قزاق، رہزن حکمران اب اپنابوریا بستر تیار کرلے!!

235

نبی کریم ﷺ کی ایک حدیث کا مفہوم ہے تم سے پہلے کی قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ نظام عدل و انصاف میں توازن نہیں تھا۔ یعنی بڑوں کے لئے کچھ اور قانون تھا، چھوٹوں کے لئے کچھ اور۔ مطلب یہی تھا کہ دولت مندوں کے لئے قانون ان کے گھر کی لونڈی تھا، پیسے کے بل بوتے پر انصاف خریدا جاتا تھا، غریب کو پھر انصاف کہاں سے ملتا، وہ ممالک کبھی ترقی نہیں کر پاتے جن کی عدالتیں بکی ہوتی ہیں۔ بڑا مجہول سا نظام عدل ہوتا ہے جو تعمیر کی بجائے تخریب کی طرف لے جاتا ہے۔ جرائم پیشہ مضبوط ہوتے ہیں اور لولا لنگڑا قانون بھلا جرائم کی کیا بیخ کنی کرے گا۔ اس کا منہ تو دولت سے بھر دیا گیا ہے وہ کیا بولے گا۔ محافظ ہی لوٹنے لگیں گے۔ حکمران چور ڈاکو ہوں گے تو عوام پر لگام کون کسے گا۔ سو ہر طرف افراتفری پھیل جائے گی پورا نظام چوپٹ ہو کر رہ جائے گا۔ غریب اس اپا دھاپی کی روش میں پس کررہ جائے گا۔ اس کا سب سے بڑا جرم اس کی غربت ہے۔ پاکستان کا المیہ بھی یہی ہے۔ گزشتہ 30سالوں میں قزاق، رہزن حکمرانوں نے خود لوٹ مار کی اور عوام کے منہ کو بھی دولت کا چسکا لگا دیا۔ کوئی روکنے والا ہی نہ رہا۔ سارا آوے کا آوا ہی الٹ گیا۔ جب تک قانون کا شکنجہ مضبوط نہیں ہو گا کوئی بہتری نہیں آئے گی۔ کچھ بھی تبدیل نہیں ہو گا۔
سینیٹ کے الیکشن میں آپ نے دیکھ ہی لیا ہو گا کہ کس طرح انسانوں کے ضمیروں کی خرید و فروخت ہوئی اور انتہائی کرپٹ امیدوار جیت گیا۔ یعنی یوسف رضا گیلانی سابق وزیراعظم پاکستان جس نے اردگان کی اہلیہ کا دیا ہوا ہار ہڑپ کر لیا تھا، ان کی نیک نامی کے قصے ترکی تک پہنچ گئے۔ سوئٹزرلینڈ کے بنک میں ان کے گرو کے 6ارب تھے۔ اُس ملک نے کہا کہ اگر آپ کا وزیراعظم دستخط کر دے کہ وہ دولت پاکستان کی ہے تو وہ اس ملک کو مل جائے گی لیکن اس نمک حرام نے (جو کسی گروہ کا مخدوم وغیرہ بھی ہے) دستخط نہیں کئے اور وہ پیسہ پاکستان کو نہ مل سکا اور اسے اپنی وزارت سے ہاتھ دھونے پڑے۔ اس کے کھاتے میں اور بہت سے فراڈ بھی ہیں۔ درخواستیں الیکشن کمیشن کو بھیج دی گئی ہیں لوگ اب عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔ اس ادارے کا بھی امتحان ہو جائے گا۔
ایک ٹی وی چینل پر پھولن دیوی کی زیارت ہوئی، چہرے پر بڑی اداسی چھائی ہوئی تھی ۔ اپنا پسندیدہ سبز لباس اور اس سے میچنگ ڈھائی لاکھ کے سینڈل یقینا پہنے ہوں گے۔ جو عوام کے سینے پر مونگ موٹھ دلنے کے لئے کافی ہیں۔ فرما رہی تھیں ’’موت تو ہو گئی ہے تجہیز و تکفین باقی ہے‘‘ کیا لندن سے کوئی خبر آگئی۔ ارے بھئی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ لوٹ کا مال تو واپس کر جائو تاکہ گناہوں میں کمی آسکے۔ پھولن دیوی آپ کے ایجنڈے سے آپ کی دروغ گوئی سے چوری ڈکیتی سے ،آپ کی عسرت سے لاکھ اختلاف صحیح پھر بھی سوئی برابر عوام چونکی ضرورت ہے۔
