کووڈسے کیسے بچیں اور بچائیں؟

191

سب سے پہلے میں خدا کا شکر بجا لاتا ہوں کہ اس باری تعالیٰ نے کمال مہربانی سے وزیر اعظم عمران خان کو اپنے ارادوں میں کامیاب کیا۔ جو لوگ دن رات اسے نااہل اور نا لائق کہتے نہیں تھکتے تھے اور اسے نا تجربہ کار سیاستدان کہتے تھے، اس نے کیسے ، بغیر روپے پیسے خرچے، صرف حکمت عملی سے انہی بد بختوں کو قومی اسمبلی میں اور سینیٹ کے انتخاب میں چاروں شانے چت کروا دیا۔ سبحان تیری قدرت باری تعالیٰ۔ اکثر ایسے مشاہدات ہوتے رہتے ہیں کہ اس بات پر یقین کرنا پڑتا ہے کہ اللہ عمران خان کے ساتھ ہے۔وہ اس لیے کہ باری تعالیٰ کو پاکستان کی بقا میں دلچسپی ہے۔اب آپ دیکھیں گے، پاکستان آئیندہ آنے والے امتحانات سے بھی کامیابی سے گذرے گا۔ اور دشمنان پاکستان کفِ افسوس ملتے رہ جائیں گے۔
پاکستان، باقی دنیا کی طرح پھر ایک دفعہ کو وڈ کی وبا کی تیسری لہر کی زد میں آ گیا ہے۔ اس دفعہ تو اس کا حملہ وزیر اعظم پر بھی ہو گیا۔ یہ کوئی انوکھی بات نہیں ۔ دنیا کے بہت سے اکابرین جن میں انگلینڈ کے وزیر اعظم اور امریکہ کے صدر ٹرمپ بھی شامل ہیں، کووڈ سے متاثر ہو چکے ہیں، اور صحتیاب بھی۔ انشاللہ عمران خان بھی جلد ہی تندرست ہو جائیں گے۔ اس لیے کہ کووڈ سے زیادہ متاثر وہ لوگ ہوتے ہیں جو عمر رسیدہ ہوں اور جنہیں دوسرے پیچیدہ امراض بھی ہوں، جو غالباً خان صاحب کو نہیں ہیں۔ ویسے بھی نوے سے پچانوے فیصد متاثرہ مریض صحتیا ب ہو جاتے ہیں۔سب سے بڑی بات یہ کہ قوم کی دعائیں بھی ان کے ساتھ ہیں۔
پاکستان کے عوام SOPs کو سمجھتے ہی نہیں، یا ان کو محض ایک اور حکومتی اعلان سمجھتے ہیں جس پر عمل درآمد ضروری نہیں ہوتا۔ ویسے بھی حکومت کے پاس عوام کے اتنے بڑے ہجوم پر ، کہیں بھی،کوئی بھی ایسا قانون ناٖفذ کروانا ممکن نہیں۔ ایک دو پولیس والے سوائے لاوڈ سپیکر پر لوگوں کو خبر دار کرنے کے اور کیا کر سکتے ہیں؟ جن بازاروں میں کھوے سے کھوا چھل رہا ہو، کوئی مائی کا لعل ان لوگوں کو ماسک پہننے اورسماجی فاصلہ رکھنے پر مجبور نہیں کر سکتا، تا آنکہ وہ خود ان حفاظتی تدابیر کو سمجھ کر ان پر عمل کرنے پر تیار نہ ہوں۔ حفاظتی تدابیر کوئی اتنی مشکل تو نہیں۔ گھر سے باہر نکل کر کسی بھی پُر ہجوم جگہ پر جانا ہو تو ماسک پہن لیں۔ جہاں تک ممکن ہے آپس میں چھ فٹ کا فاصلہ رکھیں۔ کھانا کھانے سے پہلے اور گھر واپس جا کر اپنے ہاتھ اچھی طرح صابن سے دھو لیں۔مصافحہ کرنے سے گریز کریں۔
اگر لوگوں کو پتہ ہو کہ کووڈ کی بیماری ہے کیا اور کیسے پھیلتی ہے، تو شاید وہ ان حفاظتی تدابیر پر توجہ دیں۔اور جان جائیں کہ یہ کیوں ضروری ہیں؟ کووڈ کی بیماری انسان کے پھیپڑوں کو تباہ کردیتی ہے جس سے موت واقع ہو جاتی ہے۔ یہ ایک مریض سے دوسرے تندرست انسان کو لگتی ہے۔ اس بیماری کے جراثیم کھانسنے اور چھینک آنے سے ہوا میں پھیلتے ہیں اور اگر کوئی نزدیک ہو، یعنی چھ فٹ کے اندر، اور اس نے اپنے ناک اور منہ کو ڈھکا ہوا نہ ہو، تو اسکے سانس لینے سے وہ جراثیم اس کی ناک میں چلے جاتے ہیں اور وہاں سے پھیپھڑوں میں۔ اور تین سے پانچ دنوں کے بعد بیماری کی علامات نمایاں ہو نے لگتی ہیں۔