یہ بساط لپیٹ دو!

218

عمران خان نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لے لیا اور حزبِ اختلاف کے مفسدوں کا ٹولہ کھسیانی بلیووں کی طرح کھمبے نوچتا رہ گیا!
اطمینان کا سانس صرف عمران خان نے ہی نہیں لیا بلکہ ہر اس پاکستانی نے طمانیت محسوس کی جسے پاکستان سے محبت ہے! محبت کی بات ہو تو ہر پاکستانی دعوی کرتا ہے کہ وہ محب الوطن ہے اور وطن کی محبت اس کے دل میں بھی اسی طرح موجزن ہے جیسے کسی اور پاکستانی کے دل میں۔ لیکن جیسے سونے کو پرکھنے کیلئے کسوٹی کی ضرورت ہوتی ہے ویسے ہی ارضِ وطن سے محبت کا دعوی کرنے والوں کے خلوص اور سچائی کو پرکھنے کیلئے بھی ایک کسوٹی ہے اور وہ یہ کہ اتنی تمیز ہو کہ یہ جان سکیں کہ قوم کی قیادت کا زعم رکھنے والے پاکستان سے مخلص بھی ہیں یا نہیں؟
اس سوال کا جواب کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے کہ پاکستان کا مخلص کون ہے اور کون پاکستان اور پاکستانیوں کا کھلا دشمن ہے۔ بقول عمران کے جن کا جینا مرنا پاکستان میں نہیں وہ پاکستان کی قیادت کا زعم رکھیں یہ پاکستانیوں سے کھلی دشمنی ہے اور کچھ نہیں!
اب دیکھئے کہ عمران کے خلاف پاکستان بھر میں ادھم مچانے والے کون ہیں اور ان کا کردار اور ماضی کیا ہے!
وہ دین فروش ملا فضلو جو پی ڈی ایم کا قائد بنا ہوا ہے وہ بیس برس پارلیمان کی کشمیر کمیٹی کا چیرمین بنا رہا اور اس حیثیت میں نہ صرف وہ اسلام آباد کی وزرأکالونی میں ایک بنگلہ پر قابض رہا بلکہ کڑوڑوں اربوں روپے پر بھی کشمیر کمیٹی کی قیادت کے نام پر ہاتھ صاف کرتا رہا۔ یہ ڈیزل کے ان پرمٹوں کے علاوہ تھا جن کیلئے یہ جائز طور پر بدنام ہے۔ اتنا لوٹا ہے اس نے پاکستان کے خزانے اور وسائل کو کہ اس کا ایک بیٹا فیجی کے جزائر میں ایک کسینو کھول کر بیٹھا ہوا ہے! اب کوئی پوچھے کہ باپ کا زعم تو یہ ہے کہ وہ نہ صرف ملکی سیاست کی کلید نہیں بلکہ میخ ہیں اور درجنوں دینی مدارس چلارہے ہیں اور بیٹا کسینو اور نائٹ کلب چلا رہا ہے اور وہ بھی اس دولت کے بل بوتے پر جسے پاکستان سے لوٹا گیا ہے اور لوٹا ہوا مال تو آپ جانیں کہ ہمیشہ اس خوف سے چھپاکر رکھا جاتا ہے کہ کہیں چوری پکڑی نہ جائے!
رہے بلاول بھٹو اور بی بی مریم نواز تو پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے کہ انہوں نے اربوں کھربوں روپے پاکستان سے لوٹے ہیں اور باہر جائیدادیں بنائی ہیں اور غیر ملکی بنکوں کے کھاتوں میں اضافہ کیا ہے! لیکن حیرت نہیں کہ یہ سانپوں کے سنپولے پاکستان کی قیادت کے دعویدار ہیں اسلئے کہ چوری کے ساتھ ساتھ خون میں بے شرمی اور بے حیائی بھی داخل ہوجاتی ہے!
یہ سب، جو اپنے آپ کو سیاسی قائد کہلواتے ہیں، اگر کسی ایسے جمہوری معاشرے میں ہوتے جہاں جمہوری اقدار کی جڑیں مضبوط اور گہری ہیں تو یہ سب برسوں سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتے لیکن اللہ بھلا کرے پاکستان کا کہ جہاں جمہوریت کے خود ساختہ پاسبان یا تو نواز شریف جیسے نودولتیے ہیں یا زرداری جیسے خاندانی پیشہ ور ڈاکو ہیں یا ملا فضلو جیسے دین فروش ہیں۔ جمہوریت پاکستان میں آج تک پروان کیوں نہیں چڑھ سکی اس کا جواب بہت آسان ہے۔ کیسے پروان چڑھے گی جب جاگیردار، وڈیرے، سردار اور نودولتیے اس کے محافظ بن بیٹھیں گے۔ جمہوریت ان عوام دشمنوں کے ہاتھوں میں بالکل ایسے ہی ہے جیسے بھیڑیوں کو بھیڑوں کے گلے کی حفاظت سونپ دی جائے!
