پی ڈی ایم میں مزدوروں اور طالب علموں کی کمی

234

ماضی کی تمام تحریکوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے پاکستان کے گورنر جنرلوں اور فوجی جنرلوں کی آمریت اور بربریت کے خلاف ہر تحریک جمہوریت میں طلباء ،مزدور تنظیموں اور یونینوں کا بہت بڑا کردار رہا ہے بلکہ یوں کہا جائے تو حق بجانب ہو گا کہ ہر تحریک کا آغاز مزدور اور طلباء سے ہوتا تھا جس کے رہنما پچاس ساٹھ اور ستر کی دھائی کے طلباء رہنما تھے۔ بدقسمتی سے 1983ء میں جنرل ضیاء الحق نے مزدور اور طلباء یونین پر پابندیاں عائد کر دیں جس کی وجہ سے 80کی دہائی سے آج تک ہر تحریک مزدوروں اور طالب علموں سے محروم ہو چکی ہے جس کے دشمن مزدوروں کی بیرون ملک بھیجنے والے اور طالب علموں کو قلم کی بجائے گن فراہم کرنے والے ہیں کہ آج پاکستان میں کوئی مزدور اور طلبا تنظیم نظر نہیں آرہی ہے جو موجودہ تحریک جمہوریت کا حصہ بن پائے، علاوہ ازیں مزدوروں کو بیرون ملک بھیجنے کے بعد بچے کھچے مزدوروں کو ٹھیکداری نظام کے حوالے کر دیا گیا جن کے تمام حقوق سلب کر دیئے گئے جب اب غلام بن کررہ گئے ہیں جس پر ملک کی تمام سیاسی اور سماجی تنظیمیں بے حس نظر آتی ہیں اس طرح پاکستان کے ینگ پارلیمنٹرین کو پاکستان کی آمروں کی تاریخ سے لاتعلق کر دیا گیا جو آج 1980ء سے پہلے تاریخ کے بارے میں لاعلم اور نابلد ہیں کہ ملک پر آمروں اور جابروں نے کیا کیا ظلم کیا، کیا کیا ظلم ڈھائے ہیں جس کی وجہ سے آج تک ملک خون میں لت پت نظر آرہا ہے۔ تاہم آج پھر پاکستان میں طلبا اور مزدوروں کی شدید ضرورت ہے جو اس تحریک کا حصہ بنیں جس سے ملک میں حقیقی جمہوریت بحال ہو۔ انسانی، شہری اور بنیادی حقوق کی پامالی رک پائے۔ ملک میں قانون کی حکمرانی قائم ہو۔ یہاں قانون کی بالاتری اور آئین کی بالادستی کا نظام نافذ ہو جس کے لئے ضروری ہے کہ جمہوری اور ترقی پسند قوتیں طلبا اور مزدوروں اور محنت کشوں کی نمائندگی پیدا کریں۔ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء یونین کو منظم کیا جائے، مزدورانجمنیں بنائی جائیں، مزدور ٹھیکیدار نظام کا غلام کیوں نہ ہو،پاکستان کی سیاست میں حقیقی مسائل کا حل ڈھونڈا جائے۔ بہرکیف ماضی میں طلباء رہنمائوں معراج محمد خان، فتحیاب علی خان، نفیس صدیقی، منور حسن، جاوید ہاشمی، پرویز رشید، افراسیاب خٹک جس کا راقم الحروف اسلامیہ کالج کراچی کا دو مرتبہ طلباء یونین کا صدر رہ چکا ہے یا پھر کراچی کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طلباء یونین کے سابقہ عہدیدار جسٹس رشید رضوی، مجاہد بریلوی، جسٹس حسن فیروز، رضا ربانی، عاشق رضا، مسرور احسن، جبار خٹک، محمود الحسن، سردار رحیم، حسین حقانی، زاہدبخاری، ناہید افضال اور دوسرے درجنوں طلباء رہنما جنہوں نے طلباء پلیٹ فارم پر عوامی تحریکوں میں شامل رہے جس کی بدولت آج کی لنگڑی لولی جمہوریت کا بول بالا ہورہا ہے یا پھر مزدوروں کی نمائندگی عثمان بلوچ، کرامت علی، زین العابدین، مرزا ابراہیم نہ کرتے تو پاکستان میں آمریت مزید بری شکل میں پائی جاتی۔بہرکیف پی ڈی ایم جو ایم آر ڈی کے بعد اسٹیبلشمنٹ سے پاک اور صاف تحریک ہے جس کے خلاف سازشیں جاری ہیں جس نے پاکستانی طاقتور اداروں کی چولیں ہلا کررکھ دی ہیں ان کو پاکستان کے ہر طبقے کو شامل کرنا چاہیے جس میں سول سوسائٹی، وکلاء، ڈاکٹر، اساتذہ،طلباء اور مزدور بھی شامل ہوں جن کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی ہے، آج کا پاکستان وہ نہیں ہے جس پر گزشتہ دہائیوں سے سامراج کا غلبہ تھا جس کی گماشتہ پاکستانی اشرافیہ تھی جس نے ملک کو سامراجی معاہدوں میں جھکڑ رکھا تھا جو کبھی سیٹو، سینٹو ،افغان جنگ اور دہشت گردی جنگ جیسے معاہدے تھے جس سے پاکستان تباہ و برباد ہوا آج پاکستان پر صرف اور صرف مقامی ملکی اشرافیہ قابض ہے جس سے بڑی آسانی سے چھٹکارا پایا جا سکتا ہے۔ چونکہ پی ڈی ایم کے اتحاد میں وہ قوتیں ہیں جن کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ طویل جنگ رہی ہے جس نے اسٹیبلشمنٹ کے خلاف لاتعداد قربانیاں دی ہیں جن کو ایک منظم سازش کے تحت الگ تھلگ رکھا جاتا ہے کہ کہیں ملک میں حقیقی انسان دوست نظام نافذ نہ ہو جائے جس سے موجودہ انگریزوں کی لاگو جاگیردار، وڈیرہ شاہی، جنرل کریسی کا خاتمہ ہو جائے اسی لیے ایسی قوتوں کو ہر پارٹی دور رکھنا چاہتی ہے یہ جانتے ہوئے کہ ملک کی اصل طاقت مزدور کش اور کسان ہیں جن کے حامی طلباء ہیں جن کی شرکت کے بغیر کوئی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی ہے۔ اس لیے پی ڈی ایم کی قیادتوں کو مزدوروں اور طالب علموں کو اپنی تحریک میں شامل کرنا ہو گا ورنہ ان کی تحریک ہمہ وقت سازشوں کا شکار رہے گی جس سے جمہوریت کا سفر مزید طویل ہو جائے گا جس کا سدباب آج ہونا چاہیے کہ موجودہ تحریک میں ہر طبقے کو شامل کیا جائے تاکہ استحصال سے پاک پاکستان میں نیا انقلاب برپا ہو جس میں مساویانہ حقوق میسر آپائیں۔