برٹنی اسپیئرز والد کی سرپرستی ختم کرانے تیسری بار عدالت پہنچ گئیں

227

گلوکارہ، اداکارہ، ڈانسر وپروڈیوسر 39 سالہ برٹنی اسپیئرز نے ایک بار پھر والد کی ’سرپرستی‘ ختم کروانے کے لیے عدالت میں درخواست دائر کردی۔

برٹنی اسپیئرز کے والد جیمی اسپیئرز 2008 سے اداکارہ کے (conservator) یعنی قانونی طور پر ’سرپرست‘ ہیں اور اداکارہ گزشتہ دو سال سے والد کی مذکورہ حیثیت ختم کروانے کے لیے کوشاں ہیں۔

برٹنی اسپیئرز کے والد کو امریکی عدالت نے 2008 میں اس وقت گلوکارہ کا ’سرپرسٹ‘ مقرر کیا تھا جب کہ اداکارہ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں تھی اور وہ اپنے فیصلے بھی کرنے کے اہل نہیں تھیں۔

گزشتہ 13 سال سے والد ہی اداکارہ کے تمام معاملات دیکھ رہے ہیں اور برٹنی اسپیئرز والد کی اجازت کے بغیر کوئی کام نہیں کر سکتیں، یہاں تک وہ کسی شو میں پرفارمنس یا کسی مرد سے تعلقات بھی اپنے والد کی مرضی سے استوار کرنے کی پابند ہیں۔

ایسی پابندیوں کی وجہ سے ہی برٹنی اسپیئرز نے گزشتہ برس دو بار لاس اینجلس کی عدالت میں والد کی ’سرپرستی‘ ختم کروانے کی درخواستیں دائر کی تھیں مگر دونوں بار ان کی درخواستیں مسترد کردی گئی تھیں۔

تاہم عدالت نے گلوکارہ کی درخواست پر ان کی ’سرپرستی‘ کے معاملات میں تبدیلیاں کرتے ہوئے برٹنی اسپیئرز کی جانب سے بتائے گئے ایک مینیجمنٹ ادارے (Bessemer Trust) کو بھی اداکارہ کا شریک سرپرست بنایا تھا۔