گوگل نے یہ کام کیا تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عدالت نے خبردار کردیا

240

جدید ویب براؤزر میں ایک خفیہ سرچنگ طریقہ کار بھی ہوتا ہے جیسے کہ کروم میں “انکوگنیٹو موڈ”، اس آلے کے زریعے صارفین سرچنگ کی سرگرمی کو ریکارڈ کئے بغیر براوزر کو استعمال کرتا ہے، انکگنیٹو موڈ یہ کمنٹ کرتا ہے کہ آپ جب بھی اس نجی ونڈوز کو بند کرینگے تو آپ کا اسمارٹ فون یا کمپیوٹر میں اس کا کوئی سراغ نہ ہوگا۔

تاہم اب گوگل کو ’’انکوگنیٹو موڈ‘‘ یعنی پوشیدہ رہ کر سرچنگ کے آپشن کا فائدہ اُٹھا کر سرفنگ کرنے والے صارفین کو ٹریس کرنے پر پانچ بلین ڈالر کے ہرجانے کا سامنا ہوسکتا ہے۔

اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ گذشتہ سال جون میں امریکا میں تین صارفین نے گوگل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ گوگل انہیں اُس وقت بھی خفیہ طور پر ٹریک کرتا ہے اور ہمارا ڈیٹا جمع کرتا ہے جب وہ انکوگنیٹو آپشن یعنی “پوشیدہ ” سرچنگ کا آپشن استعمال کر رہے ہوتے ہیں۔

صارفین نے اپنی شکایت میں الزام عائد کیا تھا کہ گوگل کا پرائیوٹ ڈیٹا ٹریکنگ بزنس ہے جو صارفین کی جانب سے پرائیویسی سیٹنگ سخت کرنے یا کروم میں پوشیدگی کا طریقہ استعمال کرنے کے باوجود نجی معلومات اور دیگر براؤزرز تک رسائی حاصل کرکے ڈیٹا جمع کرتا رہتا ہے۔

جس پر گوگل نے اعلان کیا تھا کہ وہ ان دعووں کے خلاف “بھرپور طریقے” سے اپنا دفاع کرے گی، لیکن وہ قانونی چارہ جوئی کو ختم کرنے میں ناکام رہی۔