کیا پاکستانی عوام افسردگی کا شکار ہیں؟

213

کیاپاکستانی قوم بحثیت مجموعی (Depression) کا شکار ہے؟ اُردو میں اسے انتہائی افسردگی اور احسا س بے چارگی بھی کہا گیا ہے۔ ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انتہائی افسردگی کی حالت میں مریض کو ان چیزوں میںدلچسپی ختم ہو جاتی ہے جن سے پہلے اسے مزہ آتا تھا۔جو لوگ اس مرض کا شکار ہو تے ہیں، انہیں مشغلوں، دوستوں، کام، حتیٰ کہ کھانے اور مباشرت تک کا شوق بھی نہیں رہتا۔یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے دماغ کے وہ خلیے جو مسرت اور خوشی دیتے ہیں وہ بند ہو جاتے ہیں یا ان کا فیوزاڑ جاتا ہے۔کیا واقعی؟ یا صرف کم ہو جاتا ہے؟اس سے مختلف زاویہ سے دیکھیں، تو کہا جاتا ہے کہ خوشی دینے کے دماغی خلیے بالکل بند نہیں ہوتے۔اصل میں اذیت پسندی تب ہوتی ہے جب کہ وقت کے ساتھ ساتھ، ہماری خوشی اور خوش آئند احساسات کو برقرار رکھنے کی اہلیت نہیں رہتی ۔ دوسرے لفظوں میں خوشی اگر ملتی بھی ہے تو زیادہ دیر تک نہیں رہتی۔ چنانچہ یہ لوگ زندگی کے خوش آئند مواقع سے زیادہ دیر تک محظوظ نہیں رہ سکتے۔اور یاسیست چھا جاتی ہے۔
راقم کو یاد ہے کہ جب پاکستان بنا تھاتو مسلمان خواتین اور لڑکیاں گھر سے باہر آزادانہ آجا سکتی تھیں۔ حتیٰ کہ بائیسکل بھی چلاتی تھیں۔ لیکن بہت جلد ملاوٗں نے مساجد میں انکو برقع پہننے کا حکم دے دیا۔ جو کہ سرا سر ایک بدعت تھی اور سلفی، وہابی جماعتوں نے پھیلائی تھی۔ اس مہم بازی نے عورتوں میں افسردگی کی بنیاد رکھی۔اب سنا ہے کہ پاکستان کی اسی فیصد یا اس سے بھی زیادہ عورتیں ڈیپریشن کا شکار ہیں۔
کیا پاکستانی ایک اذیت پسند قوم ہے۔ ہم اپنے آپ کو اذیت دے کر اطمینان محسوس کرتے ہیں؟ ہمیں ایک سلیقہ مند، نظم و ضبط والی قوم اچھی نہیں لگتی؟ ہم نے آزادی کا مطلب بالکل غلط سمجھا ہے۔ جب ایوب خان نے مارشل لاء لگایا تو فوجیوں کی دہشت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ بلا مزاحمت ہر حکم مانتے تھے۔بس پر جانے والے قطار بنا کر کھڑے ہوتے تھے۔ ریڑھی والوں کو حکم تھا کہ وہ کھانے پینے کی اشیاء کو جالی یا شیشے سے ڈھک کر رکھیں اور انہوں نے راتوں رات ایسا کیا۔ میونسپلٹی نے باقاعدگی سے گلی کوچوں میں صفائی شروع کر دی۔ شام کو سڑکوں پر پانی کا چھڑکائو ہونے لگا۔ ایسا لگتا تھا کہ اچانک دنیا حسین ہو گئی ہے۔ لیکن !یہ سحر زیادہ دیر نہیں چلا۔ ہمیں اپنا ماحول اجنبی سا لگنے لگا اور آہستہ آہستہ یہ سب کام اپنی پرانی شکل اختیار کرنے لگے۔ قطاریں ٹوٹنے لگیں۔ ریڑھیوں سے جالیاںغائب ہونے لگیں اور کوڑے کے ڈھیر پھر سے نظر آنے لگے۔
