انسانی یاد داشتوں پر کیے جانے والے تجربات میں کامیابی

251

برلن: جرمنی کے سائنسدانوں نے انسانی یاد داشتوں کے حوالے سے کیے جانے والے اہم تجربات میں کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سائنسدانوں نے تجربات کے ذریعے یہ معلوم کرنے کی کوشش کی ہے کہ انسانی یاد داشت میں غلط یا درست معلومات کس طرح محفوظ کی جا سکتی ہیں؟ اور انہیں کس طرح انسانی یاد داشت سے مکمل طور پر ختم بھی کیا جا سکتا ہے؟

ہیگن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی تحقیقاتی ٹیم کی ریسرچ کا بنیادی مقصد نظام عدل پہ اثر انداز ہونے والی غلط یا درست یاد داشتوں کا جائزہ لینا تھا اور اس بات کا اندازہ لگانا تھا کہ انسانی یاد داشتیں نظام عدل کے لیے کس قدر سنگین مضمرات کا سبب بن سکتی ہیں؟

مؤقر انگریزی جریدے آرٹی کے مطابق یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے ماہرین کی تحقیقاتی ٹیم نے اس مقصد کے لیے رضاکاروں پر تسلسل کے ساتھ تجربات کیے ہیں۔

جرمن محققین دراصل یہ بات جاننے کی کوشش کررہے تھے کہ اگر کچھ نفسیاتی تیکنیکوں کا استعمال کرکے انسانی دماغ میں غلط یادیں داخل کردی جائیں تو وہ کس حد تک محفوظ رہ سکتی ہیں؟ اور پھر یہ کہ کیا انہیں دماغ سے نکالنا بھی ممکن ہوگا یا نہیں؟