جمہوریت کچھ بھی نہیں سیاستدانوں کی خود حکمران بننے کی کہانی ہے

214

ہماری بڑی بد قسمتی ہے کہ ہمارے ہاں سیاسی میدان میں ایسے قد آور سیاسی لیڈرز دور دور کہیں دکھائی ہی نہیں دیتے جو جذبۂ خدمت کے ساتھ میدان سیاست کے کھلاڑی ہوں ہمارے ہاں تو ایسے سیاستدانوں کی فوج ظفر موج دکھائی دیتی ہے جو میدان سیاست میں شاید اس جذبے اور شوق کے ساتھ قدم رکھتے ہیں کہ ان کا رتبہ بلند ہو جائے ان کے مال و اسباب میں اضافہ ہو جائے، ان کی قدر و منزلت بڑھ جائے، عوام ان کے لیے فرش راہ تو ہوں لیکن وہ پر وٹوکول کی دھول اْڑاتی ہوئی گاڑیوں میں اس شان سے گزر جائیں کہ وہ اپنے آپ کو حاکم اور عوام کو حقیر جانیں اور سمجھیں شاید یہی سوچ تو ہے کہ ایک عام آدمی کے لیے ممکن ہی نہیں کہ کاروبار مملکت میں شریک ان شہزادوں اور شاہزادیوں سے ملاقات بھی کر سکے اور اپنا دکھ بیان کرسکے۔
ہمارے ملک کو آزادی حاصل کیے ہوئے 74سال گزر گئے اتنے طویل عرصے میں تو ہمارے ملک کی تعمیر اور ترقی اپنی مثال آپ ہونی چاہیے تھی لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کتنے لیڈر آئے اور اپنا بھرپور اور منافع بخش سیاسی سفر مکمل کرکے اپنی آنے والی نسلوں کو تو ملکی سیاست اور انتظامی مشینری میں فعال کردار پر مامور کر گئے لیکن ایک عام فرد کا معیارِ زندگی پہلے سے ابتر ہوگیا۔ آج جب لوگوں کی محفلوں میں چلے جائیں تو سننے کو ملتا ہے کہ ہمارے زمانے میں فلاں فلاں چیزیں ارزاں نرخ پر دستیاب تھیں امن وسکون کا یہ عالم تھا کہ لوگ چین کی نیند سوتے تھے آخر آج لوگ گزرے ہوئے زمانے کو کیوں یاد کر رہے ہیں، عام آدمی کا مسئلہ نہ سینیٹ الیکشن کل تھا نہ ہے عام آدمی تو یہ چاہتا ہے کہ اس کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسئلے حل ہو جائیں، عوام تو یہ سن سن کر عاجز آگئے ہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے ملک کے معاشی مسائل حل کرنے کے نام پر قرضوں کے انبار لگا دئیے ہیں آج اکثر سمجھدار طالب علم سوال کرتے ہیں کہ یہ قرضے لینے والے اور اس کے حصول کی منظوری دینے والے ہیں کون اور پھر اربوں کا ایک سوال پوچھا جاتا ہے کہ یہ قرضے لیے کس کے لیے گئے اور خرچ کہاں کہاں ہوئے اور تو اور امور خانہ داری انجام دینے والی گھریلو خواتین جب آئے دن پٹرول، گیس اور بجلی کے نرخوں میں اضافے کا سنتی ہیں تو سر پیٹ کر رہ جاتی ہیں اور ایک دوسرے سے سوال کرتی کہ ابھی تو بجلی، گیس اور پٹرول کے پیسے بڑھے تھے پھر بڑھ گئے آخر اس ملک کا کیا ہو گا۔
یہ عوامی نمائندے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ملک کے غیور اور غریب عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آئے ہیں اور ان کی کلیدی ذمے داری ہے کہ یہ ریاست پاکستان کے عوام کے حقوق کی حفاظت کر یں عوام کو ان کے بنیادی حقوق کی فراہمی میں اپنا اہم کردار ادا کریں، مملکت کے معاشی نظام کو مساوی بنیاد پر استوار کرنے میں اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں عوام انہیں اس لیے منتخب نہیں کرتے کہ یہ انتخابات میں کامیابیاں حاصل کرکے اپنی اور اپنے اعزائو اقربا اور دوستوں کی ترقی اور بہتری کے کاموں کو فوقیت دیں اور عوامی مسائل اور معاملات کو پش پشت ڈال دیں خود بھی عیش کی زندگی سے لطف اندوز ہو ںاعزاء اور اقربا