ان علامات کے ظاہر ہونے سے پہلے مریض دوسروں کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس مرض کی یہی سب سے بڑی خرابی ہے کہ بیماری کے جراثیم بانٹنے والے کو خود بھی نہیں معلوم ہوتا کہ اپنے دوستوں، گھر والوں اور ملنے والوں کے ساتھ کیا ظلم کر رہا ہے۔ اگر ہر شخص ماسک پہنے تو وہ کافی حد تک نہ صرف خود بیماری سے بچ سکتا ہے، وہ دوسروں کو بھی محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ماسک نہ پہن کر بازار اور دوکانوں میں جانیوالے نہ صرف خود کو خطرہ میں ڈالتے ہیں، وہ انجانے میں دوسروں کے لیے بھی خطرہ بنتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ صنعت یافتہ ممالک میں بھی ، جن میں امریکہ بھی شامل ہے۔ یہاں سڑکوں پر، کھلی فضا میں، اور کچھ تفریحی مقامات پر ، جیسے ساحل سمندر پر، لوگ ماسک کا استعمال نہیں کرتے۔ اور ایسے کھلے ماحول میں کوڈ کے جراثیم پھیلنے کا اتنا زیادہ خطرہ بھی نہیں ہوتا۔اکثر ساحل پر ہوا چل رہی ہوتی ہے جس سے ہوا میں معلق جراثیم ایک جگہ ٹہر نہیں سکتے۔جہاں تک بند عمارتوں کا تعلق ہے، جیسے گروسری سٹور، ریستورانٹ، سرکاری دفاتر، پوسٹ آفس، سکول وغیرہ، ان میں تو کوئی بھی شخص بغیر ماسک کے نہیں جا سکتا۔ اگر کوئی غلطی سے چلا جائے ، لوگ باگ اس سے پرے ہٹنے لگتے ہیں۔ اس کے باوجود، امریکہ میں وباء کی دوسری لہر خوب پھیل رہی ہے۔ 18 مارچ 2021 تک امریکہ میں تقریباً تین کڑوڑ لوگ اس بیماری میں مبتلا ہوئے۔ اور پانچ لاکھ ۳۸ ہزار اموات ہوئیں۔یعنی ہر لاکھ کی آبادی میں ۱۶۴ لوگ ہلاک ہوئے۔ اس کے مقابلے میں، پاکستان میںتقریباً چھ لاکھ سولہ ہزار لوگ متاثر ہوئے اور 13,717اموات ہوئیں، یعنی ہر دس لاکھ آبادی پر 6.46 اموات ہوئیں۔ بنگلہ دیش میں تو متاثرین کی تعداد بھی پاکستان سے کم تھی، اموات بھی کم اور کل آبادی کے تناسب سے بھی اموات کی شرح پاکستان سے قدرے کم تھی۔البتہ آبادی کے تناسب سے بھارت میں پاکستان کے مقابلے میں تقریباً دوگنی اموات ہوئیں۔ اور متاثرین کی تعداد ایک کڑوڑ چودہ لاکھ سے اوپر تھی۔
اگر دنیا میں کوڈ کی وباء کے پھیلاوء کو دیکھا جائے تو یہ بیماری سب سے زیادہ ، مشرق وسطیٰ، غربی یوروپ، شمالی اور جنوبی امریکہ میں پھیلی۔اور ابھی تک اس پر قابو نہیں پایا جا سکا۔ گنتی کے ممالک نے اس پر قابو پایا ہے۔ ان میں چین اور نیوزی لینڈ، کے علاوہ بیس اور ملک ہیں جن میں ایک لاکھ کی آبادی میں ایک سے بھی کم اموات ہوئیں ۔
چونکہ دنیا میں صحت کے مسائل کی قیادت عمو ماً ڈاکٹروں کے ہاتھ میں ہوتی ہے، اس لیے وہ ہر بیماری سے بچنے کا ایک ہی طریقہ جانتے ہیں اور وہ ہے دوا دارو سے علاج اور جراحی۔ البتہ صحت عامہ کے حوالے سے حفظان صحت ، ماحول کی صفائی، کوڑا کرکٹ اٹھانے کا مناسب انتظام، پینے کے لیے صاف پانی کی فراہمی، بول براز کی نکاسی کا قابل بھروسہ نظام، اور چھوت کی بیماریوں کے لیے، حفاظتی ٹیکوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ کووڈ چونکہ اس قسم کے امراض کی ایک بالکل نئی قسم ہے اس کے لیے حفاظتی ٹیکے بھی نہیں بنے تھے۔ ان ٹیکوں کو بنانے کا ایک لمبا طریق کار ہے، جس میں دو سال بھی لگ سکتے ہیں۔ البتہ کووڈ کے پھیلنے کی رفتار اتنی تیز تھی کہ ٹیکے بنانے والی کمپنیوں کو جتنا جلدی ممکن تھا ٹیکوں کی فراہمی کرنی پڑی ۔
