امریکا نے 24 چینی، ہانگ کانگ عہدیداروں پر پابندی عائد کردیں

222

چین کے ساتھ باضابطہ پہلی بات چیت سے محض چند روز قبل امریکا نے نیم خودمختار شہر ہانگ کانگ میں میں بیجنگ کی سیاسی آزادیوں کے خلاف جاری کارروائیوں کے تناظر میں اضافی 24 چینی اور ہانگ کانگ کے عہدیداروں پر پابندی کی منظوری دے دی۔

سیکریٹری برائے خارجہ انٹونی بلنکن نے ایک بیان میں کہا کہ واشنگٹن ہانک کانگ کی تنزل پذیر آزادی کے بارے میں سخت تشویش میں مبتلا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چین کی جانب سے انتخابی نظام میں ہونے والی تبدیلیوں کے بعد ہانگ کانگ کی خودمختاری کے خاتمے کے بارے میں واشنگٹن کو گہری تشویش ہے۔

محکمہ خارجہ نے بتایا کہ 24 عہدیدار جو غیرملکی مالیاتی ادارے سے تعلق رکھتے ہیں امریکی پابندیوں کی زد میں ہوں گے۔

پابندیوں سے متعلق اعلان انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کے جاپان اور جنوبی کوریا کے دورے کے دوران کیا گیا تھا۔

امریکا اور جاپان، چین کی بڑھتی ہوئی معاشی، فوجی اور سیاسی قوت سے خائف ہیں۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے یومیہ بریفنگ میں صحافیوں کو بتایا کہ نئی پابندیاں عائد کرنے سے امریکا کے عزائم واضح ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ واشنگٹن، چین کے داخلی امور میں مداخلت، ہانگ کانگ کو درہم برہم کرنے اور چین کے استحکام اور ترقی میں رکاوٹیں ڈالنے کے مذموم ارادے بے نقاب ہوگئے۔

ژاؤ لیجیان نے کہا کہ چین قومی خودمختاری، سلامتی اور ترقیاتی مفادات کے مستحکم دفاع کے لیے مضبوط اقدامات اٹھائے گا۔

انٹونی بلنکن اور وزیر دفاع لائیڈ آسٹن نے اپنے جاپانی ہم منصبوں کے ساتھ مشترکہ بیان دیا جس میں نسلی اقلیتوں کے خلاف مغربی سنکیانگ خطے میں بیجنگ کی مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