بھی، جبکہ غریب بے چارہ قرض کے بوجھ تلے دب کر انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور رہے یہ کیسے عوامی نمائندے ہیں کہ انہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کے حلقۂ انتخاب میں کتنے مجبور اور لاچار ہیں کتنے غریب اور کمزور ہیں، کتنی بیوائیں اور کتنے یتیم ہیں، کتنے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور کتنے مالی مجبوریوں کے سبب تعلیم جیسی نعمت سے محروم ہیں اور کتنے ایسے ہیں کہ سر چھپانے کا ٹھکانہ حاصل کرنے کی خواہش دل میں لیے منوں مٹی تلے جا سوئے اور کتنے ہی ایسے ہیں کہ جو اپنے معصوم بچوں کی خواہشات کی تکمیل نہ کرنے کے سبب جان کی بازی ہار بیٹھے یہ باتیں ہمارے سیاستدانوں کے سوچنے کی ہیں کہ وہ عوامی مسائل حل کرنے کی جستجو میں دن و رات ایک کریں لیکن یہاں تو معاملہ ہی الٹا ہے، عوام کی کوئی فکر نہیں فکر ہے تو اس بات کی کہ ریاستی اداروں میں کس طرح پہنچا جائے چاہے وہ ادارے سیاسی ہوں یا انتظامی خود نہیں تو گھر کا کوئی بندہ ضرور وہاں تک پہنچ جائے علاقے یا شہر کی نمائندگی صوبائی اسمبلی ہو یا قومی اسمبلی اور اب تو معاملہ سینیٹ تک جا پہنچا ہے بساط شطرنج بچھی ہوئی ہے دام لگ رہے ہیں اور کچھ مخصوص لوگوں کی خواہش تھی کہ ان ہی کہ بندے سینیٹ کے رکن منتخب ہو جائیں اور سب سے بڑھ کر ایک عام آدمی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ اعلیٰ عدلیہ بھی اس سارے کھیل کو دیکھ رہی ہے آخر یہ کب اپنا مثبت کردار ادا کرے گی کہ ملک سے سیاسی داو پیج کا یہ مکروہ کھیل کب ختم ہوگا اور عوام کو ایک ایسی حقیقی جمہوری حکومت کب ملے گی جو عوام پا کستان کی نمائندہ بھی اور جس میں عوام کا دکھ درد رکھنے والے لیڈر عوامی قیا دت کا بوجھ اٹھائے نظر آئیں ورنہ سابقہ ادوار میں تو جتنی بھی حکومتیں ہمیں دکھائی دیتی ہیں ان میں بھی سب وہی لوگ دکھائی دیتے ہیں جنہوں نے ملکی قرضوں کا بوجھ کم کرنے کے بجائے ان میں بے حساب اضافہ کیا اور آج کے حکمران بھی ایسے ہی ہیں جو اس حکمت اور دانائی سے محروم ہیں کہ ملکی قرضوں کا بوجھ کم کرنے کی کوئی تدبیر کرسکیں۔
ہمارے ملک کے عوام جمہوریت کا راگ تو ضرور سنتے ہیں لیکن ہمیشہ ہی سے حقیقی عوامی جمہوریت سے دور ہیں اور عوام کو جمہوریت سے دور رکھنے والے کوئی اور نہیں بلکہ وہی سیاسی پنڈت ہیں جو بات تو جمہوریت کی کرتے ہیں لیکن ان کی اپنی سیاسی جماعتوں میں دور دور تک جمہوریت کہیں دکھائی نہیں دیتی کچھ مخصوص خانوادے ہیں جو سیاسی انڈسٹری میں مال لگا کر اس منافع بخش صنعت سے کثیر منافع حاصل کرنے کی شب و روز محنت میں مصروف ہیں اگر وہ ا قتدار میں ہیں تو ملک میں جمہوریت کا راج ہے اور اگر وہ اقتدار سے دور ہیں ملک میں جمہوریت پامال اگر انہیں اور ان کے ساتھیوں کو سیاسی ایوانوں تک پہنچانے میں جائز اور ناجائز سارے ہی طریقہ کار بروئے کار لائے جائیں تو جمہوریت سرخرو ہے ورنہ جمہوریت کو خطرہ چاہے جمہور کتنے ہی ابتلا میں کیوں نہ ہو جمہوریت کے علمبرداروں کو اس کی کوئی پروا نہیں اب اس تمام تر صورت حال میں عوام کی نظریں حکومت اور اپوزیشن دونوں پر ہیں کہ اب میدان سیاست کے یہ آزمودہ کار لوگ قومی ترقی میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ اللہ خیر کرے اور ہمارے قومی مستقبل کی حفاظت کرے۔