’’سن صاحبہ سن‘‘

232

دنیا میں بہت سے لوگ بہت سا کام کرتے ہیں لیکن خوش نصیب وہ ہوتے ہیں جن کا کام لوگوں کو یاد بھی رہ جائے اور خاص طور سے جب کہ انہوں نے بہت زیادہ دن تک یا بہت زیادہ کام کیا بھی نہ ہو ایسا ہی ہوا راجیو کپور کے ساتھ ۔راجیو کپور بالی وڈ کے مشہو اداکار، ڈائریکٹر پروڈیوسر اور شومین راج کپور کے سب سے چھوٹے بیٹے تھے، راج کپور صاحب کے بڑے بیٹے رندھیر کپور، منجلے بیٹے رشی کپورکے بعد راجیو کپور تھے جن کی پیدائش 25اگست 1962ء کو ہوئی تھی، ایک بڑے فلمی گھرانے میں پیدائش کے باعث ان کا فلموں میں آنا بھی ایک نارمل سی بات تھی۔
1983ء میں راجیو کپور نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ فلم ’’ایک جان ہیں ہم‘‘ سے جس کے بعد ان کی کئی اور فلمیں بھی آئیں۔ شمی کپور ان کے چچا تھے اور اپنے دور کے مقبول ترین ہیرو، راجیو کپور کی مشابہت حیرت انگیز طور پر اپنے چچا سے تھی اتنی زیادہ کہ شمی کپور کی کوئی پرانی تصویر اٹھا کر دیکھیں تو وہ ہو بہو راجیو کپور ہی لگتے تھے۔
راجیو کپور اداکار تو اچھے تھے لیکن جو ڈائریکٹر بھی انہیں کاسٹ کرتا اس کے ذہن میں وہی نوجوان شمی کپور اور اس کی اداکاری ہوتی اور وہ راجیو سے فرمائش کرتے کہ ویسے ہی اداکاری کرو، اگر کسی شاٹ میں ان کو لگتا کہ راجیو ایسا نہیں کر سکتے ہیں تو دوبارہ شاٹ لیتے اسی لئے راجیو کپور میں ہمیشہ شمی کپور کی جھلک نظر آتی۔ ایک بڑے فلمی گھرانے سے تعلق کی بنا پر راجیو کپور کا فلموں میں کام کرنا معمول کی بات تھی۔
راج کپور نے اپنے بیٹے رشی کپور کو باقاعدہ لانچ کیا فلم بوبی میں جبکہ اس سے دس سال چھوٹے راجیو کپور کے لئے کوئی ایسا اہتمام نہیں کیا گیا تھا، وہ دو تین فلمیں کر چکے تھے جس کے بعد ان کو ان کے والد نے اپنی فلم میں موقع دیا۔
راج کپور کے ساتھ یہ مسئلہ نہیں تھا کہ وہ راجیو کو شمی کپور جیسا نظر آتا دیکھنا چاہتے تھے۔ انہوں نے راجیو کپور کو اپنے انداز سے اداکاری کرنے کا موقع دیا اور یہی وجہ تھی کہ ان کی وہ فلم جو راج کپور صاحب نے بنائی تھی سب سے زیادہ کامیاب ثابت ہوئی یعنی ’’رام تیری گنگا میلی‘‘ جو 1985ء کے آخر میں ریلیز ہوئی تھی، راجیو کپور راتوں رات سٹار بن گئے، اکثر ہیروز کامیابی سے ہمکنار ہونے کے بعد بہت ساری فلمیں سائن کر لیتے ہیں لیکن راجیو کپور نے ایسا نہیں کیا۔
’’رام تیری گنگا میلی‘‘ کے بعد 1985ء میں ’’لور بوائے‘‘ ہم تو چلے پردیس 1988ء میں کام کیا۔ 1990ء میں انہوں نے ریکھا اور دلیپ کمار کے ساتھ ’’آگ اور دریا‘‘ نامی ایک فلم میں کام کیا تھا لیکن یہ فلم بھی ریلیز نہیں ہوئی۔ 1991ء میں انہوں نے فلم ’’حنا‘‘ پروڈیوس کی جس کو ان کے بھائی رندھیر کپور نے ڈائریکٹ کیا تھا جبکہ اس فلم کو پروڈیوس اور ڈائریکٹ راج کپور صاحب کوکرنا تھا لیکن ان کی اچانک موت کے بعد سب کو لگتا تھا کہ اب یہ فلم بن نہیں پائے گی کیونکہ حنا کا صرف ایک گانا ریکارڈ ہوا تھا اور باقی کوئی شوٹنگ نہیں ہوئی تھی۔
آنجہانی راج کپور کے بیٹوں نے فیصلہ کیا کہ وہ یہ فلم بنائیں گے چنانچہ سب سے بڑے بیٹے رندھیر کپور نے ڈائریکشن سنبھالی، راجیو کپور نے پروڈیوس کی اور فلم کے ہیرو تھے رشی کپور۔ راج کپور کا خواب ’’حنا ‘‘ تھی جسے حقیقت کا روپ ان کے تینوں بیٹوں نے دلوایا بلکہ یہ نہایت کامیاب فلم ثابت ہوئی، اسی لئے لوگ آج تک ’’حنا‘‘ یعنی زیبا بختیار کو یاد کرتے ہیں اور ان پر فلمایا گانا ’’میں ہوں خوش رنگ حنا‘‘ بھی۔
حنا کے بعد راجیو کپور نے 1996ء میں ایک بار پھر اپنے آپ کو ڈائریکٹر کے طور پر منوایا، پریم گرنتھ جیسی کامیاب فلم بنا کر اس فلم میں مادھوری ڈکشٹ اور رشی کپور تھے۔ 1999ء میں رشی کپور کی پروڈیوس کی ہوئی فلم ’’آ اب لوٹ چلیں‘‘ کے ڈائریکٹر بھی راجیو کپور تھے۔
راجیو کپور کی شادی 2001میں آرتی سبروال سے ہوئی جو پیشے کے اعتبار سے آرکیٹکٹ تھیں مگر یہ کامیاب نہیں ہو سکی اور 2003ء میں ختم ہو گئی۔
تیس سال بعد وہ فلموں میں واپسی کا ارادہ کررہے تھے انہوں نے تلسی داس جونیئر میں کام کیا، شوٹنگ مکمل ہو گئی تھی کہ 9فروری 2021ء کو خبر آئی کہ 58سالہ راجیو کپور دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔
راجیو کپور نے جتنا کام کیا اچھا کیا، ان کے پرستاروں کو انتظار رہتا کہ اپنے بھائی رشی کپور کی طرح راجیو کی بھی بہت ساری فلمیں آئیں، رشی کپور راجیو سے دس سال بڑے تھے، راجیو کپور کا کیریئر کم تھا اور اسی طرح ان کی زندگی تھی۔
راجیو کپورانڈین سینما کو ’’رام تیری گنگا میلی‘‘ جیسی ہٹ فلم دے گئے، ہیرو کے طور پر وہ آج جسمانی طور پر اس دنیا میں نہیں لیکن ان کے پرستار جب چاہیں یوٹیوب پر انہیں ’’سن صاحبہ سن‘‘ پر ہنستے مسکراتے دیکھ سکتے ہیں۔