سعودی عرب کی حوثی باغیوں کو ‘جامع جنگ بندی’ کی پیشکش

254

ریاض: سعودی عرب نے یمن کے حوثی باغیوں کو اقوام متحدہ کی زیر نگرانی ایک جامع جنگ بندی کی پیش کش کی ہے جس کا مقصد تباہ کن چھ سالہ تنازع کے خاتمہ ہے۔

لیکن حال ہی میں تیل کی تنصیبات سمیت سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں میں تیزی لانے والے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے ریاض کے اقدامات کو یہ کہہ کر کر مسترد کردیا ہے یہ ‘کوئی نئی بات نہیں’۔

6سال سے جاری اس تنازع میں حال ہی میں تیزی آئی ہے اور حوثی باغی سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت کے شمال میں واقع آخری مضبوط گڑھ پر قبضہ کرنے کے انتہائی قریب پہنچ گئے ہیں۔

سعودی حکومت نے مذاکرات کی پیش کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا کہ اس اقدام کے تحت ‘اقوام متحدہ کی نگرانی میں ملک بھر میں ایک جامع جنگ بندی’ شامل ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ریاض نے باغیوں کے زیر قبضہ دارالحکومت صنعا میں ہوائی اڈے کو دوبارہ کھولنے اور یمنی حکومت اور حوثیوں کے مابین سیاسی مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔

سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ریاض میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم چاہتے ہیں کہ بندوقیں بالکل خاموش ہوجائیں اور جیسے ہی حوثی باغی اس معاہدے پر رضامندی طاہر کریں گے، اس پر عملدرآمد شروع ہو جائے گا۔