سینیٹ میں پی ٹی آئی کے چیئرمین کی کامیابی، اپوزیشن آج ٹوٹ گئی، مولانا اور ن لیگ کو شکست فاش ہو گئی

231

آصف علی زرداری پاکستان کا کرپٹ ترین سیاستدان ہے جس کے دماغ میں یہ کیڑے ہیں کہ ہر چیز کو دولت سے خریدا جا سکتا ہے۔ ہر سیاستدان کی ایک قیمت ہے۔ وہ سمجھ رہا تھا کہ یوسف رضا گیلانی کو سینیٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے وہ کامیاب کرا سکتا ہے۔ اس کا اب دماغ درست ہو گیا ہو گا۔ اس نے اسلام آباد کی سیٹ سے اور قومی اسمبلی میں ممبروں کو خرید کر یہ سمجھ لیا تھا کہ وہ یوسف رضا گیلانی کو حفیظ شیخ کے مقابلے میں کامیاب کرانے کے بعد سینیٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے بھی ان کو کامیاب کرا لے گا یہ اس کی بھول تھی۔ عمران خان ایک مرتبہ تو اپنے ممبروں سے دھوکہ کھا گیا لیکن قومی اسمبلی میں اس نے اعتماد کا ووٹ لیکر یہ ثابت کر دیا کہ عمران خان ابھی کمزور نہیں ہوا ساتھ ساتھ اپنے ممبروں کو بھی ایک طرح سے وارننگ دے دی کہ اگر وہ اپوزیشن کے ہاتھوں بکے تو ان کا انجام برا ہو گا۔ ان کی حالت اسی طرح ہو گی کہ دھوبی کا کتا نہ گھر کا نہ گھاٹ کا۔
اپوزیشن اور خاص طور سے آصف علی زرداری کو یہ غلط فہمی تھی کہ سینیٹ میں ان کی تعداد پوری ہے اور اگر وہ پی ٹی آئی یا دوسری پارٹیوں سے دو یا تین آدمی خرید لیں تو وہ آسانی سے صادق سنجرانی کو شکست دے دیں گے اور وہ اسی طرح کی منصوبہ بندی کررہے تھے لیکن اس مرتبہ عمران خان اور دوسرے ادارے بھی خاموش نہیں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو پتہ تھا کہ اگر وہ دوبارہ سینیٹ کے چیئرمین کا الیکشن ہارے تو اپوزیشن میں جان پڑ جائے گی اور 26مارچ کو لانگ مارچ اور دھرنا بہت طاقت کے ساتھ پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہوگا۔ ملک میں افراتفری کا ایک نیا باب کھل جائے گا جبکہ ملک اس کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس لئے سب نے مل کر مشترکہ کوشش کی جبکہ وزیر انفارمیشن شبلی فراز نے بالکل ٹھیک کہا تھا ہم جیتنے کے لئے ہر طریقہ استعمال کریں گے۔ سب سے حیران اور پریشان کر دینے والی جیت ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کی تھی ان کے ووٹوںکی تعداد صاق سنجرانی سے کئی ووٹ زیادہ تھی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اپوزیشن میں بہت زیادہ اختلافات ہیں کہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ بھی بھاری اکثریت سے جیت گئے اپوزیشن اب اپنی تباہی اور بربادی کی آخری منزل تک پہنچ گئی تھی۔
آج بروز 15مارچ پی ڈی ایم کے سربراہی اجلاس میں آصف علی زرداری نے اپنا آخری ترب کا پتہ کھیل دیا۔ استعفے دینے سے انکار کر دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے 26مارچ کا لانگ مارچ ملتوی کر دیا اور پریس کانفرنس چھوڑ کر چلے گئے۔ مریم نواز ان کو روکتی رہ گئیں ۔آصف زرداری نے نواز شریف کی واپسی کی شرط رکھ دی جس پر مریم نواز نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ان کو مردہ نہیں زندہ لیڈر چاہیے۔ اس طرح آج اپوزیشن کا شیرازہ بکھر گیا۔ آصف زرداری نے دو کشتیوں میں پیر رکھ دیا ہے۔ ایک تو دفاعی اداروں کو مسیج دیا کہ وہ ہی سب سے قابل اعتماد آدمی ہے اس پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے۔ وہ بلاول کو آگے لانے کی پوری منصوبہ بندی بنارہا ہے۔ سندھ میں اس کے سامنے کوئی سیاسی قوت نہیں ہے۔ پنجاب میں اگر وہ سیٹیں نکالنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو خرید و فروخت کر کے وہ بلاول کووزیراعظم بنا سکتے ہیں، شاید یہی منصوبہ آصف علی زرداری کا ہے لیکن اس کے آگے مریم بہت بڑی دیوار ہے۔ سب سے زیادہ سیٹیں پنجاب میں ہیں جو بھی پنجاب میں کامیاب ہوتا ہے وہی آئندہ مرکز میں حکومت بناتا ہے۔ زرداری کی نظر میں دو سال کے بعد ہونے والے الیکشن پر ہیں۔ عمران خان کی کارکردگی بہت ناقص رہی ہے عوام میں بہت تیزی سے وہ غیر مقبول ہوتے جارہے ہیں۔ مہنگائی اور کورونا نے ملک کی معاشی صورت حال بہت خراب کر دی ہے عوام عمران خان سے خوش نہیں ہیں۔ بس خاموشی صبر ہے اور کوئی بچت کا راستہ نہیں ہے۔
اس وقت ملک کی سیاسی صورت حال بہت غیر واضح ہے۔ فی الحال عمران خان کو کوئی سیاسی چیلنج نہیں ہے اپوزیشن اب ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ فضل الرحمن کی سیاست آج سے ختم ہو گئی ہے 26مارچ کا لانگ مارچ ملتوی ہو گیا ہے۔ سب پارٹیاں الگ ہو گئی ہیں۔ پی ڈی ایم کا جنازہ پڑھایا جا چکا ہے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے راستے اب الگ الگ ہو گئے ہیں۔ ہو سکتا ہے آئندہ مولانا کے ساتھ برا ہو۔ ان کی بھی سیاست اور عمران خان سے دشمنی بے نتیجہ رہی اور اب وہ پاکستان کی سیاست سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو گئے۔ ہو سکتا ہے ان کے صاحبزادے آئندہ سیاست میں ان کی جگہ لیں۔ عمران خان کے لئے فی الحال سیاسی طور پر کوئی خطرہ نہیں ہے لیکن ایک بہت بڑا عذاب قاضی فائز عیسیٰ کی شکل میں موجود ہے جو ہر روز نئی نئی باتیں کرتا رہتا ہے جس کو اس کے ساتھی ججوں نے بھی عمران خان کے خلاف کوئی کیس سننے سے منع کر دیا ہے لیکن وہ کوئی نہ کوئی مسئلہ روز اٹھا ہی لیتے ہیں آنے والے دن ملک اور عمران خان دونوں کے لئے بہتر ہوں گے۔