۔۔۔۔ گھر کا نہ گھاٹ کا!

282

نہیں، میں آپ کو سوال کا جواب دینے کی زحمت نہیں دونگا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ آپ سب اس کہاوت سے خوب واقف ہیں جو کہتی ہے، دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا!
ہماری پاکستانی سیاست کے ایک کہنہ بزرگ ہیں جن کی عمر کے ساتھ ساتھ ان کی رسی بھی بہت دراز ہے۔ کچھ سادہ لوح تو یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان، جنہیں ان کے چاہنے والے ملا فضلو اور اسی قماش کے دیگر القاب سے زیادہ پکارتے ہیں، پاکستانی سیاست کے ایسے شناور ہیں کہ ان کی تہہ تک پہنچنا ہرکس و ناکس کے بس کی بات نہیں ہے!
آسان لفظوں میں یوں کہنا چاہئے کہ فضلو میاں سیاست کے داؤپیچ جاننے والے گھاگ سمجھے جاتے ہیں۔ ان کے معترف اور مداح یہ کہتے ہیں کہ مولانا کے بغیر سیاست کی گاڑی چلتی ہی نہیں لیکن ان کے ناقدین، جن کی تعداد مداحوں سے کہیں زیادہ ہے، کا یہ کہنا ہے کہ سیاست میں شر کے دس حصوں میں سے کم از کم نو ان کے کھاتے میں ڈالنے چاہئیں۔!
مولانا کی اس وقت کوئی منتخب حیثیت نہیں ہے۔ بالغ سیاسی معاشروں میں یہ ہوتا ہے کہ جو سیاستداں عوامی تائید سے محروم ہوجائے وہ پس منظر میں چلا جاتا ہے اور اس کی نمائندہ حیثیت صفر ہوجاتی ہے لیکن پاکستانی سیاست ایسے تمام ضابطوں سے ماورا ہے لہذٰا مولانا عوام کی چوکھٹ سے دھتکارے جانے کے باوجود اب تک سیاسی منظر نامہ کے و رق ِ اول پہ دھرے بلکہ ڈٹے ہوئے ہیں
ملا فضلو کا سیاسی فلسفہ وہی ہے جو آج سے پانچ صدی پہلے مغربی سیاسی کلچر کے سب سے معروف اور بدنام گرو، میکا ولی نے اپنی کتاب، دی پرنس، میں پیش کیا تھا۔ اس کتاب کے متعلق مغربی سیاست کے نقادوں کی رائے یہ ہے کہ اس میں حکمرانوں اور سیاست دانوں کو سیاسی شعبدہ بازی اور چالبازیوں کے وہ وہ نسخے بتائے گئے ہیں جن پر عمل کرکے کوئی بھی طالع آزما عوام کو بیوقوف بنا سکتا ہے اور اپنے اقتدار کو دوام بخش سکتا ہے۔!
میکا ولی کی حکمتِ اقتدار کا لُبِ لباب یہ ہے کہ حکمراں کو لومڑی کی مانند عیار اور چالاک ہونا چاہئے اور بھیڑیے کی طرح سفاک تب ہی وہ کامیابی کے ساتھ اپنا اقتدار بچاسکتا ہے اور رعایا یا عوام کو اپنی مٹھی میں رکھ سکتا ہے!
ہمارے مولانا موصوف سے یہ توقع تو نہیں ہوسکتی کہ انہوں نے میکاولی کو پڑھا ہوگا لیکن انہیں اس کی ضرورت بھی نہیں ہے کیونکہ وہ تو یہ سارے داؤ پیچ لیکر پیدا ہوئے تھے اور انہیں قریب سے جاننے والے بلا خوفِ تردید یہ کہہ سکتے ہیں کہ میکاولی اگر آج زندہ ہوکر آجائے تو اسے بھی ہمارے ملا فضلو کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرنے ہونگے کیونکہ مولانا تو وہ گر جانتے ہیں جنہیں جان کر میکاولی بھی دانتوں میں انگلیاں دے لے گا!