امریکہ میں سب سے پہلے فائزر نے ٹیکے دینے شروع کیے، اس کے بعد ایک نئی کمپنی موڈرنا نے اسی قسم کے ٹیکے مہیا کرنے شروع کیے۔ اب حال ہی میں ایک اور کمپنی ایسٹرا زینیکا نے بھی ٹیکے پیش کر دیے ہیں۔ ان سب کے ٹیکے تین ہفتہ کے وقفہ کے بعد دو دفعہ لگوانے پڑتے ہیں۔ ایک چوتھی کمپنی جانسن اینڈ جانسن کے ٹیکے بھی آ گئے ہیں جنکا ایک ہی ٹیکہ کافی ہے۔ روس، نے اپنے ٹیکے کا نام سپوتنک رکھا ہے ۔ چین اور بھارت نے بھی ٹیکے بنا لیے ہیں۔ لیکن پاکستان نے نہ جانے کیوں اپنا ٹیکہ نہیں بنایا؟ پاکستان کو کم و بیش دس کڑوڑ ٹیکوں کی ضرورت ہو گی جو اسے باہر سے خریدنے ہونگے۔
سب لوگوں کو تو ٹیکے لگانا ممکن نہیں لیکن اگر اسی فیصد آبادی کو بھی لگ جائیں تو کہتے ہیں آبادی میں ایک گروہی مدافعت پیدا ہو جاتی ہے جس سے بیماری کا پھیلائو رُک جاتا ہے۔ پاکستان میں ایک دفعہ پھر کووڈ کی ایک زیادہ تیزی سے بڑھنے والی قسم آ گئی ہے جو پھیل رہی ہے۔اس کی وجہ سے حکومت اب جارحانہ اقدامات لینے پر مجبور ہے جس میں تجارتی سر گرمیوں کو روکنا پڑے گا اور ضروری اقدامات لینے پڑیں گے، جو تاجروں، ریستورانٹوں کے مالکوں اور مزدوروں کو نا پسند ہیں۔ لیکن ان بندشوں کے بغیر اس بیماری پر قابو پانا ممکن نہیں۔
راقم کا مودبانہ مشورہ ہے کہ حکومت جسقدر جلدی، ایک آگاہی کی موثر مہم چلائے گی اتنا ہی فائدہ ہو گا۔ کیونکہ بغیر عوام کے تعاون کے کووڈ پر قابو پانا ممکن ہی نہیں۔ اس کے لیے تحقیق کی بھی ضرورت ہے جس سے ایسے سوالات کا جواب ملے کہ عوام کیوں ماسک پہننے سے گریز کرتے ہیں؟ کیا وہ مرض کے پھیلنے کا طریق کار سمجھتے ہیں؟ کیا وہ یہ جانتے ہیں کہ چھ فٹ کا سماجی فاصلہ کیوں ضروری ہے ، دن میں کئی بار ہاتھ دھونا کیوں ضروری ہے؟ اگر نہیں معلوم تو کیا ان کو کسی نے کبھی بتایا نہیں؟ کیا ان کے پاس ماسک خریدنے کی اہلیت ہے؟ کیا انہیں معلوم ہے کہ ماسک کہاں ملتے ہیں؟ کیا ان کے قریبی عزیز و اقارب اور دوست ماسک پہنتے ہیں؟ ماسک پہننے کے کوئی نقصانات ہوتے ہیں؟
پاکستان کی آدھی آبادی تعلیم سے بے بہرہ ہے۔اس لیے ان کو آگاہی دینے کے طریقے محدود ہیں۔ مثلاً سب سے اہم طریقہ ٹی وی اور فلم ہے۔ اس کے علاوہ ایک پرانا طریقہ منادی کا ہے لیکن ان طریقوں کی ایک قباحت یہ ہے کہ سننے والے یا دیکھنے والے سوال نہیں کر سکتے اگر ان کو کوئی بات سمجھ نہ آ رہی ہو۔ اس کے لیے انہیں یا توچھوٹے گروہوں میں میٹنگ کر کے بتایا جا سکتا ہے، یا گھر گھر جا کر۔ ان طریقوں کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ مخاطبین بات کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں اور اپنے سوالوں کا جواب بھی لے سکتے ہیں۔ایسے مخاطبین جو لکھی ہوئی تحریر پڑھ سکتے ہیں ان کے لیے کئی طریقے ہیں۔ مثلاً بل بورڈ، پوسٹر، ہاتھ سے بانٹنے والے ایک صفحہ کا اشتہار، کتابچے وغیرہ۔ تمام شائع شدہ مواد کو آسان زبان میں اور تصاویر سے مزین کرنا چاہیے۔ بہتر طریقہ تو یہ کہ ہر مواد کو شائع کرنے سے پہلے اس کو مخاطبین کو دیکھا کر ان کی رائے ضرور لینی چاہیے۔ اگر ضرورت پڑے تو ترمیم کرنے کے بعد شائع کریں۔
عوام میں آگاہی کے یہ طریقے حکومتی حکام کو آتے ہیں، صرف وہ مہم چلانے سے پہلے تحقیق کے عادی نہیں۔ ان سے اگر تحقیق کی بات کی جائے تو اکثر جواب ہوتا ہے کہ وہ سب جانتے ہیں۔