‘‘ہا ہا ہا۔۔پی ڈی ایم ٹوٹ گئی‘‘ مریم نواز کا تمسخرانہ انداز آج ایک بھیانک روپ اختیار کر گیا!

388

آج کل ہر ٹی وی چینل پر چوبیس گھنٹوں میں بائیس مرتبہ نواز لیگ کی ولی عہد مریم نواز کا وہ تمسخر آمیز کلپ دکھایا جاتا ہے جو وہ عمران خان کو نشانہ بنا کر کہہ رہی تھیں ایک پریس کانفرنس میں کہ ذرا سی کوئی بات ہوتی ہے مثلاً اگر کسی جلسے میں بلاول زرداری نہیں آیا تو بنی گالا میں بیٹھا ہوا ایک شخص کہتا ہے کہ ہا ہا ہا پی ڈی ایم ٹوٹ گئی مگر آج وہ ہی خدشہ حقیقت کا روپ دھار گیا ہے اور اب ہر ٹی وی پروگرام میںنہ صرف یہ مذکورہ کلپ بلکہ بلاول اور مریم کے باقاعدہ ماضی کے تمام کلپس دکھائے جارہے ہیں اور دبا کرکھلی اڑائی جارہی ہے۔ کل کے ایک دوسرے کو بھائی بہن کہنے والے آج ایک دوسرے کی ماں بہن ایک کررہے ہیں۔ یہاں ہمیں فاطر غزنوی کا ایک مشہور شعر یاد آرہا ہے
گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے
چلو اچھا ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے!
پاکستان کے عوام جوان دونوں پارٹیوں کے وقتی جھانسے میں آگئے تھے اب ان کی آنکھیں کھل گئی ہیں بلکہ پھٹ کے رہ گئی ہیں کہ بقول حمایت علی شاعر؎
ہر قدم پر نت نئے سانچوں میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ!
پاکستان کی سیاست میں یہ گندی بات پہلی مرتبہ نہیں ہوئی ہے اس سے بیشتر شہباز شریف اور نواز شریف بہت بھڑکیں مار چکے ہیں۔ شہباز شریف نے کہا تھا کہ اگر میں نے آصف علی زرداری کا پیٹ پھاڑ کر کرپشن کا پیسہ نکلوا کر لاہور اور لاڑکانہ کی سڑکوں پر نہ گھسیٹا تو میرا نام بدل دینا۔ آصف زرداری نے میاں نواز شریف کو کہا تھا کہ یہ شخص ایک ایسا درندہ ہے جسے اگر چھوڑ دیا جائے تو لوگ ہمیں کبھی معاف نہیں کریں گے۔ میاں نواز شریف تو گھٹیا پن کی حد درجہ نچلی حدود کو بھی پار کر گئے جب انہوں نے بے نظیر کی فوٹو شاپ کے ذریعے الف برہنہ تصاویر چھپوا کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک انتخابی حلقے میں نواز لیگ کے مقابل پیپلز پارٹی کے امیدوار کو ہرانے کے لئے فضا سے نیچے پھنکوائی تھیں۔ یہ ذلالت سے بھرپور رویے صرف شریف خاندان کا خاصہ نہیں بلکہ ان کے سارے کارکنان اور وزراء اور ان کے خاندان بھی خوشامد میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار کا مظاہرہ کرتے ہوئے اکثر اوقات کرتے رہتے ہیں۔ ایک مثال آپ کو دیتے چلیں۔ نواز لیگ کے موجودہ لیڈر اور سابق وزیر دفاع خرم دستگیر کے والد بھی اسی تنزلی کا مظاہرہ ماضی میں کر چکے ہیں۔ ایوب خان کے مقابلے میں بانی پاکستان قائداعظم کی ہمشیرہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح صدارتی الیکشن میں امیدوار تھیں۔ خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر ایوب خان کی جماعت کنونشن مسلم لیگ کی طرف سے فاطمہ جناح کے امیدوار کے مدمقابل گوجرانوالہ میں امیدوار تھے۔ خرم دستگیر کے والد غلام دستگیر مقابلے کی خاطر تمام حدود پار کر گئے۔ غلام دستگیر نے اپنے شہر گوجرانوالہ میں ایک کتیا کے گلے میں لالٹین باندھی اور پٹہ لگایا فاطمہ جناح کا۔ یاد رہے کہ محترمہ فاطمہ جناح کاانتخابی نشان لالٹین اور ایوب خان کا گلاب کا پھول تھا۔ غلام دستگیر کے حامی گوجرانوالہ کی گلیوں اور سڑکوں میں اس کتیا کو گھماتے اور کہتے تھے کہ دیکھو کتیا جارہی ہے۔ آج جب اس بدقماش باپ کا بدقماش اور کرپٹ بیٹا ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر مہذہب بننے کی کوشش کرتا ہے تو یقین کیجئے کہ خون کھول کر رہ جاتا ہے۔ یہ کوئی کہانی یا افسانہ نہیں اس کی گواہی اور حوالہ معروف صحافی ہارون رشید اور سیاستدان طاہر القادری ایک جلسے میں کھلے عام دے چکے ہیں اور طاہر القادری تو اس دلخراش واقعے کا ذکر کرتے ہوئے آبدیدہ بھی ہو گئے تھے ان سیاستدانوں نے پاکستان کے بابائے قوم اور ان کی ہمشیرہ اور پاکستان کی مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کے ساتھ یہ سلوک کیا صرف سیاسی مخالفتوں کی وجہ سے ،کبھی کبھی ہم سوچتے ہیں کہ اچھا ہی ہوا کہ قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی وفات پاگئے وگرنہ یہ لوگ خدا جانے ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے!