورٹ ختم ہو گئی ہے اس کے 35سے زیادہ ممبر ناراض نہیں اور وہ لوگ عمران خان کو سپورٹ نہیں کریں گے لیکن سب نمبروں نے عمران خان کو ووٹ دیا بلکہ اپوزیشن کا مال کھا کر بھی عمران خان کے خلاف ووٹ نہیںدیا اور نہ ووٹنگ کے وقت غیر حاضر رہے اس سے عمران حکومت کی مضبوطی کا پتہ چلتا ہے۔
تازہ ترین سیاسی صورت حال میں بلاول نے مریم اور ن لیگ پر حملے تیز کر دئیے ہیں، بلاول کا تازہ ترین بیان کہ لاہور کا ایک خاندان ’’سلیکٹڈ‘‘ ہے ن لیگ اور مریم کی ایسی کی تیسی کر دی ہے۔ اس بیان نے پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ مولانا فضل الرحمن لاکھ کوشش کر رہے تھے کہ اختلافات آپس میں ہی رہیں اور پریس کے سامنے نہ جائیں لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پہلے تو قمر زمان کائرہ نے پریس کانفرنس کر کے بتا دیا کہ استعفے دینے کی کوئی بات نہیں تھی۔ ہم لانگ مارچ کے لئے تیار تھے ہم نے ہوٹل وغیرہ بھی بک کرالئے تھے لیکن مولانا نے لانگ مارچ ملتوی کر دیا اس میں ہماری طرف سے کوئی غلطی یا کوشش نہیں تھی۔ پھر بلاول نے سلیکٹڈ کا بیان دے کر راستوں کو مکمل بند کر دیا۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پی ڈی ایم ماضی کی کہانی بن گیا ہے۔ اب اگر پی ڈی ایم قائم رہتی ہے تو اس میں صرف ن لیگ اور مولانا ہی رہ جائیں گے باقی جماعتوں کی حیثیت ختم ہو جائے گی۔ ساتھ ساتھ پی ڈی ایم کو آصف علی زرداری اور بلاول کے سخت جملوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آصف علی زرداری نے اپنا کھیل شروع کر دیا ہے۔ بلاول نے سینیٹ میں لیڈر آف اپوزیشن کیلئے جماعت اسلامی کے امیر سے بھی ملاقات کی ہے سینیٹ میں جماعت اسلامی کی ایک سیٹ ہے اور اگر جماعت اسلامی پیپلز پارٹی کے ساتھ مل جاتی ہے تو ن لیگ کو لیڈر آف اپوزیشن کی سیٹ نہیں ملے گی۔
آئندہ آنے والا وقت عمران خان کے لئے سکون اور اطمینان کا وقت ہو گا۔ اب اگر پیپلز پارٹی دوبارہ پی ڈی ایم سے مل جائے تب بھی وہ عمران خان کا کچھ نہیں بگاڑ پائے گی۔ پی ڈی ایم اب دفن ہو گئی اس کا جنازہ نکل گیا ہے۔ اب عمران خان کو مہنگائی پر توجہ دینی چاہیے۔ عوام کو ان کی حکومت سے جو امیدیں تھیں اب ان کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے۔ عمران اب سکون سے ملک کی ترقی اور عوام کی بھلائی پر توجہ دے سکتے ہیں۔