ایوب خان کے زمانے میں ایک انتہائی ا نقلابی ترقیاتی منصوبہ، امریکی امداد سے شروع کیا گیا جسے ولیج ایڈکہتے تھے۔ اگر اس منصوبہ کو بیس سال بھی چلایا جاتا تو پاکستان کے سب بنیادی مسائل حل ہو جاتے۔ اس میں دیہی ترقی، مقامی حکومتوں کی بحالی، تعلیم بالغاں، خاندانی منصوبہ بندی اور زچہ بچہ کی دیکھ بھال، زراعتی پیداوار میں اضافہ، گھریلو صنعتیں، اور جمہوریت کی نشو ونما سب شامل تھی۔ لیکن ہمارے بڑوں کے لیے ملک میں ایسی دیر پا خوشحالی کا تصور بھی نا قابل برداشت تھا۔ عوام اگر غریب، ان پڑھ اور پسماندہ رہیں تو کیا ہی بات ہے! چنانچہ پروگرام کی افادیت پر ایک جائزہ لیا گیا اور امریکنوں نے امداد نہ دینے کا فیصلہ کر دیا۔ کیونکہ وہ بھی وہی چاہتے تھے جو ہمارے وڈیرے، جاگیر دار اور صنعت کار چاہتے تھے۔سستے اور جاہل مزدور۔
اس زمانے کی کتنی سہانی یادیں باقی رہ گئی ہیں۔ لاہور کے کرشن نگر سے آر اے بازار اور ریلوے سٹیشن تک کے لیے لال رنگ کی لندن میں چلنے والی دو منزلہ بس چلائی گئی۔ اس پر اوپر کی منزل میں بیٹھ کر خواہ مخواہ مال روڈ پر جا کر سیر کرنا، کیا مزے کی بات تھی۔ لیکن ہماری اذیت پسندی نے اسے بھی نہ چھوڑا۔ کچھ مدت کے بعد یہ بسیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں۔ یار داستوں نے اس کی نرم سیٹوں پر چاقو مار مار کر اسکی فوم باہر نکال پھینکی۔اسکے پائیدان پر اتنے لوگ لٹک کر سفر کرنے لگے کہ وہ ٹوٹنے شروع ہو گئے۔ اور پھر حکومت پنجاب نے ان بسوں کو انکی آخری آرامگاہ پر پہنچا دیا اور اومنی بس سروس کے لیے ایک منزلہ بسیں شروع کر دیں۔ ان کی سیٹیں بھی اب بغیر گدی کی تھیں۔اس کے بعد کرشن نگر کے بازار میں جو فٹ پاتھ تھے ان پر دوکانداروں نے سامان فروخت سجا لیا۔سڑک پر ریڑھیوں کی قطاریں لگ گئیں۔ اور ایک اچھی خاصی چوڑی سڑک اتنی سکڑ گئی کہ اس میں سے بس کا گذرنا محال ہو گیا۔ سرکاری بسیں بھی دیکھ بھال کے فقدان سے ٹوٹ پھوٹ کا شکارہنے لگیں۔ پھر اومنی بس کا انتقال پُر ملال ہو گیا اور کسی نجی کمپنی نے عوام کی پریشانی بھانپتے ہوئے ، کسی دوسرے راستے سے اپنی بس چلانا شروع کر دی۔عوام راحت اور آرام کی سہولتوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں کر سکتے تھے۔
ُپی ٹی وی پر اور ریڈیو پر کیا مزے کے ڈرامے اور بات چیت کے پروگرام آتے تھے۔بچوں کے لیے اکڑ بکڑ ایک تعلیم اور تفریحی پروگرام تھا۔ لوگ آج تک الف نون، ففٹی ففٹی وغیرہ کو نہیں بھولے۔ لیکن ارباب اختیار کبھی نہیں چاہتے کہ عوام اپنی اوقات بھول جائیں اور اپنے فارغ اوقات میں بھی خوشی دیکھ سکیں۔ لہذا حتی الامکان کوشش کر کے ان ذرائع کو لپیٹ دیا گیا۔شہروں میں کوڑے کے ڈھیروں کو نہ ہٹا کر عوام کو مستقل یاد دہانی کا ذریعہ بنا دیا گیا کہ وہ اپنے ماحول کو دیکھ کر خود کو ہمیشہ ایک یاسیست کی کیفیت میں رکھیں اور ان پر افسردگی کا دورہ پڑتا رہے۔
