پی ڈی ایم پاکستان کے اتحاد کی علامت

304

پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سیاستدانوں کے دو مرتبہ اتحاد قائم ہوئے جو مکمل طور پر پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف قائم ہوئے جس میں جنرل ضیاء کے خلاف ایم آر ڈی یا پھر آج کا پی ڈی ایم وجود میں لایا گیا جس میں ملک بھر کی قومی مذہبی اور قوم پرست پارٹیاں ہیں جن کا ایک بہت بڑا ایجنڈا ہے کہ پاکستان کے اداروں کو آزاد اور خودمختار کیا جائے۔ فوجی جنرلوں کی سیاست میں مداخلت بند کی جائے۔ موجودہ مسلط حکومت کا خاتمہ کیا جائے۔ ملک میں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد کیا جائے۔ عوام کو درپیش مسائل کاحل ڈھونڈا جائے۔ عوام کو مہنگائی، بیروزگاری، بھوک، ننگ سے نجات دلوائی جائے۔ بین الاقوامی ساہو کاروں سے ملک آزاد کرایا جائے۔ پاکستان کو خارجی، داخلی محاذوں پر مضبوط کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ اگر موجودہ پی ڈی ایم کے اتحاد میں شامل تمام پارٹیوں پر نظر دوڑائی جائے تو پتہ چلتا ہے کہ ہر پارٹی کا اپنا اپنا مقام ہے جن کی جمہوریت کے لئے جدوجہد اور قربانیاں موجود ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے کارکنوں اور قیادتوں نے بے تحاشا جانی و مالی قربانیاں دی ہیں جس میں بانی پی پی پی ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی، بیٹی بے نظیر بھٹو کو قتل اور دو صاحبزادوں کو قتل کیا گیا۔ کارکنوں پر کوڑوں کی بارش برسائی گئی۔ جو کل ایم آر ڈی اور آج موجودہ پی ڈی ایم کی اتحادی پارٹی ہے۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے وزیراعظم نواز شریف کو تین بار حکومت سے غیر قانونی اور غیرآئینی طور پر ہٹایا گیا۔ بار بار جیل میں ڈالا گیا۔ خاندان سمیت پابند و سلاسل کیا گیا، جلا وطن کیا گیا جو آج بھی ملکی اداروں کے جبر و تشدد کی وجہ سے ملک چھوڑ کر برطانیہ میں پناہ گزین ہیں جن کی حکومت میں مداخلت کرنے والے جنرلوں سے اختیارات کی جنگ طول پکڑ چکی ہے جس کا میدان جنگ پنجاب بن چکا ہے۔پی ڈی ایم میں شامل تین مذہبی پارٹیاں جمعیت اسلام،جمعیت علمائے پاکستان، اہل حدیث ہیں جن میں جمعیت اسلام دراصل جمعیت الہند کی کوکھ سے پیدا شدہ مذہبی جماعت ہے جس نے برطانوی استعماریت کے خلاف بے تحاشہ آزادی ہند کے لئے قربانیاں دی ہیں آج کی جمعیت کے سربراہ سابقہ سیاستدان مفتی محمود کے صاحبزادے مولانا فضل الرحمن ہیں جو ماضی میں ایم آر ڈی کا حصہ رہ چکے ہیں جو آج کی پی ڈی ایم کے سربراہ ہیں جن کی مسلسل چالیس سالہ جدوجہد قابل ستائش ہے۔ اتحاد کی ایک اور مذہبی جماعت جمعیت علما پاکستان کے سربراہ اویس نورانی صاحب ہیں جن کے والد محترم شاہ احمد نورانی تھے جنہوں نے 70کی دہائی میں سیاست میں اہم رول ادا کیا۔ آئین پاکستان پر دستخط کئے،افغان جہاد یا فساد کی مخالفت کی تھی، پانچواں گروپ قوم پرست پارٹیوں کا ہے جن کے آبائو اجداد ولی خان، غوث بخش میر بزنجو، عطاء اللہ مینگل نے سیاست میں بے تحاشا قربانیاں دی ہیں جن کے والدین نے آئین پاکستان پر دستخط کر کے بچے کھچے ملک کو متحد اور منظم کیا جو آج پاکستان نظر آرہا ہے۔ اگر وہ آئین پاکستان کو منظور نہ کرتے تو ٹوٹا پھوٹا ملک مزید بکھر جاتا جن کا تعلق پاکستان کی مشہور جمہوری اور ترقی پسند پارٹی نیشنل عوامی پارٹی کے ساتھ تھا جس پر دو مرتبہ پابندیاں عائد رہی ہیں جن کی اولادیں اسفند یار ولی خان، اختر مینگل، طاہر بزنجو کی شکل میں موجود ہیں جو دوسری اور تیسری نسل سے تعلق رکھتے ہیں جن کے آبائو اجداد نے انگریزوں کے خلاف تحریکوں میں حصہ لیا جو آج بھی پاکستان میں جمہوریت کی بحالی اور صوبوں کی خودمختاری کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں جس کی نایابی کی وجہ سے کل ملک ٹوٹا تھا جس کے بادل آج بھی پاکستان پر چھائے ہوئے ہیں۔ تاہم پی ڈی ایم میں ملک کی تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے موجود ہیں جن کی پاکستان بار کونسل نے رہنمائی کرتے ہوئے اجلاس بلا کر اتحاد قائم کیا جو آج رنگ لارہا ہے جس نے موجودہ مسلط حکومت او ران کے سہولت کاروں کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں جن کی قیادت مولانا فضل الرحمن، نواز شریف، زرداری، اسفندیارولی، اچکزئی، اختر مینگل، ڈاکٹر عبدالمالک، اویس نورانی، شیر پائو، پروفیسر ساجد میر، مریم نواز، بلاول بھٹو، داوڑ اور دوسرے حضرات قابل ستائش ہیں جو دن رات عوام کے حقوق کے حصول اور مسائل کے حل کے لئے کوشاں ہیں جن کا واسطہ ایسے بھیڑیوں سے پڑا ہوا ہے جو بھیڑ کی کھال پہن کر بھیڑوں کے غلوں میں گھسے ہوئے ہیں جو ظاہراً عمران خان نظر آتے ہیں مگر اندر کچھ اور ہیں جن کی وجہ سے کل ملک ٹوٹا تھا جب انہوں نے اکثریت کو اقتدار سے محروم کیا تھا جو آج بھی اکثریت کی بجائے اقلیت کو ملک پر بوجھ بنا چکے ہیں ایسے میں پی ڈی ایم کا اتحاد لازم و ملزوم ہے جس کی وجہ سے شاید پاکستان بچ جائے گا جس کی شکل آج بھی وہی ہے جو 1971ء اور پاکستان کے ٹوٹنے کے بعد تھی جس کو ولی خان، بزنجو، عطا اللہ مینگل، مولانا نورانی، مفتی محمود نے بچایا تھا اگر وہ آئین پاکستان پر دستخط نہ کرتے تو موجودہ پاکستان نہ ہوتا جس وقت ملک ٹوٹ کر اپاہج ہو چکا تھا جس کو بھی ہندوستان بنگال کی طرح ہڑپ کرنا چاہتا تھا مگر موجودہ نسلوں کے آبائو اجداد نے اپنی عقل و شعور سے بچایا تھا جسکو آج پھر ٹوڑا جارہا ہے۔