سرکس

222

پاکستان کی تاریخ میں کوئی ثقہ سیاست دان نہیں گزرا، قائداعظم کے بارے میں بھی ایک انگریز تجزیہ نگار نے لکھا کہ وہ ان کا بحیثیت قانون دان اتنا بڑا قد تھا کہ وہ مغرب میں ہوتے تو ان کو قانون کا فلاسفر مانا جاتا، قانون ان کی فنگر ٹپس پر تھا وہ یہ اہلیت رکھتے تھے کہ وہ ملک کا آئین چند ہفتوں میں DICTATEکروا سکتے تھے مگر وہ سیاست دان نہیں تھے اگر سیاست دان ہوتے تو یہ کبھی نہ کہتے کہ میری جیب میں کھوٹے سکے ہیں، اور لطف کی بات یہ کہ وہ کھوٹے سکے قانون سے واقف نہ تھے اور نہ قانون دان، اس تجزیہ نگار نے لکھا کہ قائداعظم کی غلطی تھی کہ انہوں نے اس وقت علماء سے سیاسی مدد مانگ لی اور مسلمان سمجھنے لگے کہ یہ دو ٹکے کے امام بھی امور سلطنت جانتے ہیں، قائداعظم اگر چاہتے تو ان کو منہ نہ لگاتے،یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ شخص جو یہ کہتا ہے کہ پاکستان میں نے اور میرے ٹائپ رائٹر نے بنایا ہے وہ اہل منبر سے مدد مانگنے چلا جائے اور یہ کیسے ممکن ہے کہ قائداعظم اس وقت کے بہت روشن خیال عالم دین عبید اللہ سندھی سے واقف نہ ہوں اور دین کے بارے میں ان سے استفادے کا خیال نہ آیا ہو، دراصل ان کا پورا فوکس پاکستان کی تشکیل پر تھا اور ان کی بیماری نے ان کو یہ سوچنے کا موقع نہ دیا کہ ان کے بعد ملک کن ہاتھوں میں چلا جائے گا اور ملک کا مستقبل کیا ہو گا، INDIA WINS FREEDOMکے منظر عام پر آنے سے بہت پہلے ابو الالکلام آزاد وہ بہت کچھ کہہ چکے تھے جو انہوں نے اس کتاب میں لکھا، کیا قائداعظم کے لئے وہ قابل غور نہ تھا ابوالاکلام آزاد ایک سیاست دان تھا وہ ہندوستان کی تاریخ، جغرافیے اور اس خطے میں بسنے والی مختلف قومیتیوں کے بارے میں جانتا تھا وہ ان کے کلچر اور زبانوں سے بھی واقف تھا اسی لئے اس نے کئی پیشن گوئیاں پاکستان کے بارے میں کیں وہ حرف بہ حرف درست ثابت ہوئیں، میں پہلے یہ کہہ چکا ہوں کہ پاکستان بنانے میں جو لوگ متحرک تھے ان میں سے کوئی بھی سیاست دان نہ تھا، سیاست میں شیر پنجاب، شیر سندھ، شیر بنگال اور سرحد کے خوانین دندناتے پھررہے تھے اور ان سب کی اپنی اپنی صوبائی دھاڑ تھی، ان کی قومی سوچ بن ہی نہ سکی ورنہ جو کچھ ابوالاکلام آزاد نے کہا تھا اس کا سدباب کیا جا سکتا تھا، ممتاز دولتانہ شیر پنجاب تھے وفاق کی سطح پر پنجاب کے غلبے کا خواب انہوں نے ہی دیکھا تھا اور یہی وہ موڑ تھا جہاں یہ فکر ابھری کہ بنگالیوں کی عددی اکثریت پنجاب کے شوق حکمرانی کے راستے میں بڑی رکاوٹ ہے سو کئی عشرے اسی ایجنڈے پر صرف کر دئیے گئے اور آخر کار مشرقی پاکستان سے چھٹکارا حاصل کر لیا گیا، اس سازش میں پنجاب کا ساتھ سندھ اور سرحد نے بھی دیا۔
سیاست میں سب سے زیادہ اولیت معاشی ترقی اور انسانی حقوق کو دی جاتی ہے، ستر سال میں انہی دو نکات کو سب سے زیادہ نظر انداز کیا گیا، تشکیل پاکستان کے بعد جو نام نہاد سیاست دان تھے جن کو میں شیروانی بریگیڈ کہتا ہوں انہوںنے جھولی میں گرتے ہوئے کشمیر کو خود لینے سے انکار کر دیا اور حیدر آباد دکن کی دولت پر نظر جمائے رکھیں، نہ حیدرآباد دکن ملا ، نہ جونا گڑھ اور نہ مناودر، اب کشمیر ہمارے حلق میں اٹکا ہوا ہے، ایوب