ادھر وہ خواجہ سرا بڑ بڑارہا ہے۔ اب ہم بتائیں گے کہ آپ اس کرسی پر کب تک بیٹھ سکیں گے۔ عوام پوچھتی ہے ’’تم کس کھیت کی مولی ہو‘‘ کیا بانیٔ پاکستان یہ کرسی تمہیں تمہاری وراثت میں دے گئے ؟ شرم و حیاء کا کیا ذکر ہو، منہ پر جھوٹ بولنے والے کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ تمہارا باپ جو ناگ بن کر لوٹی ہوئی دولت پر بیٹھا ہے۔ اب بوریا بستر تیار کرے۔ غدارو! کیا پاکستان نے تمہیں اتنے بڑے بڑے عہدوں پر نہیں بٹھایا؟ تم نے جس تھالی میں کھانا اسی میں چھید کیا۔ اس کے جسم کو نوچ ڈالا۔ گدھوں کی طرح ہڈیاں بھی کھا لیں۔ اب یہ اپنی جاہل اولادوں کو آگے بڑھارہے ہیں۔ وہ بھگوڑا لندن میں بیٹھا ڈوریاں ہلارہا ہے اور تم لوگ کٹھ پتلی تماشا دکھارہے ہو۔ تمہاری پی ڈی ایم کا وہ کٹھ ملا جسے دیکھ کر ابلیس بھی توبہ توبہ کرتا گزر جاتا ہے ۔ پھولن دیوی کی سرجری کی خبر آگئی ہے مشورہ بھی دے دیا گیا۔ اب دیکھنا ہے ملا کی بیماری کب نشر ہوتی ہے اور خواجہ سرا علاج کے لئے کہاں جاتا ہے۔ پھولن دیوی تمہارے بابوجی کو اگر تم سے ذرا بھی محبت ہوتی تو اب تک ساری لوٹی دولت واپس کر کے تمہاری جان چھڑا دیتے۔ پھولن دیوی کو جیل میں نہ رکھنے کا یہ جواز دیا گیا ہے کہ ’’عورت‘‘ کا تقدس ملحوظ خاطر ہے۔ توجناب اور جو خواتین جیلوں میں معمولی جرائم کی وجہ سے بند ہیں۔ عورت ہونے کے ناطے ان کا تقدس کہاں گیا؟ یہ ہے دوغلا نظامِ عدل۔
8مارچ کو خواتین پھر جسم کی فریاد لے کر نکل پڑیں اور دوسرا نعرہ بھی آگیا۔ تیرا جسم، میری مرضی‘‘ یہ کیسے بہودہ نعرے ہیں جن سے عورت کے مسائل کا دور کا بھی واسطہ نہیں۔ جو خواتین اصل میں مسائل کا شکار ہیں وہ تو آپ کی محفل میں جگہ نہیں پاتیں؟ کبھی آپ نے کم عمر بچیوںکی شادی پر آواز اٹھائی، کبھی آپ نے بڑی عمر کی لڑکی کی چھوٹے بچے سے شادی پر انگلی اٹھائی، برداری میں رشتہ نہ ہونے پر یا تو انہیں مار دیا جاتا ہے یا کنواریوں کے گھر بھیج دیا جاتاہے۔ قرآن سے شادی ، پسند کی شادی پر قتل کر دینا، کیا اسلام کے خلاف ہے پسند کی شادی؟ ونی میں بچیوں کو دے دینا جہاں ان پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ بعض علاقوں میں مرد اگر کوئی قتل کرتا ہے تو بیوی کو مجبور کیا جاتا ہے وہ اس قتل کا جرم اپنے سر لے لے۔ یہ سب حقیقی مسائل ہیں، اس کے علاوہ بھی ہوں گے۔ آپ نے ایک بڑا کام کیا ہے، دوپٹہ اتار کر مردوں کی عقل کر ڈال دیا ہے، اب کس چیز کو اتارنے کا ارادہ ہے۔ یہ بے حس معاشرہ آج بھی آپ کیساتھ ہے۔ ذرا تضاد ملاحظہ ہو۔ دیار غیر میں عورت برقع اور حجاب کے لئے لڑ رہی ہے اور اس اسلامی ملک میں عورت بجائے تن ڈھانکنے کہ سب کچھ جو اس کے پاس ہے نمایاں کرنے کی خواہاں ہے؟
قدیم سے یہی سلسلہ فقیروں کا
کوئی سنے نہ سنے تو صدا لگاتا چل!!