یہ تو روز مرہ کی خوشیاں تھیں جنہیں حکمرانوں نے باقاعدگی سے اور سوچی سمجھی بے توجہی سے تباہ ہونے دیا۔ دنیا کی قومیں جو ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوئی تھیں وہ کہیں سے کہیں پہنچ رہی تھیں اور ہم اپنے ہی گھر کی لوٹ مار میں مصروف تھے۔ عوام مستقل ایک نا امیدی کے بحران سے نکل کر دوسرے میں چلی جاتی تھیں۔ ایک صاحب وزیر اعظم بن گئے۔ انہوں نے اپنے جیالوں کو نوکریاں دینے کا ایک ایسا زبردست پروگرام بنایا کہ دنیا عش عش کر اٹھے۔ کیا سکیم تھی؟ اچھے بھلے نجی منافع بخش اداروں کو قومی تحویل میں لے لو۔ پھر ان میں ، بغیر کسی معیار اور اہلیت کے اپنے وفا دار جیالوں کونوکریاں دلوا دو۔ اس کا نتیجہ وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔اچھے بھلے چلتے ہوئے سکول، بینک، بڑی بڑی منافع بخش صنعتیں، پاکستان کی مایہ ناز سٹیل مل، پی آئی اے، سب سرکاری افسروں کے حوالے کر دی گئیں۔ ان افسروں نے کبھی دس ہزار کا بزنس نہیں چلایا تھا اور اب وہ اربوں کا بزنس چلانے کے اہل بن گئے۔ اللہ کی شان ہے۔ عوام بے بس دیکھتے رہے اور مزید افسردہ ہوتے رہے ۔ان کا دماغ ان کو جواب دے رہا تھا۔ ہر طرف مایوسی اور یاسیست نظر آتی تھی۔
پاکستان کے مذہبی رہنما، اسلام کی ایک انتہائی فرسودہ تشریح پھیلانے میں مصروف رہے۔ عورتوں کو گھروںمیں بند رکھنے کا پرچار کرتے رہے جو حکم صرف رسول اللہ کی زوجات کے لیے تھا، وہ سب کے لیے دے دیا ۔ انہوں نے توتعلیم کے خلاف بھی عوام کو گمراہ کیا، یہ کہہ کر کہ دنیاوی تعلیم ہمیں کافر بنا دے گی۔ پھر انہوں نے خاندانی منصوبہ بندی کے خلاف مہم بازی کی اور اس کام میں انہوں نے وڈیروں ، جاگیر داروں، فوج اور صنعت کاروں کا ایجنڈا آگے بڑھایا۔
چونکہ خاندانی منصوبہ بندی کے لیے امداد مغربی ممالک خصوصاً امریکہ سے آتی تھی، مذہبی قائدین نے امریکہ کے خلاف محاذ کھڑا کرلیا۔اس کو تقویت اسرائیل سے دشمنی سے بھی ملی۔ جن فلسطینیوں نے پاکستان سے زیادہ بھارت سے دوستی جتائی، ہم ان کے لیے اپنی ہر خوشی، ہر بھلائی اور ملکی مفاد چھوڑتے رہے۔ یہ بھول گئے کہ ہمارے کڑے وقت میں اگر امریکہ ہمارے کام نہ آتا تو کیا ہوتا؟ یہ بھی نہ سوچا کہ جن سعودیوں کے ٹکڑوں پر آپ کے مدرسے چلتے ہیں، وہ سعودی کس طرح امریکہ کے آگے گھٹنے ٹیکتے ہیں؟ در حقیقت امریکہ، برطانیہ، سویڈن، ڈ نمارک، ناروے، فرانس وغیرہ سب نے پاکستان کو امداد سے نوازا۔لیکن ہم نا شکروں کی طرح انہیں برا بھلا کہنے سے باز نہیں آئے۔ یعنی ہمیں کسی جانب سے بھی خوش ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ مرو، کمبختو۔