مولانا موصوف نے گذشتہ تیس برس پاکستان کے ہر سیاسی طالع آزما کے سائے میں پناہ لی، اسے سیاست کے داؤ پیچ سکھلائے اور جتنا فائدہ اٹھا سکتے تھے جی بھرکے اٹھایا، کڑوڑوں اربوں کمائے، ڈیزل کے پرمٹ لئے، ٹھیکے لئے اور دین کے نام پر سیاسی تجارت کی، سب سے زیادہ فائدے انہوں نے بینظیر بھٹو اور نواز شریف سے حاصل کئے لیکن عمران نے انہیں منہ نہیں لگایا اور یہی وجہ ہے کہ مولانا روزِ اول سے عمران کے جانی دشمن ہیں اور عمران کے خلاف لاف زنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ان کی یہی صفت عمران کے دیگر سیاسی حریفوں کی نظر میں ان کی قدر و قیمت بڑھانے کیلئے کافی ہے۔ سو مولانا کو وہ جو بھان متی کا کنبہ جوڑا گیا تھا عمران کی حکومت ختم کرنے کی نیت سے اس کی سربراہی بھی سونپی گئی کہ عمران کے خلاف جتنا زہر اُگل سکتے ہیں اُگلیں اور موصوف نے یہ کام بڑی خوبی سے ادا کیا اور اپنے منصب کو خوب نبھایا۔ ہر جلسہ میں عمران کو گیدڑ بھبھکیاں دیتے رہے کہ اس تاریخ کو عمران کے اقتدار کا سورج غروب ہوجائے گا اور اس تاریخ کو ہوجائے گا!
لیکن سینٹ کے انتخابات نے پی ڈی ایم کی ساجھے کی ہنڈیا کو سرِ بازار کیا توڑا کہ مولانا کا زوال بھی شروع ہوگیا۔
پہلے تو ان کی سب سے بڑی حمایتی مریم نواز نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا جب مولانا کے دستِ راست غفور حیدری کو سینٹ کے ڈپٹی چیرمین کے انتخاب میں مسلم لیگ نواز نے ووٹ نہیں دیا۔ پھر اس سے زیادہ بیرحمی کا سلوک مولانا کے ساتھ آصف علی زرداری نے کیا جب انہوں نے مولانا کے اس مشورہ کو، جو ملا فضلو کی دانست میں ترپ کا پتہ تھا، کہ عمران کی حریف سب پارٹیاں اسمبلیوں سے مستعفی ہوجائیں، بڑی حقارت سے رد کردیا!
زرداری ویسے ہی بلا کا گھاگ ہے اور سیاسی کی بساط پر اگر کوئی مولانا کو مات دے سکتا ہے اور ان کے زہر کا تریاق لاسکتا ہے تو وہ زرداری ہی ہے! اُسے معلوم ہے کہ مولانا کا یہ مشورہ کہ پیپلز پارٹی سندھ اسمبلی سے مستعفی ہوجائے جس کے نتیجہ میں اس کی سندھ پر حکومت بھی ختم ہوجائیگی سیاسی خود کشی ہوگی۔
زرداری ملا فضلو سے دس ہاتھ آگے والا شاطر ہے وہ اور اس کے گماشتے پچھلے چودہ برس سے صو بہ ٔسندھ پر سانپ کی طرح کنڈلی مارے ہوئے بیٹھے ہیں اور اپنا زہر پھیلانے کے ساتھ ساتھ اس کا اور اس کے عوام کا خون بھی چوس رہے ہیں۔ کراچی کا جو حشر ان چوروں اور ساہوکاروں نے کیا ہے وہ نمونۂ عبرت ہے پاکستانیوں اور دنیا کیلئے کہ کیسے ایک شہر جو اپنی روشنیوں کیلئے مشہور تھا اب تاریکی کے گڑھے میں موت کی ہچکیاں لے رہا ہے اور اس کی حالتِ زار سدھارنے کیلئے عمران حکومت کے پاس بھی کوئی منتر نہیں ہے اور نہ ہی انہیں کراچی سے کوئی ہمدردی ہے!
سو زرداری اور مریم دونوں نے ملا فضلو کو ان کی اوقات دکھا دی ہے لیکن مولانا اب کیا کریں کہ وہ تو بلا مبالغہ دھوبی کا کتا ہی بن گئے ہیں جو گھر کا رہا نہ گھاٹ کا!
مولانا کا سیاسی مستقبل اب کیا ہے، اگر کوئی ہے تو؟ ان کے حمایتی تو اب بھی یہ کہتے سنائی دیتے ہیں کہ وہ اس عقاب کی طرح ہیں جو آگ میں جل کر اسی کی راکھ سے دوسرا جنم لیتا ہے اور پھر مائلِ پرواز ہوجاتا ہے لیکن ان کے مخالفین یہ کہتے ہیں کہ ان کا وہ سفر جو دھوکہ دہی اور فریب کی ایک لمبی داستان سے الگ نہیں ہے اب ختم ہونے کو ہے۔ مولانا سیاسی یتیم ہوچکے ہیں جس کے سر پہ ہاتھ رکھنے کو کوئی آمادہ نہیں ہے۔ دیکھتے ہیں کہ پاکستانی سیاست کا یہ معروف شعبدہ گر کیا اپنے فریبی تھیلے سے کوئی ایسا نیا شعبدہ نکالتا ہے جو اسکی سیاسی عمر کو بڑھا دے یا اس کی پوٹلی اب خالی ہوچکی ہے اور وقت آگیا ہے کہ وہ اپنا بوریا بستر جھاڑ کر روانہ ہوجائے اس گمنامی کے اندھیرے میں جو اس جیسے ہر طالع آزما کا مقدّر ہوتا ہے!
