مہریں اور مہرے!

215

مشہور ہے کہ شیطان ہمیشہ ہی منصوبے بناتا رہتا ہے۔ وہ یہ کام تو ازل سے کرتا آرہا ہے لیکن اس کے چیلے اور شاگرد بھی استاد کی دیکھا دیکھی منصوبے بناتے رہتے ہیں کہ استاد کی سنت یہی ہے۔ پاکستان میں ابلیس نے عرصۂ دراز سے اپنی فرانچائز ایک ایسے ملا کے سپرد کی ہے جو اس کی ہر توقع پہ ہمیشہ پورا اترتا رہا ہے لیکن اس شیطانی چیلے کے چیلے بھی اپنے استاد کے ہاتھ مضبوط کرنے کیلئے منصوبہ سازی میں کسی سے پیچھے نہیں رہتے!
عمران خان کے خلاف صف آرا حزبِ اختلاف بھی ایک عرصے سے منصوبے بناتی آئی ہے اور سینٹ کے انتخاب کیلئے تو انہوں نے اپنی دانست میں ایسا پانسہ پھینکا تھا کہ ان کا خیال تھا کہ ان کی چالیں عمران کو بالکل ہی بے دست و پا کردیں گی جس کے نتیجہ میں وہ اپنی وہ مراد پالیں گے جس کیلئے وہ اور ان کا استاد اس دن سے منصوبے بناتے آئے ہیں جب عمران نے حکومت سنبھالی تھی!
عمران کے حریفوں کی منصوبہ سازی میں ترپ کا پتہ کونسا تھا یہ تو اب پاکستان کا بچہ بچہ جانتا ہے۔ یوسف رضا گیلانی کی شہرت پاکستان میں ہیروں کے ہار چور کی ہے۔ بے شرمی کی انتہا تھی کہ وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے موصوف نے وہ ہار، ہیروں کا، جو برادر ملک ترکی کے قائد رجب طیب اردگان کی زوجہ نے پاکستان کے سیلاب زدگان کی امداد کیلئے ہدیہ کیا تھا ہتھیا لیا تھا اور جب چوری پکڑی گئی تو یہ جواز پیش کیا تھا کہ انہوں نے ہار ایک بہن کا تحفہ سمجھ کے رکھ لیا تھا!
پاکستان کے جاگیردارانہ سیاسی نظام کے کلیدی رکن یوسف رضا گیلانی جیسے ہی ہیں جو پورے ملک کو اپنی جاگیر سمجھتے ہیں اور بے حیائی سے لوٹنا اپنا حق سمجھتے ہیں۔ گیلانی کی فطری بے ایمانی اولاد میں بھی منتقل ہوگئی یہ بھی تعجب کی بات نہیں۔ یہ قول سچا ہے کہ تخم تاثیر صحبت کا اثر! جس باپ کی گود میں آنکھ کھولی اور جس کے سائے میں پرورش پائی اس کے کردار کی سیاہی بیٹوں میں نہ جاتی تو اور کس میں جاتی؟ سو بیٹے نے باپ کی کامیابی کیلئے سودا کیا، ووٹ خریدے اور باپ کو چور بازاری سے کامیاب کروا دیا!
عمران کے دشمنوں کو یقین تھا کہ گیلانی کی کامیابی اور حفیظ شیخ کی ناکامی عمران حکومت کو فارغ کردیگی لیکن عمران نے بلا تاخیر پارلیمان سے اعتماد کا ووٹ لیکر ان کے منصوبے پر پانی پھیردیا۔ لیکن شیطان کے چیلوں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ اگلا منصوبہ یہ تھا کہ گیلانی کو جو عقبی دروازہ سے کامیابی ملی تھی اسے کامیابی کی کلید بنایا جائے اور جیسے ووٹ خرید کے انہیں سینٹ میں منتخب کروایا گیا تھا ویسے ہی شیطانی حربوں سے انہیں سینٹ کا چیئرمین بھی منتخب کروادیا جائے!
لیکن شیطان کے چیلے شاید یہ یاد نہیں رکھتے کہ وہ جو اوپر والا ہے وہ سب سے بڑا منصوبہ ساز ہے۔ وہ شیطانوں کو منصوبے بنانے دیتا ہے اسلئے کہ شیطان کو ڈھیل دینے کا وعدہ تو اس نے روزِ ازل ہی کردیا تھا لیکن یہ آزادی جو اس نے دی ہوئی ہے وہ بے حد و حساب نہیں ہے لہذٰا ایک حد تک تو وہ ڈھیل دیتا ہے لیکن پھر ڈور کھینچ لیتا ہے اور ایسے کھینچتا ہے کہ شیطان کے چیلے چاروں خانے چت ہوجاتے ہیں!
