مقناطیس بردار سیٹلائٹ سے خلائی کچرے کی صفائی

255

ٹوکیو:  گزشتہ 70 برس سے خلا میں جانے والے راکٹ، ناکارہ سیٹلائٹ اور دیگرخلائی حادثات سے اتنا خلائی کاٹھ کباڑ جمع ہوچکا ہے کہ وہ زمین کے گرد مسلسل مدار میں خطرناک انداز میں  گردش کررہا ہے اور اب اسے تلف کرنے کے لیے جاپان نے ایک سیٹلائٹ بنایا ہے جو 20 مارچ کو خلا میں بھیجا جائے گا۔

ایسٹرواسکیل کمپنی کے سیٹلائٹ کا نام ’ اینڈ آف لائف سروسز(ایلسا ڈی)‘ رکھا گیا ہے۔ واضح رہے کہ مدار میں گردش کرتا ہوا کوڑا کرکٹ نہ صرف مزید خلائی مشن کے لیے ایک رکاوٹ بن چکا ہے بلکہ اس کی زد میں آنے والا خلائی اسٹیشن بھی کسی حادثے کا شکار ہوسکتا ہے۔ خلائی کچرے کے لاکھوں کروڑوں ٹکڑے مدار میں بہت تیزی سے سفر کرتے ہیں اور وہ باہر موجود خلانورد کو بھی نقصان پہنچاسکتے ہیں۔

حقیقت میں یہ سیٹلایٹ دو حصوں میں تقسیم ہے یعنی ایک چھوٹا سیٹلائٹ ہے اور ایک بڑا سیٹلائٹ جسے ’چیزر‘ کہا گیا ہے۔ چھوٹے سیٹلائٹ میں ایک مقناطیسی پلیٹ لگی ہے جس کے ذریعے وہ بڑے سیٹلائٹ سے الگ ہوسکتا ہے اور جڑ سکتا ہے۔ لیکن پہلے سیٹلائٹ جوڑے کو کئی ٹیسٹ سے گزارا جائے گا۔

پہلے مدار میں رہتے ہوئے چھوٹا سیٹلائٹ الگ ہوگا اور بڑا سیٹلائٹ اسے دوبارہ پکڑے گا۔ دوسرے ٹیسٹ میں  بڑا سیٹلائٹ چھوٹے کو راہ سے دور ہٹائے گا اور اس کی حرکت کو نوٹ کرتے ہوئے اس کا پیچھا کرکے اسے دوبارہ جوڑے گا۔ ان دونوں کی کامیابی کی صورت میں اب چھوٹا سیٹلائٹ کئی سو میٹر دور جائے گا اور بڑا سیٹلائٹ اسے تلاش کرکے اس سے دوبارہ جڑے گا۔ یہ سارے ٹیسٹ خود کار انداز میں ہوں گے جس میں انسانی مداخلت نہ ہوگی۔

ایسٹرواسکیل کمپنی کے مطابق اس سے قبل ایسا خلائی تجربہ نہیں کیا گیا ہے۔ تجربے کے خاتمے پر دونوں سیٹلائٹ زمین کا رخ کریں گے۔ خلا سے فضا میں پہنچیں گے اور اس کی رگڑ اور حدت سے جل کر راکھ ہوجائیں گے۔