مولانا کے زوال کے ساتھ ساتھ پی ڈی ایم کا جو تماشہ کئی مہینوں سے جاری تھا اس کی بساط بھی لپٹ رہی ہے۔ پی ڈی ایم کی کرتا دھرتا دو ہی بڑی سیاسی پارٹیاں تھیں، یوںنام کو تو اس میں پاکستان کی نو سیاسی جماعتیں شامل تھیں لیکن ان کا ہونا یا نہ ہونا برابر تھا کیونکہ کسی کی بھی قومی اسمبلی یا سینٹ میں ایک یا دو سے زاٗئد نشستیں نہیں ہیں اور کچھ تو بالکل ہی یتیم و یسیر ہیں۔ لیکن اب مسلم لیگ نواز اور زرداری کی جاگیر جماعتیں ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہی ہیں۔ کم ظرفوں کا یہی وطیرہ ہوتا ہے کہ جب تک ان کے منہ میں میٹھا میٹھا جاتا رہتا ہے وہ اسے ہپ ہپ کرکے ہضم کرتے رہتے ہیں لیکن جیسے ہی کچھ تلخ یا ترش منہ میں جاتا ہے تو اسے فوری الٹ دیتے ہیں، تھوک دیتے ہیں۔ سو اب دونوں کم ظرف ایک دوسرے کو دشنام دے رہے ہیں اور ایک دوسرے پر تھوک رہے ہیں۔ تازہ ترین پیش رفت میں مریم نواز نے بڑے زعم سے اعلان کیا ہے کہ سینٹ میں ان کی جماعت کا ایک نو منتخب رکن حزبِ اختلاف کا لیڈر ہوگا جبکہ زرداری کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ پیپلز پارٹی کی سینٹ میں اکیس نشستیں ہیں جبکہ نواز لیگ کی کل سترہ ہیں تو حزبِ اختلاف کی قیادت پیپلز پارٹی کے پاس ہونی چاہئے!
پھر نواز لیگ نے زرداری کو ایک اور چرکہ یہ دیا ہے کہ سینٹ میں حزبِ اختلاف کیلئے ان کا نامزد، اعظم تارڑ، ان پولیس افسروں کی طرف سے وکیل ہے جن پر بینظیر بھٹو کے قتل میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ گویا نواز لیگ زرداری اور پیپلز پارٹی کو صرف زخم ہی دینا نہیں چاہتی بلکہ ان زخموں پر نمک بھی چھڑکنا چاہتی ہے!
بات مختصر سی یہ ہے کہ دونوں ہی فریق منافق اور موقع پرست ہیں۔ دونوں کا نظریہ ٔسیاست یہ ہے کہ وقت پڑے تو گدھے کو بھی باپ بنالو لیکن جیسے ہی ضرورت پوری ہوجائے تو اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ دو! منافقوں کا انجام دنیا اور آخرت دونوں جگہ بُرا ہوتا ہے اور جس تیزی سے نواز لیگ اور زرداری ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں، ایک دوسرے کو مطعون کررہے ہیں اس سے پاکستانی عوام کو سبق لینا چاہئے۔ ان کی آنکھیں یہ جو جوتیوں میں سرِ عام دال بٹ رہی ہے اسے دیکھ کر کھل جانی چاہئیں۔ وہ نواز ہو، مریم ہوں، ملا فضلو ہو یا زرداری سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں، ایک سے بڑھ کر ایک منافق اور مطلبی ہے۔ نہ ان کا کوئی دین و ایمان ہے نہ ان کی آنکھ میں مروت نام کا کوئی قطرہ ہے۔ ان میں سے ہر ایک سماج کی تلچھٹ ہے جسے جام سمیت پھینک دینا ہی دانشمندی کی دلیل ہوگا!
سیاسی مبصر البتہ اب ایک سوال کا جواب تلاش کر رہے ہیں۔ اور وہ یہ کہ پی ڈی ایم نام کا جو ایک ناٹک بڑی دھوم دھام سے رچایا گیا تھا اس پر تو اب پردہ گر چکا ہے لیکن اس کے وہ اداکار جن کی سیاسی موت ہوگئی ہے ،ملافضلو جیسے، تو ان کے سیاسی جسد کو دفنایا جائے گا یا اسے چتا پر رکھ کر پھونکا جائے گا؟
آپ بھی اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کیجئے۔ اور ہاں عمران خان اور ان کی رفیقِ حیات کی صحتیابی کیلئے دعا کیجئے کہ اللہ انہیں کووڈ کے مرض سے پوری طرح شفایاب کردے اور انہیں سلامت و صحت مند رکھے۔ آمین!