عورت مارچ

222

اقوام متحدہ نے ۸ مارچ کو INTERNATIONAL WOMEN DAYمنانے کی تجویز دی، اس دن عورتوں کی سماجی، معاشی، ثقافتی اور سیاسی کامیابیوں کو سراہا جاتا ہے، یہ عورتوں کے حقوق کی جدوجہد کا FOCAL POINTبھی ہے جس میں GENDER EQUALITYاور گھریلو تشدد بھی شامل ہے ایک اہم نکتہ عورتوں کے REPRUCTIVE RIGHTSکا بھی ہے اقوام متحدہ نے یہ دن 2019 کے BEIGING DECLARATIONکی قراردادوں کے مطابق متعین کیا ہے، اقوام متحدہ کی مختلف کمیٹیوں نے ان امور پر برسوں تحقیق کی اور بڑی ریاضت سے رپورٹس ترتیب دیں، اس تحقیق کا تعلق دنیا کے ہر ملک سے ہے، مذکورہ بالا مسائل کے حوالے سے دنیا کے تمام ممالک کی درجہ بندی کی گئی، اور بظاہر ایسا نہیں لگتا کہ عالمی طاقتوں نے اثر انداز ہونے کی کوشش کی ہو گی، کیونکہ کچھ خرابیوں میں ان بڑی طاقتوں کے نام بھی آتے ہیں اور اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کرتے ہیں، عورتوں کے حقوق کے حوالے سے جس خرابی کا ذکر شد و مد کے ساتھ کیا جاتا ہے وہ جنسی ہراسیدگی ہے اور اس ضمن میں مہذب ممالک کا بھی اپنا ٹریک ریکارڈ ہے اور بہت سے مہذب ممالک میں اس کی روک تھام کے لئے کچھ اقدامات کئے گئے ہیں اور قوانین بھی بنائے گئے ہیں اور بتدریج معاشرے کو پرامن اور خوب صورت بنانے کی کوشش جاری ہے، کوئی ملک یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ اس نے BEIJING DECLARATIONکے تمام نکات پر سو فیصدی عمل کر لیا اور مکمل نتائج حاصل کر لئے، اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک نے بیجنگ ڈیکلیریشن پر دستخط کئے ہیں اور پاکستان بھی ان میں شامل ہے۔
پاکستان میں بھی خواتین کا عالمی دن منایا جاتا ہے، خواتین کے عالمی دن کے حوالے سے حکومتی سطح پر تقریبات نہیں ہوتیں، یا برائے نام ہوتی ہیں، میڈیا پر بھی اس عنوان کے حوالے سے گفتگو نہیں ہوتی، یا کم ہوتی ہے،اس دن کو پاکستان کی انسانی حقوق کی انجمنیں اور خواتین کے حقوق کی علمبردار تنظیمیں جوش و خروش سے مناتی ہیں اور تمام بڑے شہروں میں عورت مارچ منظم کیا جاتا ہے، پاکستان میں ایک بڑے جھوٹ کو حکومت نے اپنی پیشانی پر محراب کی صورت سجا لیا ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنایا گیا تھا، یہ پچھلی صدی کا سب سے بڑا جھوٹ تھا جو اس صدی میں بھی سچ ہی مانا جاتا ہے، اس کا کوئی تاریخی ثبوت تو ہے نہیں مگر اس بیانیے سے مقتدرہ فوج اور سیاسی وڈیروں کو بڑے فوائد حاصل ہیں تو اس بات کو آئینی COVERبھی حاصل ہے اور کمال یہ ہے کہ ایک نام نہاد سوشلسٹ نے آئین میں یہ شق رکھ دی کہ پاکستان کا کوئی قانون قرآن اور سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا اور لطف یہ بھی کہ پاکستان کی تشکیل کے23 سال کے بعد ملک کو اسلامی جمہوریہ بھی قرار دیا گیا، ظاہر ہے کہ پاکستان کے سر پر سبز پگڑی باندھنے کے لئے مولوی کی ضرورت تھی لہٰذا سیاست میں مولوی کو ایک اہم رول بھی دے دیا گیا، اس رول کو دینے میں فوج نے اہم کردار ادا کیا، ان عناصر کو طاقت دینے کے لئے ان کو پارلیمنٹ میں بھی لایا گیا، اسلامی نظریاتی کونسل، اسلامی محتسب، اسلامی عدالتِ انصاف بھی بنا دی گئی، مذہب میں عورت کو مرد کی ملکیت سمجھا جاتا ہے اس پر تشدد کرنے کی بھی اجازت ہے، اس کو برقع اور پردے میں بھی رہنے کا حکم سامنے آگیا تو عورت مارچ پر فتویٰ تو آنے ہی تھے، سو آئے اور حکومت اتنی بے بس کہ وہ یہ کہہ بھی نہ سکی کہ ہم تو بیجنگ ڈیکلریشن پر دستخط کر چکے ہیں، ہمیں جنس پرستی سے باہر آ کر عورتوں کے سماجی، معاشی اور ثقافتی آزادیوں کو ممکن بنانا ہے، جو این جی اوز عورت مارچ کا اہتمام کرتی ہیں ان کو لبرل کہا جاتا ہے اور لبرل کے نئے معنی اسلام پسندوں اور میڈیا نے خود وضع کئے ہیں اور لبرلز کو ملحد اور لادین کہا جاتا ہے، LIBERALISMایک سیاسی نظریہ ہے جو فرد کی شخصی آزادی مانتا ہے تاکہ وہ اپناسیاسی کردار ادا کر سکے، یہ نظریہ THOMAS PAINEنے 1776 میں دیا تھا جو آج بھی زندہ ہے اور اس نظریہ میں الحاد اور لادینیت کا کہیں ذکر نہیں ہے، مگر مسجد کے دو ٹکے کے امام کے منہ سے جو نکلتا ہے وہ قرآن اور فرمان رسول سے بھی زیادہ معتبر ہو جاتا ہے، جماعت اسلامی عورت مارچ کو عریانیت اور فحاشی سے مربوط کر دیتی ہے مگر مالِ غنیمت میں عورتوں کی تقسیم اور لونڈیوں کی تجارت پر ان کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکلتا۔
پاکستان میں عورتوں کی حالت بہت ناگفتہ بہ ہے شہروں کی بہت کم آبادیاں مذہبی اثر سے آزاد ہیں، دیہی عورتوں میں عورت کو غلاموں کا درجہ دیا جاتا ہے، گھریلو تشدد، عورتوں کو جلا دینا، ان کے چہروں پر تیزاب پھینک دینا، جنسی ہراسانی، زناکاری، جاگیرداروں کا اپنے مزارع کی بیٹیوں اور بیویوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنانا، ان سے بیگار لینا، بہت عام ہے، کچھ علاقوں میں بچیوں کے ختنہ بھی کئے جاتے ہیں اور ان کو بیچا بھی جاتا ہے، یہ سماجی بیماری شہروں تک پہنچ چکی ہے، شہروں میں بچیوں کا اغواء ان سے جنسی زیادتی اور ان کو قتل کر دینا عام ہوتا جارہا ہے اور حکومت اس کی روک تھام میں ناکام ہو چکی ہے، اس حوالے سے ملک کی ۵۶ فی صد آبادی کو غلامی کی زنجیروں میں رکھنا کہ وہ اپنے حقوق کا ادراک نہ کر سکیں اور ان کو سِر راہے بھی مرد اپنی ملکیت سمجھے اور وہ اس کی مرضی کی تابع ہو انسانیت کے تقاضوں سے بعید ہے اور اس حالت زار پر آواز اٹھانا ہر ذی شعور کا فرض ہے، عورت مارچ اس حوالے سے امید کی ایک کرن ہے اور یہ بات بھی عورت مارچ کے لئے سود مند ہے کہ اس کی شدید مخالفت کی جاتی ہے اور سوشل میڈیا پر اس موضوع پر کھل کر گفتگو ہوتی ہے، پاکستان میں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا دینی حلقوںکے شدید دبائومیں رہتا ہے اور آواز بھی بلند نہیں کر سکتا، لہٰذا ان پر مفید مباحث نہیں ہوتے اور وہ میڈیا ہائوس جو مذہب کے زیر اثر ہوتے ہیں وہ عورت مارچ پر نوحہ کناں بھی ہوتے ہیں۔
میں نہیں کہتا کہ عورت مارچ میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ سب کچھ صحیح ہے بہت سے پلے کارڈز نفاست کی تعریف پر پورے نہیں اترتے اور ان سے اتفاق نہیں کیا جا سکتا، یہ اعتراض جب مارچ کے منتظمین کے سامنے رکھا گیا تو ان کا بہت مدلل جواب سامنے آیا کہ مارچ ہر عورت اور مرد کے لئے ہے اگر کوئی فرد اپنے پلے کارڈز لے کر آتا ہے تو ان کو روکا نہیں جا سکتا، مگر ان کا عورت مارچ کے کاز سے کوئی تعلق نہیں، مارچ کے مقاصد کچھ اور ہیں اور یہ عورت کی سماجی اور سیاسی بیداری سے عبارت ہیں، مارچ کو اس کاز کی روشنی میںدیکھا جانا چاہیے، یہ بات بھی درست ہے کہ دینی اور حکومتی حلقے منفی پلے کارڈز کو ہی ہائی لائٹ کیوں کرتے ہیں پاکستان میں عورت جس کرب سے گزرتی ہے اس کا احساس کیوں نہیں کیا جاتا اور اس کی زندگی بہتر بنانے کے اقدامات کیوں نہیں کیے جاتے، عورت مارچ صرف ایک بیانے کے گرد گھومتی ہے کہ عورت کو انسان سمجھا جائے اور اس کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے، مجھے نہیں معلوم اس بات سے مذہب کی بنیاد پر اختلاف کیا جا سکتا ہے، یہ کہہ دینا کافی نہیں کہ اسلام نے عورت کو حقوق دئیے ہیں اور سورۃ النساء کے نزول کے بعد یہ بحث نہیں کی جا سکتی، زمینی حقائق کو دیکھنا اہم ہے۔