’ایغور مسلمانوں سے بدسلوکی‘: مغربی ممالک نے چینی حکام پر پابندیاں عائد کردیں

225

برسلز: یورپی یونین، برطانیہ، کینیڈا اور امریکا نے چین کے صوبے مغربی سنکیانگ کے علاقے میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر چین میں عہدیداروں کے خلاف مربوط پابندیوں کا آغاز کردیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے اے پی کی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے سنکیانگ میں چار سینئر عہدیداروں پر پابندیاں عائد کیں۔

پابندیوں میں اہلکاروں کے اثاثوں کو منجمد کرنا اور ان پر مغربی ممالک کے سفر پر پابندی عائد شامل ہے۔

اس کے علاوہ یورپی شہریوں اور کمپنیوں کو انہیں مالی مدد فراہم کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔

27 ممالک پر مشتمل بلاک سنکیانگ پروڈکشن اینڈ کنسٹرکشن کورپس پبلک سیکیورٹی بیورو کے اثاثوں کو بھی منجمد کرچکا ہے جس میں اس کو سنکیانگ چلانے والی اور اس کی معیشت کو کنٹرول کرنے والی ایک سرکاری معاشی اور نیم فوجی تنظیم کے طور پر بتایا گیا ہے۔

برطانوی سیکریٹری خارجہ ڈومینک راب نے کہا کہ یہ اقدامات برطانیہ، امریکا، کینیڈا اور 27 ممالک کی یورپی یونین کی طرف سے ایغور مسلمانوں کے خلاف سنگین انسانی حقوق کی پامالی سے متعلق ‘سامنے آنے والے شواہد’ کے تحت کارروائی کرنے پر سفارت کاری کا حصہ ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ متحدہ رد عمل نے بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے یا ان کا غلط استعمال کرنے والوں کو ایک مضبوط پیغام بھیج دیا ہے اور ‘ہم مشترکہ شراکت داروں کے ساتھ ہم آہنگی میں مزید اقدامات کریں گے، ہم چین کے جرائم کے فوری خاتمے اور متعدد متاثرین کے لیے انصاف کے حصول کے لیے پوری دنیا میں اپنے اتحادیوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے’۔