خان کے جانے کے بعد سارے حکمران بشمول بھٹو مغرب کے PLANTEDتھے جن میں بے نظیر، نواز شریف اور عمران خان ہیں 1977کے بعد سے ملک میں سیاسی سرکس لگا ہوا ہے اور ملک کے تمام فیوڈل لارڈز عشروں سے جمہوریت کا راگ الاپ رہے ہیں، اس جمہوریت، آئین اور نظام کا جو موجود ہی نہیں ہے اور نہ ہی اس کا امکان موجود ہے، بھٹو، نواز شریف، ولی خان، مینگل، بگٹی، مری کی اولادیں اب اس ملک پر حکمرانی کے خواب دیکھ رہی ہیں اور کرپٹ میڈیا ان کے نام کے ڈھول بجا بجا کر عوام کو یقین دلا رہا ہے کہ یہ لوگ تمہارے مسیحا ہیں، بلاول، مریم اور حمزہ خوشی سے ناچ رہے ہیں، جب بینظیر اور نواز شریف گتھم گتھا ہورہے تھے تو سردار عبدالقیوم نے کہا تھا کہ پاکستان کی سیاست دو بچوں کے ہاتھ میں ہے پھر ایک اور بچہ الطاف حسین کی صورت میں تیس سال قوم کے سینے پر کودتا رہا، اور اب بلاول، مریم اور حمزہ بھنگڑا ڈال رہے ہیں اور فوج تماشا دیکھ رہی ہے، بشمول عمران خان میں سے کسی کو بھی سیاست کا رتی بھر شعور نہیں اور یہ سب موروثیت کے بنچ پر کھڑے ہو کر اپنے سینے پر ہاتھ مار کر کہتے ہیں کہ ہم حکمران خاندان ہیں، ان کو اس مسند پربٹھانے میں فوج کا ایک اہم کردار ہے۔ شیخ رشیدکئی بار کہہ چکے ہیں کہ یہ ساری پنیری فوج کی لگائی ہوئی ہے، یہ سب جی ایچ کیو کے گیٹ نمبر چار سے نکل کر آئے ہیں۔
بلاول، حمزہ، مریم اور عمران سیاست کے بارے میں کچھ جانتے نہیں، مگر تین اول الذکر صرف موروثیت کی وجہ سے سیاست میں ہیں اورسارے بوڑھے انکلز ان کے پیچھے کھڑے ہیں، کسی کو ملک کے بنیادی مسائل کا کوئی ادراک نہیں، معاشیات، بین الاقوامی امور، سماجیات، کلچر اور انتہائی اہم POLITICAL STRATEGIC SCIENCESکے بارے میں یہ لوگ کچھ نہیں جانتے، تو سوال یہ ہے کہ کسی قسم کے تجربے کی عدم موجودگی میں یہ ملک کا نظام کیسے چلائیں گے، یہی کمزور فوج کی بڑی طاقت ہے، فوج جانتی ہے کہ کوئی فطین سیاست دان جو سیاست کا شعور رکھتا ہو وہ ملک کو ترقی دے گا، روزگار پیدا ہو گا، انصاف ہو گا اور صحت کے مسائل حل ہوں گے اس ترقی کی وجہ سے لوگ اپنے لیڈر سے پیار کریں گے اور فوج کی ضرورت نہیں رہے گی، اگر ملک میں پولیس اصلاحات ہو جائیں اور پولیس کی ترتیب جدید خطوط پر ہو جائے تو فوج پر انحصار ختم ہو جائے گا، فوج یہ نہیں چاہتی، جتنے لیڈر پیدا کئے جائیں گے وہ نااہل اور سیاست سے نابلد ہی ہوں گے اور ملک کا یہی حال رہے گا، کسی بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی، سیاست کا سرکس اسی طرح جاری رہے گا اور قوم ملی نغموں پر ہی ناچتی رہے گی، اہل منبر ومحراب نے الگ قوم کو دھاگوں، وظیفوں اور دعائوں پر لگا رکھا ہے اور اب تو یہ کہا جارہا ہے کہ رزق خدا دیتا ہے مطلب یہ کہ روٹی حکومت سے مت مانگو اگر رزق نہیں ملتا تو یہ تمہارے گناہ ہیں جس نے رزق کے دروازے بند کر دئیے ہیں۔ جہالت نے پر نہ پھیلائے ہوتے تو لوگوں کی سمجھ میں آتا کہ POVERTY IS MAN MADE DIEASEاور اس بیماری کا علاج کیا جا سکتا ہے، اب کوئی باشعور سیاست دان تو ہے نہیں تو فوج زندہ آباد کے نعرے بلند کریں اور سیاسی سرکس میں فوج کے اشاروں پر ناچتے سیاسی بندروں کی قلابازیوں سے لطف اٹھائیے۔