امریکی ڈپلومیسی اور سینٹ بحران

221

دو ماہ تک خارجی معاملات پر غورو خوض کرنے کے بعد بائیڈن کابینہ کے دو اہم ارکان اسوقت بحرالکاہل کے ممالک میں اتحادیوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیںسیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن اور سیکرٹری آف ڈیفنس General (R) Lloyd Austinپیر کے دن دو روزہ دورے پر ٹوکیو پہنچے جہاں انہوں نے جاپان کے وزیر خارجہToshimitsu Motegi اور وزیر دفاع Nobuo Kishi سے ملاقات کی اس دورے کے آغاز سے ایک روزپہلے واشنگٹن پوسٹ نے اتوار کے روز ایک مضمون شائع کیا جو بلنکن اور آسٹن کی مشترکہ تحریر تھی اسکا عنوان America’s partnerships are force multipliers in the world یعنی دنیا میں امریکہ کی شراکت داری طاقت میں اضا فے کا ذریعہ ہے اس مضمون کے عنوان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ دنیا بھر میں اپنے اتحادیوں کو یہ یقین دلانا چاہتا ہے کہ وہ ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر ایک بھر پور کردار ادا کرنے کیلئے میدان میں پوری تیاری کیساتھ واپس آگیا ہے یورپی اتحادیوں نے جوزف بائیڈن کو کھلے دل سے خوش آمدید کہنے کے علاوہ یہ بھی کہا ہے کہ وہ امریکہ سے دوستی تو چاہتے ہیں مگر اب کی بار وہ واشنگٹن پر مکمل انحصار کرنے کی بجائے خارجہ معاملات میں اپنی آزادی پر سمجھوتہ نہیں کریں گے ظاہر ہے کہ یورپی ممالک چین کے ساتھ اپنے تعلقات میں امریکہ کی مداخلت برداشت کرنے پر آمادہ نہیں ہیںانہیں خدشہ ہے کہ چار سال بعد ڈا نلڈ ٹرمپ یا اسکا کوئی ہم خیال وائٹ ہائوس میں متمکن ہوا تو پھر کیا ہو گا بحرالکاہل کے ممالک میں بھی امریکہ کیلئے راوی نے چین نہیں لکھا ہوا‘ جاپان ‘ جنوبی کوریا اور انڈیا میں اگر چہ کہ ان دونوں امریکی وزرا ٔکا شاندار استقبال ہو گا اور انہیں تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی جائے گی مگریہاں بھی چین نے اتنی پیشرفت کی ہوئی ہے کہ یہ ممالک بھی اپنا سارا وزن امریکہ کے پلڑے میں ڈالنے سے گریز کریں گے لیکن انہیں ایک بڑی عالمی طاقت سے جو عسکری اور اقتصادی فوائد مل سکتے ہیں وہ انہیں سمیٹنے کی پوری کوشش کریں گے واشنگٹن پوسٹ کے مضمون سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کی دفاعی اسٹیبلشمنٹ چین کے ساتھ اہم‘ مشکل اور متنازعہ معاملات پر بات چیت سے پہلے بحرالکاہل کے اتحادیوں کو جانچنا چاہتی ہے ‘ کون کس حد تک جا سکتا ہے اور کس پر کتنا انحصار کیا جا سکتا ہے بلنکن اور آسٹن نے لکھا ہے” Our combined power makes us stronger” یعنی ہماری مشترکہ طاقت ہمیں زیادہ مضبوط بناتی ہے اس مشترکہ طاقت کو ’’ چین کی جارحیت اور دھمکیوں‘‘ کے خلاف استعمال کرنیکا اشارہ بھی دیا گیا ہے چین امریکہ تعلقات کیا رخ اختیار کرتے ہیں اسکا اندازہ اگلے ہفتے الاسکا کے شہر Anchorage میںدونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی ملاقات میں ہو گا ۔
جاپان کے دورے کے بعد بلنکن اور آسٹن جنوبی کوریا جائیں گے اسکے بعد لائیڈ آسٹن کا اگلا پڑائو بھارت میں ہو گا جہاں وہ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ سے ڈیفنس پارٹنر شپ کو بڑھانے اور دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت کریں گے لائیڈ آسٹن نے کہا ہے کہ وہ بھارتی قیادت کیساتھ انڈو پیسیفک اور مغربی بحر ہند کو ایک آزاد‘ کھلا اور خوشحال علاقہ بنانے کے امکانات پر گفتگو کریں گے امریکی وزرا کی شٹل ڈپلومیسی سے پہلے صدر بائیڈن گذشتہ ہفتے ویکسین ڈپلومیسی کا آغاز کر چکے تھے جمعے کے دن جاپان‘ بھارت اور آسٹریلیا کے سربراہوں کیساتھ ایک Virtual Meeting میں انہوں نے کورونا وائرس ویکسین کی ایک اربDoses بنانے کا اعلان کیا اس کار خیر کیلئے امریکہ اور جاپان سرمایہ مہیا کریں گے یہ ویکسین بھارت میں دو سال کے عرصے میں تیار ہوگی اور اسکی تقسیم کی ذمہ داری آسٹریلیا پر ہو گی یہ ویکسین صرف جنوب مشرقی ایشیا کے ممالک کو دی جائیگی چار ممالک کے اس Quad Summitکے بارے میں ایک امریکی اخبار نے لکھا ہے کہ ویکسین ڈپلومیسی میں امریکہ ‘ چین روس اور انڈیا سے بہت پیچھے رہ گیا ہے بعض ممالک نے امریکہ کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اضافی ویکسین کو سٹوریج میں رکھنے کی بجائے حاجت مند ممالک میں تقسیم کر دے امریکی میڈیا کہہ رہا ہے کہ چین نے درجنوں ممالک کو مفت ویکسین دیکر اپنے قد کاٹھ میں اضافہ کر لیا ہے اسلئے امریکہ کو اس میدان میں پیچھے نہیں رہنا چاہئیے۔