سینٹ کے چیئرمین کے انتخاب میں بھی یہی ہوا کہ گیلانی اور ان کے سرپرست ملا فضلو کی چال ناکام ہوگئی۔ یوں لگا کہ دستِ قدرت نے ان کی بچھائی ہوئی بساط الٹ دی اور جب الٹی تو شیطان اور چیلے اپنے سر پیٹتے رہ گئے اور ان کی سمجھ میں اب تک یہ نہیں آرہا کہ ان کے ساتھ ہوا کیا ہے!
بہت ادھم مچایا ہوا ہے حزب اختلاف کے نقیبوں نے منہ کی کھانے کے بعد سے۔ اعتراض یہ ہے کہ گیلانی کے جو آٹھ ووٹ اسلئے مسترد کئے گئے کہ ووٹ دینے والے دوستوں نے وہ مہر جو بیلٹ پیپر پر لگائی جاتی ہے غلط جگہ پہ لگادی تھی!
اب اگر مُلا فضلو کے چیلوں میں شعری مذاق ہوتا تو انہیں ترانۂ پاکستان کے خالق حفیظ جالندھری کا شعر یاد آجاتا:؎
دیکھا جو تیر کھاکے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی!!
بات یہ ہے کہ یہ جو اپنے آپ کو اتحادی کہتے ہیں ان میں سے ہر ایک اپنی غرض کا بندہ ہے۔ وہ بات جس نے ان کو بظاہر ایک ساتھ باندھ رکھا ہے عمران دشمنی ہے اور دشمنی اس خوف سے ہے کہ عمران کی کرپشن کے خلاف مہم ان کو کنگال نہ کردے! کنگال کہنا غلط ہوگا اسلئے کہ لوٹ کا سارا مال تو ان چوروں نے باہر کے بنکوں اور ملکوں میں رکھا ہوا ہے لیکن پھر بھی خطرہ اصل یہ ہے کہ یہ جو انہوں نے عوامی قیادت کے نام پر سیاست میں جاگیریں بنا رکھی ہیں وہ نہ کہیں لٹ جائیں!
بھان متی کے اس کنبے میں جتنے بھی چالباز اور نوسرباز ہیں ایک دوسرے سے مخلص نہیں ہیں اور اس کا سب سے بڑامنہ بولتا ثبوت یہی ہے کہ چیئرمین کے انتخاب میں گیلانی نے منہ کی کھائی ہے تو انہیں اپنوں کے ہاتھوں جنہوں نے جان بوجھ کر اپنے بیلٹ پیپر خراب کئے ورنہ کیا وجہ ہے کہ انہیں دوستوں نے ڈپٹی چیئرمین کو جب ووٹ دیا تو اپنی مہر اسی جگہ لگائی جہاں لگانا چائیے تھا!
ان کی منافقت کی قلعی کھولنے کو ایک یہ اور ہے کہ اس ٹولہ کا سربراہ دل و جان سے چاہتا ہے کہ اسمبلیوں سے حزب اختلاف کے اراکین مستعفی ہوجائیں۔ اس کی یہ خواہش اسلئے ہے کہ وہ کسی اسمبلی کا رکن نہیں ہے سو اس کبڑی بڑھیا کی طرح جس نے بادشاہ سے فرمائش کی تھی کہ اس کی طرح سب کو کبڑا بنادیا جائے ملا فضلو کا بڑا ارمان ہے کہ اس کے سب چیلے اسمبلیوں سے باہر آجائیں لیکن چیلے جانتے ہیں کہ ایک بار استعفٰی دیا تو پھر کبھی اسمبلی کا منہ نہیں دیکھ سکیں گے!
مریم نواز کی بھی کوئی منتخب حیثیت نہیں ہے سو وہ بھی یہی چاہتی ہیں کہ ان کی پارٹی کے اراکین اسمبلیوں سے نکل آئیں لیکن اراکین کو اپنی تنگیٔ داماں کا ادراک ہے لہٰذا وہ یہ زہر کا پیالہ پینے کیلئے آمادہ نہیں ہورہے! رہا وہ گھاگ زرداری تو اسے بھی بخوبی احساس ہے کہ سندھ حکومت میں اس نے جو اپنی جاگیر بنا رکھی ہے وہ ایک بار لٹی تو پھر اس کی لوٹ مار کیلئے کوئی وسیلہ نہیں بچے گا!
سو پیکر منافقت ان ملاؤں میں مرغی آپس میں ہی حرام ہورہی ہے۔ عمران سے نجات پانا ان میں سے ہر ایک کا خواب ہے لیکن اس خواب کی تعبیر مسلسل بھیانک نکل رہی ہے، جو پانسہ پھینکتے ہیں مات ہورہی ہے، جو بساط بچھاتے ہیں وہ الٹ جاتی ہے۔!
