پاکستان نہ کھپے کا نعرہ لگانے والی نواز لیگ نے اپنے آپ کو پاکستان کی ریاست اور عوام کے سامنے برہنہ کر لیا!

245

گزشتہ ہفتے مسلم لیگ(نواز) کے ایک رہنما جاوید لطیف نے ایک ٹی وی ٹاک شو میں نیشنل نیٹ ورک پر کھلے عام یہ دھمکی دی کہ جب بے نظیر بھٹو کے قتل کے موقع پر ان کے شوہر آصف علی زرداری نے کہا تھا کہ پاکستان کھپے تو مسلم لیگ یہ نعرہ نہیں لگائے گی۔ یاد رہے کہ ’’کھپے‘‘ ایک سندھی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ’’ہم پاکستان چاہتے ہیں‘‘۔ آصف زرداری نے یہ نعرہ اس وقت لگایا تھا جب پورے سندھ میں بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد کراچی سمیت فسادات پھوٹ پڑے تھے اور کچھ قوم پرست سندھو دیش کا نعرہ لگارہے تھے۔ آصف علی زرداری کے اس نعرے کو بلند کرنے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ انہیںپاکستان سے محبت تھی بلکہ ان کو نظر آرہا تھا کہ اگر فسادات بڑھے تو سندھ میں مارشل لاء لگ جائے گا جس کے نتیجے میں ان کی حکومت جو سندھ کو سالوں سے دونوں ہاتھوں سے لوٹ کر کھا رہی تھی بلکہ کراچی کو تو نوچ کر کھا رہی تھی تو وہ جانتی تھی اور ان کی پارٹی کی طرف سے جو اندھا دھند لوٹ کھسوٹ اور ڈاکو راج جاری تھا وہ ختم ہو جاتا۔ لہٰذا ان کے بہترین مفاد میں یہ تھا کہ وہ بے نظیر بھٹو کے قتل کو کیش کریں اور وفاق میں بھی ہمدردی کا ووٹ حاصل کر کے حکومت بنا لیں اور اس کے ساتھ ساتھ کراچی کو لوٹتے رہیں۔ گزشتہ ہفتے نواز لیگ کے میاں جاوید لطیف نے پاکستان نہ کھپے کا جو نعرہ لگایا اس کی تردید مریم ون اور مریم ٹو سمیت ن لیگ کے کسی لیڈر نے نہیں کی اور نہ ہی مذمت کی جس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان توڑنے اور پاکستان مردہ باد کی سوچ کو پروان چڑھانا نواز لیگ کی آفیشنل پالیسی ہے۔ بقول فواد چودھری، میاں جاوید لطیف تو ایک احمق بندہ ہے اسے جو ٹیپ ریکارڈ کر کے دیا گیا وہ اس نے چلادیا۔ یہ وہ ہی گھٹیا شخص ہے جس نے پی ٹی آئی کے رہنما کے جارحانہ انداز سے تنگ آ کر بجائے اس کا جواب دینے کے یہ الزام لگا دیا کہ مراد سعید جو عمران خان کی اس قدر حمایت کرتا ہے اور بڑھ چڑھ کر بولتا ہے اصل میں عمران خان رات کو چھپ چھپ کر اس کے گھر آتا ہے اس کی دو جوان بہنوں کے ساتھ رات گزارنے کے لئے جس کے بعد مراد سعید نے اس چھچھورے شخص کے گریبان پر ہاتھ ڈال دیا تھا۔ تو یہ تو اس گھٹیا شخص کی ذہنی سطح اور سوچ ہے۔پی ڈی ایم کی اس پارٹی کی قیادت ملک سے باہر ہے اور ورکرز کو استعمال کررہی ہے جو بے چارے اپنی وفاداریاں ثابت کرنے کے لئے ذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ اب زرداری کے استعفے نہ دینے کے حوالے سے بیان نے نواز لیگ اور اس اتحاد کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔ زرداری نے صاف طور پر کہہ دیا ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت تک استعفیٰ نہیں دے گی جب تک نواز شریف پاکستان نہیں آجاتا۔ یعنی میں نہ ہی سمجھوں! نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی۔ نہ نواز شریف آئے گا نہ استعفے آئیں گے اور نہ دھرنا یا مارچ ہو گا۔اب ہو یہ رہا ہے کہ مریم نواز اور آصف زرداری ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی کررہے ہیں اور فضل رحمان ان دونوں کو ملامت کررہے ہیں۔ کہاں کی مہنگائی، کیسی بدحالی، کون سی ذخیرہ اندوزی، سب مسائل پس پشت چلے گئے ہیں، عوام حیران ہیں کہ ان کے مسائل کا حل یہ لوگ کریں گے جو آپس میں ہی ایک نکتے پر متفق نہیں ہو سکتے۔