ادھر یکم مئی کو افغانستان سے امریکی انخلاء کی ڈیڈ لائن قریب آنے کی وجہ سے واشنگٹن کے سفارتکاروں نے دوحہ‘ پاکستان اور افغانستان کے دورے شروع کر دئیے ہیں، پاکستانی اخبارات کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ امریکہ نے یکم مئی کو افغانستان سے اپنی افواج واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا ہے جبکہ پندرہ مارچ کے نیویارک ٹائمز کی ایک خبر میں لکھا ہے کہ Biden Administration is wrestling with whether to follow through with the full withdrawal in the next seven weeksاسکا مطلب یہی ہے کہ امریکہ نے ابھی انخلا کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا اس خبر میں یہ اطلاع بھی دی گئی ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کی کل تعداد 2500 نہیںبلکہ 3500 ہے ناٹو ممالک کے سات ہزار فوجی اسکے علاوہ ہیںخصوصی مندوب زلمے خلیل زاد اگرچہ کہ دوحہ‘ پاکستان اور افغانستان میں شٹل ڈپلومیسی میں مصروف ہیںمگر انہیں ابھی تک طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے میں خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوئی گذشتہ ہفتے میں کابل اور ہرات میں ہونیوالے حملوں کے نتیجے میں درجنوں افغان شہری ہلاک ہوے ہیں اشرف غنی حکومت نے ان حملوں کی ذمہ داری طالبان پر ڈالی ہے۔
ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے ارد گرد حالات تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں مگر اسلام آباد میںوفاقی وزرأ اور اپوزیشن لیڈر بلا تکان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوئے ہیں تین مارچ کو سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے سینیٹر منتخب ہونیکے بعد جو طوفان اٹھاتھا وہ ابھی تک تھمنے کا نام نہیں لے رہا چھ مارچ کو وزیر اعظم عمران خان کے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے کے بعد امید تھی کہ حالات نارمل ہو جائیں گے مگر موجودہ صورتحال کسی بڑے تصادم کی طرف بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہے بارہ مارچ کو سینٹ کے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین دونوں عہدے حکومت کے امیدواروں نے جیت لئے چیئر مین سینٹ کے مقابلے میں کیونکہ یوسف رضا گیلانی کے سات ووٹ مسترد ہوے ہیں اسلئے حزب اختلاف سخت بپھری ہوئی ہے مریم نواز کی ضمانت مسترد ہونے کا فیصلہ بھی ان سطور کی اشاعت سے پہلے ہو چکا ہو گاسابق وزیر اعظم نواز شریف نے ایک مرتبہ پھر عسکری قیادت کے نام لیکر ایک زور دار بیان دیا ہے پندرہ مارچ کو تین وفاقی وزرا نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کر کے الیکشن کمیشن کے تمام ممبران سے استعفے دینے کا مطالبہ کیا ہے انکے بیان کے مطابق الیکشن کمیشن اپنا اعتماد کھو چکا ہے اسلئے اسے مستعفی ہو جانا چاہیئے ماہرین کہہ رہے ہیں کہ حکومت کو اس آئینی ادارے کو ختم کرنیکا اختیار حاصل نہیں ہے اسکے اختتام کی صورت میںبلدیاتی انتخابات کونسا ادارہ کرائے گا ڈسکہ الیکشن کس کی نگرانی میں ہوں گے سینئر صحافی مجیب الرحمان شامی نے کہا ہے کہ حکومت کے اس اعلان کے بعد ملک تیزی سے ایک آئینی بحران کی طرف بڑھ رہا ہے ان مخدوش حالات کی آخری ذمہ داری خان صاحب کی حکومت پر ہی عائد ہو گی مگر لگتا ہے کہ انہیں اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ آس پاس کیا ہو رہا ہے انکی ساری توجہ اپوزیشن کو منہ توڑ جواب دینے اور میڈیا مینجمینٹ میں لگی ہوئی ہے اب چھبیس مارچ کو لانگ مارچ ہو گا اسلام آباد میں ہم سے امن قائم ہو نہیں سکتا مگر کابل میں امن قائم کرنے کی ذمہ داری ہم نے اٹھائی ہوئی ہے!!