نوجوان نسل کی کردار سازی

212

پاکستان میں جس کسی تعلیمی ادارے میں ٹاک دینے کا موقع ملتا ہے سٹوڈنٹس کی کردار سازی پر بات کرنا چاہتی ہوں۔ سٹوڈنٹس کے اندر کئی تہذیبوں کی ثقافت اور زبانوں کے کنفیوژن کی تشخیص اور اس کا حل بیان کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔ حال ہی میں یونیورسٹی آف لاہور کا وزٹ کرنے کا بھی موقع ملا۔پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر مجاہد علی کامران جو ایک طویل عرصہ پنجاب یونیورسٹی میں اپنی بھر پور خدمات انجام دے چکے ہیں، چند سالوں سے بطور وائس چانسلر یونیورسٹی آف لاہور میں بھی اپنی صلاحیتوں کو منوا چکے ہیں۔ یونیورسٹی آف بلوچستان کے سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال بھی یونیورسٹی آف لاہور کو جائن کر چکے ہیں۔تین برس قبل کوئٹہ یونیورسٹی کاوزٹ بھی کر چکی ہوں اور بلوچستان کی غیر مستحکم اور متنازعہ سیاسی صورتحال کے باوجود وائس چانسلر ڈاکٹر جاوید اقبال کی صلاحیتوں اور حب الوطنی کے سبب کوئٹہ کی یونیورسٹی کا شمار ملک کی بہترین یونیورسٹیوں میں ہوتا تھا۔ بد نصیبی سے ڈاکٹر جاوید اقبال کے چلے جانے کے بعد غداروں کو یونیورسٹی کا ماحول خراب کرنے کا پھر کھلا موقع مل گیا۔ بلوچستان یونیورسٹی میں ہمارے وزٹ کا مقصد مومنہ چیمہ فاؤنڈیشن کے وظائف کا انعقاد تھا۔ ڈاکٹر جاویداقبال نے خیر مقدم کیا اور مومنہ چیمہ فائونڈیشن کے مابین ایک مفاہمتی یادداشت کے سمجھوتے پر دستخط ہوئے۔مفاہمتی سمجھوتے کے تحت دونوں ادارے ایک دوسرے کے باہمی مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے مختلف عالمی شعبوں میں مشترکہ طور پر تعاون و اشتراک عمل کو بروے کار لانے کا عزم کیا گیا۔ڈاکٹر جاوید اقبال کوئٹہ کے بعد یونیورسٹی آف لاہور کے ساتھ منسلک ہوگئے۔ڈاکٹر جاوید اقبال نے یونیورسٹی آف لاہور کا وزٹ کرایا تو یوں لگ رہا تھا جیسے ہم مغرب کی کسی یونیورسٹی کا وزٹ کر رہے ہیں۔پرائیویٹ سیکٹر کی سب سے بڑی اور ماڈرن طرز کی تعمیر شدہ اس یونیورسٹی نے بہت متاثر کیا۔سٹوڈنٹس سے بھی گفتگو کا موقع ملا۔ کردار سازی پر ٹاک دی تو دیکھ کر مسرت ہوئی کہ ہماری نوجوان نسل ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی بے راہ روی اور کنفیوز نظام تعلیم سے متعلق ہمارے سچے کھرے اور حقائق پر مبنی کڑوے تجزیے کی بھر پور حمایت کر رہی تھی۔یونیورسٹی آف لاہور کی عمارت، سہولیات، جدید سٹرکچر اور نظام دیکھ کر یونیورسٹی کے بانی عبد الرئوف صاحب کی کاوش اور منصوبہ بندی کو داد دئیے بغیر نہیں رہ سکے۔درسگاہوں میں بے راہ روی کے چند ایک واقعات پوری درسگاہ کا امیج خراب کر تے ہیں جبکہ نوجوان نسل کی تربیت درسگاہوں اور اساتذہ سے زیادہ میڈیا، سوشل میڈیا، والدین اور خاندانی ماحول کی ذمہ داری ہے۔سٹوڈنٹس کی گمراہی کی تمام ذمہ داری درسگاہوں پر ڈالنے کی بجائے والدین اپنی ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا سیکھیں۔ ماں کی گود اولاد کی پہلی درس گاہ ہے۔اور اس درس گاہ میں اب ملاوٹ آ گئی ہے۔دورِ حاضر میں والدین کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے۔یا یوں کہہ لیں کہ بچے پیدا کر کے ان کو وقت پر روٹی،کپڑا،سکول بھیجنا صرف یہی ماں باپ کی ذمہ داری رہ گئی ہے۔اس کے علاوہ تمام ذمہ داری ماں باپ معاشرے سے پیسے کے زور پر خریدنے کی کوشش کرتے ہیں۔والدین کی عدم توجہی اور پھر نت نئی ایجادات اور انکا بے جا استعمال بگاڑ کی اصل وجہ ہے۔ہر باپ چاہتا ہے کہ اس کا بچہ اعلی درسگاہ سے تعلیم حاصل کرے لیکن رزق حرام کے اثرات کو بھول جاتا ہے۔ حرام کا لقمہ کھلا کر بچے کو علامہ اقبال دیکھنا چاہتا ہے؟ ہر ماں بچے کو بس فر فر انگریزی بولتا دیکھنا چاہتی ہے۔ بچے کی پرورش میں ماں جو سب سے بنیادی نعمت دے سکتی ہے وہ دینی شعور اور اخلاقی اقدار ہیں مگر دور حاضر کی ماں خود احساس کمتری کا شکار ہو چکی ہے۔اولاد پیدا ہونے کے بعد انکے لئے حلال رزق کا بندوبست کرنا، انکی اسلامی تعلیم و تربیت کرنا،ان کی کوتاہی اور غلطی پر سرزنش کرنا،ان کو صحیح اور غلط کا فرق بتانا والدین کا اولین فریضہ ہے۔مگر آج والدین کے فرائض صرف روٹی،کپڑا، مکان اور تعلیم تک محدود ہو گئے ہیں۔اولاد کی تعلیم و تربیت سے انہیں تہذیب سکھانا اور سمجھانا اس طرف کسی کا رحجان نہیں۔والدین اولاد کو دنیاوی تعلیم دینے میں اس قدر مصروف رہتے ہیں کہ تربیت پر دھیان ہی نہیں دیتے۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ آجکل والدین کی اپنی بھی کوئی تربیت نہیں ہو سکی ورنہ نوجوان نسل والدین کو آیئڈیل بناتی مغرب کی ماں کا کلچر ادھار نہ لیتی۔ بچے کی تربیت ماں کے پیٹ سے ہی شروع ہو جاتی ہے۔ مگر آجکل کی عورتیں موبائل،ٹی وی ڈرامہ، گانے بجانے میں بہت مصروف ہیں۔سٹار پلس پر ساس بہو کے ڈرامے دیکھ کر ہر وقت ڈرامے کرنے میں مصروف خواتین بچوں سے بالکل بے خبر ہیں۔ آج کے والدین نے بچوں کو سننا اور سمجھنا چھوڑ دیا ہے۔دو سال کا بچہ سکول داخل کروانے کے لئے عورتیں بے تاب ہیں۔صرف اس لئے تا کہ جتنا وقت بچے باہر رہے وہ سکون سے اپنے کام کر لیں یا سوشل میڈیا انجوائے کر لیں۔