سینٹ کے چیئرمین کیلئے ووٹنگ کے بوتھ میں خفیہ کیمروں کا ایک ناٹک بھی حزبِ اختلاف کے کلاکاروں نے رچانے کی کوشش کی تھی۔ خود ہی کیمرے چھپائے تھے اور پھر خود ہی انہیں دریافت کرنے لگے۔ الزام کی انگلی انٹیلیجنس کے اداروں کی طرف اٹھانے کی کوشش بھی جو ناکام ہوگئی کہ ہمارے جن اداروں کو دنیا انٹیلیجینس کے میدان میں بہترین قرار دیتی ہو وہ کیا اتنے گئے گذرے ہوسکتے ہیں کہ ایسے بھونڈے طریقے سے کیمرے لگائیں گے کہ ملا فضلو کے چیلے ان کا سراغ بہ آسانی لگالیں!
کسی نے سوشل میڈیا میں بڑے پتے کی بات کی کہ دنیا میں کیمرے چوروں کو پکڑنے کیلئے استعمال ہوتے ہیں لیکن پاکستان میں چور کیمرے پکڑ رہے ہیں!
اب ایک آخری حربہ لے دیکے جو بچا ہے وہ اس لانگ مارچ کا ہے جس کی دھمکی یہ ٹولہ مہینوں سے دیتا آرہا ہے۔26 مارچ اس لانگ مارچ کیلئے تاریخ دی گئی ہے۔ دیکھتے ہیں کہ یہ بازی بھی کیسے مات ہوتی ہے۔ لیکن چکنے گھڑے ہیں اس ناکامی کے بعد پھر کوئی سوانگ رچالینگے اور کہیں گے کہ ابکی بار ان کا کھوٹا سکہ بازار میں چل ہی جائے گا!
لیکن ان کا سکہ یوں نہیں چلے گا کہ وہ جو پاکستان کے سب سے بڑے بازیگر ہیں۔۔۔ اور جنہیں مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے اگرچہ جاننے والے جانتے ہیں کہ کسی نام سے پکارو چھری چھری ہی رہتی ہے اور چاہے وہ خربوزے پر گرے یا خربوزہ اس پر گرے کٹتا خربوزہ ہی ہے۔۔۔ ان کے ہاتھوں میں ان سب شتروں کی مہار ہے، سب کی الماریوں میں جو ڈھانچے چھپے ہوئے ہیں وہ بازیگروں کو معلوم ہیں لہٰذا ان جعلسازوں کی مجال نہیں کہ یہ اس لکشمن ریکھا کو پار کرنے کی جسارت کرسکیں جو ان کے راستے میں بہت عرصہ سے کھنچی ہوئی ہے۔ بازیگروں کا کھیل ان سب کو معلوم ہے کیونکہ وہ ان سب کو ان کی اوقات گاہے بہ گاہے بتلاتے اور جتلاتے رہتے ہیں!
سو یہ مہریں بھی لگتی رہیںگی، غلط سلط بھی اور صحیح جگہ پر بھی، اور مہرے بھی بساط پر چلتے یا چلائے جاتے رہیںگے۔ مقامِ حیرت تو پاکستانی عوام کیلئے ہے کہ وہ یہ سب کچھ دیکھنے پر مجبور ہیں۔ مجبور اسلئے ہیں کہ اصل جمہوریت میں ان کا جو مقام ہونا چاہئے وہ ان کو آج تک نہیں ملا۔ دیکھا جائے تو بساط کے اصل مہرے تو وہ ہیں جنہیں جمہوریت کا نام لینے والے جعلساز صرف اس وقت یاد کرتے ہیں جب ان کے ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے ورنہ جاگیرداروں کی نظر میں جمہور کی حیثیت ہی کیا ہے، کیڑے مکوڑے جنہیں سر اٹھانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی!
عمران کیلئے یہی بڑی کامیابی ہے کہ حزبِ اختلاف کے شعبدہ بازوں کا ہر حربہ ناکام ہورہا ہے اور وہ منہ کی کھا رہے ہیں لیکن اپنی آئینی مدت کے اس مقام پر جب آدھی مدت پوری ہوچکی ہے انہیں یہ احساس ہونا چاہئے کہ عوام کا پیٹ نعروں سے نہیں بھرتا انہیں زندگی کی بنیادی ضروریات چاہئیں جو اس وقت اگر دستیاب ہیں تو ان کے مول آسمان سے باتیں کررہے ہیں۔ عوام کے پیٹ خالی ہوں تو پھر مقبول سے مقبول لیڈر کی گاڑی بھی چلنے سے معذور ہوجاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ عمران کو ہوش آئے کہ ان کی حکومت کی کارکردگی کا گراف جو مسلسل نیچے جارہا ہے اسے سنبھالنے کی ضرورت ہے اور یہ کام ابھی ہونا چاہئے۔ مزید مہلت اب اول تو ممکن نہیں ہے اور اگر ہو بھی تو عوامی مسائل کی یلغار اس کیلئے کوئی گنجائش نہیں دیگی! عمران خان کو اپنے اقتدار کی ڈولتی ہوئی ناؤکو بچانا ہے اس سے پہلے کہ وہ بھنور کا شکار ہوجائے!