ہم اتنے یاسیت یا اذیت پسند ہو چکے ہیں کہ اگر ہمیں دنیا سے کبھی کبھار کوئی اچھی خبر بھی ملے تو ہم اسے دھتکار دیتے ہیں۔ نہیں جس بندے کو دنیا نواز رہی ہے وہ ہم میں سے ہے ہی نہیں۔ ہم کہاں اس قابل کہ دنیا کا بہترین سائینسدان پیدا کریں۔ اگر دنیا ڈاکٹر عبدلسلام کو دنیا کا بہترین سائینسدان قرار دے کر اسے نوبل پرائز سے نوازتی ہے تو ہم کو مرگی پڑ جاتی ہے۔ نہیں ۔ نہیں، یہ تو قادیانی ہے۔ کافر ہے۔ اسکو اعزاز دیناہمیں قبول نہیں۔ نہ ہم اسے پاکستانی مانتے ہیں اور نہ انسان۔ وہ تو ملعون ہے۔اتنی نفرت؟ اس کو چھوڑیں، دنیا والوں نے جو کم ہی مسلمانوں کو اور خاص طور پر کسی پاکستا نی کو کسی عالمی اعزاز کا حقدار سمجھتے ہیں ، انہوں نے ایک پاکستانی لڑکی کو نوبل کے انعام کا حقدار ٹہرایا۔ یہ دنیا کی سب سے کمسن نوبل پرائز یافتہ تھی اور پاکستان کی پہلی خاتون۔ یہ تھی نہ کتنی خوشی کی بات؟ نہیں جی۔ ملالہ یوسف زئی تو ایک غیر اسلامی کام کر رہی تھی۔ وہ لڑکیوں کی تعلیم کی باتیں کرتی تھی جو ہمارے عزیز از جان، پیارے طالبان کو سخت نا پسند تھا۔ یہ لڑکی جو جان بچا کر یورپ چلی گئی تھی، اگر پاکستان میںآئی تو اس کی خیر نہیں۔ اسے ہمارے پیارے، اللہ کے جا نثار،خود کش حملہ آور، دنوں میںجہنم رسید کر دیں گے۔ ہم پاکستانی ہیں۔ ہم اتنی خوشی برداشت نہیں کر سکتے کہ دنیا ہمیں کسی بھی اعزاز کے قابل بھی سمجھے۔ اگر کسی کو بھی دوبارہ اعزاز دیا گیا ہم اس میں اتنے کیڑے نکالیں گے کہ رہے رب کا نام۔
جمہوریت سے ہم نالاں ہیں۔ آج تک قومی اسمبلی میںایک ڈھنگ کا اجلاس نہیں ہوا۔کرپشن اسقدر رس بس گئی ہے کہ عوام الناس اسی کو معمول سمجھتے ہیں۔ہمارے ادارے ایسا لگتا ہے خدا نہ کرے، کرپٹ سیاستدانوں نے خرید رکھے ہیں۔نواز شریف نا اہل اور بے ایمان قرار دیا گیا مگر وہ بجائے سزا بھگتنے کے، پاکستان کے سر پر ایک عفریت بن کر سوار ہے۔میڈیا میں لفافہ صحافیوں کا طوطی بولتا ہے۔ہم عمران خان کی منتخب حکومت کو پانچ سال بھی نہیں دینا چاہتے۔ ہم عمران خان کے خلاف ہیں۔ وہ اس لیے کہ وہ ہماری اوپر کی آمدنی، اور اس سے حاصل کردہ عیش و آرام کے خلاف ہے۔ وہ نہیں چاہتا کہ اوپر کی آمدنی ہو۔اگر پاکستان کو پہلی مرتبہ ایک ایماندار اور ہمدرد سیاستدان مل گیا ہے تو ہمیں کیوںمڑوڑ اٹھ رہے ہیں؟ مخالفین اس کے خلاف اتحاد بنا کر سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستانیوں سے ان کی آخری امید چھین لیں گے، تو وہ بھول جائیں۔ پاکستانی اب جاگنا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ ان سب وطن دشمن سیاستدانوں کو گھر بھیج کر ہی سکھ کا سانس لیں گے۔ آخر افسردگی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