قومی اسمبلی میں 178ووٹوں سے عمران کی کامیابی، پی ڈی ایم کا منہ کالا ہو گیا!!

216

یوسف رضا گیلانی کی جعلی کامیابی کے بعد ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ملک میں طوفان آگیا ہے، پی ڈی ایم کے رہنمائوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا جیسے حفیظ شیخ کو شکست نہیں ہوئی حکومت کو شکست ہو گئی اور قومی اسمبلی میں اس کی حکومت ختم ہو گئی ہے، اس جیت کا کرتا دھرتا کرپٹ ترین آصف علی زرداری سمجھ رہا تھا کہ اس نے عمران خان کو شکست دے دی ہے۔ پیسے اور دولت کے ذریعے جعلی جیت سے پی ڈی ایم اور زرداری کا دماغ خراب ہو گیا تھا۔ وہ یہ سمجھ رہا تھا کہ جن بندوں کو اس نے دولت سے خریدا ہے وہ عمران خان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے۔ وہ یہ بھول گیا سینیٹ کی دوسری سیٹ سے پی ٹی آئی کی ایک معمولی ورکر 174ووٹ لیکر جیت گئی تھی پی ٹی آئی کے بندوں نے اگر نوٹ لے کر یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دیا یا ووٹ ضائع کیا لیکن انہوں نے پارٹی کی دوسری ورکر کو جتوا دیا اور زرداری کو یہ پیغام دیا کہ تم نے پیسے صرف یوسف رضا گیلانی کو ووٹ دینے کے لئے دئیے تھے، دوسری سیٹ کے لئے نہیں اس لئے ہم نے پارٹی کو ہی ووٹ دیا لیکن اگر دوسری طرح سے دیکھیں تو یہ پارٹی ممبروں کی پارٹی اور عمران خان کے ساتھ غداری تھی، کوئی بھی انسان اگر پارٹی ٹکٹ پر منتخب ہوتا ہے تو اس کا اخلاقی اور سیاسی فرض بنتا ہے کہ وہ پارٹی کا وفادار رہے پیسے لے کر پارٹی کا غدار نہ بنے۔ اس ووٹنگ نے بتایا کہ پی ٹی آئی میں 16یا18 ممبر ایسے ہیں جن کی وفاداری مشکوک ہے۔ جو کسی وقت بھی پارٹی کو دھوکا دے سکتے ہیں۔ زرداری جیسے لوگ ان کو خرید سکتے ہیں۔ عمران خان کو ایسے لوگوں کا پتہ چلانا چاہیے اور ان کو پارٹی سے نکال دینا چاہیے۔ اگر ابھی وہ ان کو نہیں نکال سکتے تو اگلے الیکشن میں ان لوگوں کو ٹکٹ نہیں دینا چاہیے، تاریخ پاکستان بتاتی ہے ہر دور میں سیاسی غدار پیدا ہوتے رہے ہیں اور اپنے لیڈروں کو دھوکہ دیتے رہے ہیں یاد کریں نواز شریف کا دور منظور وٹو صوبائی اسمبلی کے سپیکر تھے لیکن ایک ہی رات میں پوری پارٹی اور صوبائی اسمبلی کے رکن بدل گئے۔ دوسرے دن منظور وٹو پنجاب کے وزیراعلیٰ بن گئے۔ قابل شرم ہے پاکستان کا سیاسی نظام، اس کرپشن کی ابتدا خود نواز شریف نے کی تھی۔ چھانگا مانگا اس دور میں بہت مشہور ہوا تھا آج تک اس چھانگا مانگا کی سیاست چل رہی ہے۔ اب زرداری لوگوں کی خرید و فروخت میں نواز شریف سے بھی آگے نکل گیا۔ وہ منڈی لگانے اور لوگوں کی قیمت لگانے میں پاکستان کا کرپٹ ترین انسان بن گیا ہے۔
عمران خان سیاسی طور پر بہت شریف سیاستدان ہے میرے خیال میں وہ سیاست دان ہے ہی نہیں، وہ ایک نظریاتی انسان ہے، لوگوں کی خریدوفروخت سے اس کو کوئی دلچسپی نہیں ہے، وہ اپنے اصولوں اور عادات پر چلنے والا آدمی ہے، اس کی پارٹی کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں اس نے کبھی بھی خرید و فروخت کی سیاست نہیں کی ورنہ جب اس کی حکومت قائم ہوئی تھی، اس وقت ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک بن سکتا تھا، یہ ہر دور میں ہوا ہے اور ہر پارٹی کے ساتھ ہوا ہے۔ پرویز مشرف نے بھی مخدوم کو وزیر داخلہ اسی لئے بنایا تھا کہ انہوں نے پیپلز پارٹی میں نیا فارورڈ بلاک بنا لیا تھا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ مشرف حکومت میں شامل ہو گئے تھے۔
یوسف رضا گیلانی کے بیٹے علی حیدر گیلانی کی ویڈیو جب سے منظر عام پر آئی ہے یوسف رضا گیلانی کی جیت مشکوک ہو گئی ہے لیکن دکھ کی بات یہ ہے کہ یہاں کوئی بھی ایماندار نہیں ہے، راجہ سکندر جس کو عمران خان نے چیف الیکشن کمشنر بنایا تھا وہ بھی بکائو مال ثابت ہوا، معمر اور سنجیدہ ٹی وی کمپیئر جناب ہارون رشید صاحب نے اپنے تازہ پروگرام میں باقاعدہ تصدیق کی کہ الیکشن کمیشن کے ممبروں نے لندن میں نواز شریف کے لوگوں سے ملاقات کی ہے، اس کے بعد ڈیل ہوئی ہے اور نواز شریف نے ان کو پیسے دئیے ہیں، اسی لئے الیکشن کمیشن کے افراد پی ڈی ایم کی زبان بول رہے ہیں، ڈسکہ کا الیکشن وہ دوبارہ کرانے کا اعلان کر دیتے ہیں لیکن وہ یوسف رضا گیلانی کا الیکشن اتنے ثبوت ہونے کے باوجود بھی کالعدم نہیں قرار دیں گے یہ اس ملک کا المیہ ہے کہ اشرافیہ، انتظامیہ تک کرپٹ ہو گئے ہیں۔ عمران خان کی حکومت کمزور حکومت ثابت ہورہی ہے، ایک وجہ قومی اسمبلی میں اس کی اپنی پارٹی کی اکثریت نہیں ہے، دوسری وجہ اس کی پارٹی کے لوگ بھی اس کے وفادار نہیں ہیں، ان کو پتہ ہے اس کی حکومت کسی وقت بھی گر سکتی ہے، عمران کے زیادہ تر مشیر اور وزیر دوسری پارٹیوں سے آئے ہیں، وہ کسی وقت بھی اپنی وفاداری بدل سکتے ہیں لیکن آنے والا وقت پی ڈی ایم کے لئے بھی بہتر نہیں ہے، وہ جتنی کوشش کر لیں وہ عمران خان کی حکومت کو گرا نہیں سکتے، شاید اسی طرح عمران خان دو سال اور گزار لیں گے پھر نئے الیکشن ہوں گے یا فوج اقتدار سنبھالے گی۔