چور اور لٹیروں کا ساتھ دینے والوں پر،آج ابلیس بھی لعنت بھیج رہا ہوگا!!!

379

ابتدائے آفرینش سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا درس دیا جارہا ہے۔ جسے سننا، پڑھنا، لکھنا ہی کافی نہیں بلکہ اس پر یقین کامل ہونا ضروری ہے۔ یہی دین اور ایمان ہے۔ یقین کی دولت جسے مل گئی اس نے صراط مستقیم پار کر لیا۔ اولیا اللہ کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ دنیا سے کنارہ کش ہو کر وجدان حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی گواہی تو ہر نمازکی اذان میں دی جاتی ہے اور یہ اذان چوبیس گھنٹے اس کی واحدانیت کی صدا دیتی رہتی ہے۔ دنیا کے کسی نہ کسی خطے میں سورج طلوع ہورہا ہوتا ہے۔ نماز فجر ادا کی جارہی ہوتی ہے کہیں پر ظہر و عصر کی اذانوں سے فضا گونج رہی ہوتی ہے اور کہیں آفتاب اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے یعنی غروب ہونے کی منزل پر ہوتا ہے نماز مغرب اور عشاء کی اذانوں سے مسجد کے مینار گونج رہے ہوتے ہیں۔ ایک انسان کو اس سے بڑا بھی کوئی معجزہ چاہیے اور جو ایمان لائے ہیں یقین رکھتے ہیں ان کے دلوں میں خوف خدا ہوتا ہے۔ انہیں تکبر، دولت کی ہوس، دوسروں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ان کی سرشست میں نہیں ہوتا، دوغلا پن نہیں ہوتا، منافقت نہیں ہوتی، کافر ہمیشہ رسولوں اور نبیوں سے خدا کے وجود کے ثبوت مانگتے رہے اور یقین کی منزل پر کبھی فائز نہ ہوئے۔
حضرت آدم سے لے کر نبی آخر تک فرمان خداوندی میں کہیں ردوبدل نہیں ہوئی۔ ہر آسمانی کتاب نے انسانوں کو جوہدایات دیں اس میں کسی شعبہ حیات سے پہلو تہی نہیں کی گئی۔ اصول و قواعد بتا دئیے گئے۔ حدود قائم کر دی گئیں۔ اب اگر عقل انسانی اُسے تسلیم نہیں کرتی اور بے اعتباری میں مبتلا ہو کر فتنہ و فساد پھیلاتی ہے تو جہنم کا راستہ کھلا ہوا ہے۔
بانی پاکستان کو جب ہند میں بھی اسلام اور کفر کا ٹکرائو نظر آیا جیسا کہ ہمارے نبی کو احساس ہوا اور انہوں نے ہجرت کی۔ قائداعظم کا نظریہ بڑی وضاحت سے مسلمانوں کے ذہن میں بیٹھ گیا اور انہیں اپنے نجات دہندہ کے اصولوں کو اپنانا پڑا کیونکہ یہ اصول تو بہت پہلے ہمارے نبی نے مسلمانوں کے لئے وضع کر دئیے تھے۔ قائداعظم نے ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان کو عالم وجود میں لا کھڑا کیا۔ یہ دنیا کا دوسرا ملک ہے جو نظریات کے تحت عالم وجود میں آیا اور محب وطن پاکستانی اس سے والہانہ پیار کرتے ہیں۔ قائد کے ممنون ہیں۔ دوسری طرف غداروں کی بھی کمی نہیں جو اس کے وجود کو ختم کرنے کے درپے ہیں اور انشاء اللہ ایسے لوگوں کا منہ کالا ہو گا۔ یہ جاوید لطیف اس کی حیثیت کیا ہے؟ جو پاکستان کھپے کا نعرہ نہیں لگائے گا بلکہ اس کے وجود کو مٹانے کی صدا بلند کرے گا۔ ایسے لوگوں کو سرعام پھانسی دو، یہ پوری انسانیت کے دشمن ہیں۔ یہ پاکستان میں صرف لوٹنے کیلئے بیٹھے ہیں انہیں ملک بدر کر دینا چاہیے جہاں ان کے سینگ سمائیں چلے جائیں جیسے وہ بھگوڑا اپنے پورے ٹبر کو پروں میں چھپائے لندن میں بیٹھا ہے اور اس حکومت کو دھمکیاں، فوج کو چیلنج کررہا ہے۔ ملک میں افراتفری پھیلارہا ہے۔ یہ فضلو، زرداری جسے پٹواری ہونا چاہیے بھگوڑے کی بدکردار بیٹی پاکستان میں انتشارپھیلارہے ہیں جو پیسہ یہ لوگ قرض پر لے کر اپنے کھاتوں میں بھرتے رہے اس کا سود بھی اس حکومت کواپنے ٹیکسوں کے پیسوں سے ادا کرنا پڑرہا ہے۔ آئی ایم ایف کی سخت شرائط ہیں، پاکستان بمشکل بلیک لسٹ سے گرے لسٹ میں لایاگیا ہے ابھی خطرہ موجود ہے۔ ٹیکس لگنے سے عوام کا ملیدہ ہوا جارہا ہے۔ اب اس کا حال بتائیں کیا سب کے سامنے ہے۔ عمران خان کو طعنے مل رہے ہیں، ریاست مدینہ کا مضحکہ اڑایاجارہا ہے اور یہ رہزن غریبوں سے خیرات لیکر عیش کررہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں کہ کسی کو ان کے کرتوتوںکی خبر نہیں۔ ارے ظالمو اتنا صبرمت سمیٹو کہ تمہاری نسلیں بھی ان کی بددعائوں کی نذرہو جائیں، ان کا حق انہیں واپس کرو۔
ایک چھوٹا سا اقتباس قائد کی ایک تحریر سے بانیٔ پاکستان کا تصور پاکستان’’اسلامی قوانین سے آج بھی نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر کے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے، حضور ﷺ کی تعلیمات نے زندگی کے ہر شعبے میں ایک انقلاب برپا کر دیا اور روحانی، سماجی، سیاسی اور اقتصادی پستیوں کو چشم زدن میں بلندیوں سے آشنا کر دیا۔ آج بھی ہمیں حضور کی تعلیم پکار پکار کر اپنی طرف بلا رہی ہے۔ کاش کہ ہم اس آواز کو سن سکیں۔‘‘ اے کاش ایسا ہو جائے۔ کیا کوئی قائد کے ان خیالات سے روگردانی کر سکتا ہے؟ جاوید لطیف !تو بتا کہ کہاں کی سرزمین سے تو اُگا تھا۔ اس سرزمین کو حاصل کرنے کے لئے تو لاکھوں جانوں کا نذرانہ دینا پڑا تھا اور آج اس سرزمین کے جیالے سپوت ہمارے فوجی قربانیاں دے رہے ہیں۔ اپنے خون سے اسے سینچ رہے ہیں۔ اس کی آبیاری کررہے ہیں۔ یہ قوم بڑی مضبوطی سے اپنے قائد کے قول پر قدم جمائے کھڑی ہے۔تم تھوڑے سے چور ڈاکو لوٹ کے مال پر عیش کرنے والے انشاء اللہ صفحہ ہستی سے مٹا دئیے جائو گے۔ جس دن عدالتیں بیسوا(Basewa)نہ بنیں گی۔لاہور ہائیکورٹ کو کوئی bitches of richesنہ کہے گا۔ ان بھکاریوں کی لوٹ مار کی وجہ سے ملک دنیا میں بدنام ہے۔ لوگ اعتبار نہیں کرتے۔
عمران خان حضور کا صحیح غلام اور قائد کا جائز جانشین ہے جو اس ملک کو ریاست مدینہ کے طرز پر چلانا چاہتا ہے۔ اس کی راہ کے کانٹے چننا عوام کا فرض ہے۔ ان عدالتوں کی ذمہ داری ہے نیب نے بھی ابھی تک کوئی بھی کیس منطقی انجام تک نہیں پہنچایا۔ مجرموں کو جیلوں میں ضمانت اور پروڈکشن آرڈر مل رہے ہیں۔ یہ مجرمان ضمانتوں پر آزاد کہیں دھرنے دے رہے ہیں کہیں جلوس نکال ر ہے ہیں۔ مقصد صرف اپنی لوٹی ہوئی دولت پر سانپ بن کر بیٹھے رہنا ہے۔ عوام کو ان کا ساتھ نہیں دینا چاہیے۔ یہ ن لیگ اور PPPوالے کیا سب کے سب بہرے گونگے اندھے ہیں؟ سوچو تم ذرا تم ابلیس کے چیلوں کا ساتھ دے رہے ہو اور ابلیس بھی تم پر لعنت بھیج رہا ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو تم پر توبہ کے دروازے بند ہو جائیں؟ عمران خان ہی تمہارا نجات دہندہ ہے!!