ان عوام دشمنوں نے اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے دانستہ پاکستان کے اداروں کو برباد کیا ہے اور اس کا مظاہرہ حالیہ سینٹ کے انتخاب میں دنیا نے دیکھ لیا جب حزبِ اختلاف کے سب سے نامی امیدوار، سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کو اسلام آباد سے منتخب کروانے کیلئے نہ صرف متحدہ حزب اختلاف نے کام کیا بلکہ الیکشن کمیشن نے بھی کھل کے انتخابی دھاندلی میں بے ایمانوں کا ساتھ دیا۔ گیلانی کے بیٹے کا وہ ویڈیو جسمیں وہ سندھ اسمبلی سے تعلق رکھنے والے پی ٹی آئی، یعنی عمران کی پارٹی، کے اراکین کو بے حیائی سے کڑوڑوں روپے کی رشوت کی پیشکش کررہا تھا اسلئے نہیں کہ وہ گیلانی کا ساتھ دیں بلکہ اسلئے کہ وہ اپنا ووٹ اس طور سے ڈالیں کہ وہ ضائع ہوجائے! اور ہوا بھی یہی۔ سینٹ کا نتیجہ سب سامنے آیا تو حکومتی امیدوار، حفیظ شیخ گیلانی سے صرف پانچ ووٹوں سے ہار گئے جبکہ سات ووٹ رد کردئے گئے کیونکہ وہ ضوابط کے خلاف استعمال کئے گئے تھے!
بہ الفاطِ دیگر، گیلانی کے سپوت کی دی ہوئی رشوت نے اپنا کھیل دکھایا اور وہ ووٹ جو حفیظ شیخ کے کھاتے میں جانے چاہئے تھے رد کردئیے گئے۔ یہ نہ ہوتا تو وہ گیلانی کا کم از کم دو ووٹوں سے شکست دے دیتے!
جو اصل المیہ ہے وہ یہ کہ گیلانی کے سپوت کا کارنامہ دنیا بھر میں الم نشرح ہوچکا تھا، انتخاب سے دو دن پہلے لیکن الیکشن کمیشن کے کان پر جوں بھی نہیں رینگی۔ یوں لگتا تھا کہ دنیا بھر میں یہ شرمناک ویڈیو وائرل ہوچکی تھی لیکن الیکشن کمیشن اپنی آنکھیں اور کان بند کئے رہا اسلئے اسے تو سان گمان بھی نہیں ہوا کہ انتخاب کے قوانین کی دھجیاں گیلانی کا سپوت بکھیر چکا تھا!
بے شرمی کی انتہا کی ہے الیکشن کمیشن نے کہ اس کھلی ہوئی دھاندلی کے بعد بھی اس کا یہ دعوی ہے کہ اس نے الیکشن صاف اور شفاف کروائے ہیں اور کوئی بے قائدگی نہیں ہوئی! یہی نہیں بلکہ عمران کے اس الزام کے جواب میں کہ کمیشن نے اپنا کام دیانتداری سے سر انجام نہیں دیا کمیشن نے وزیر اعظم کا مذاق اڑایا، ان پر پھبتی کسی اور طعنہ دیا کہ وزیر اعظم صرف اس الیکشن کو شفاف جانتے ہیں جس میں ان کی پارٹی کی جیت ہو!
الیکشن کمیشن کی اخلاقی گراوٹ تو ووٹنگ کے دوران بھی دنیا نے دیکھی جب ووٹنگ کا انچارج اپنے قدموں پہ کھڑا ہوگیا جب بلاول اور رسوائے زمانہ شہباز شریف ووٹ ڈالنے آئے۔ اس وقت اس کی غلامانہ اور فدویانہ مسکراہٹ دیکھنے والی تھی اور اس کی بے ضمیری کی چغلی کھارہی تھی لیکن یہ بے ضمیر اپنی نشست پر بیٹھا رہا، رعونت کے ساتھ، جب عمران بحیثیت رکن اسمبلی ووٹ ڈالنے کیلئے آئے!
ایسے بے ضمیر اور بکاوٗ الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں جو انتخاب ہوگا اس پر شبہ اور شک کا سایہ پڑا رہیگا۔ ببول کے پیڑ پر صرف کانٹے اُگ سکتے ہیں، نیم کے درخت سے یہ توقع رکھنا کہ اس پر آم لگیں گے حماقت ہے۔ اسی طرح ایسے بے ایمان اور جانبدار الیکشن کمیشن سے غیر جانبداری کی امید رکھنا بے بنیاد ہوگا! لہذٰا پہلی ذمہ داری عمران حکومت کی یہ ہونی چاہئے کہ وہ الیکشن کمیشن کو مکمل غیر جانبدار خطوط پر استوار کرے۔ کمیشن کی تشکیلِ نو کے بغیر شفاف انتخابات کی آس رکھنا ایسے ہی ہوگا جیسے کوئی سورج کے ٹھنڈے پڑجانے کی آس لگائے!
اسی طرح یہ امید رکھنا کہ پاکستانی عوام کی آنکھیں بے ضمیری اور اخلاقی پسماندگی کے یہ مظاہر دیکھنے کے بعد کھل جائینگی بے کار ہے۔ پاکستان کے عوام کا مسئلہ جہالت اور تعلیم کی کمی سے زیادہ اس ملک کا جاگیرداری نظام ہے جو اس کی جڑوں میں بیٹھا ہوا ہے ورنہ اور کیا وجہ ہے کہ ان رسوائے زمانہ پاکستانی سیاسی چوروں کی دھاندلیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے باوجود آج بھی ان کے حق میں نعرے لگانے والے سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ دو ہی وجوہات ہوسکتی ہیں اس کی، یا تو عوام خود بے ایمان ہوچکے ہیں سو ان کی نظر میں چوری چوری نہیں رہی یا پھر ان کے منہ ناجائز کمائی ہوئی دولت کے سکّوں سے بھر دئیے جاتے ہیں۔ حقیقت کچھ بھی سہی وہ معاشرہ جس میں سے خیر و شر کی تمیز اٹھ جائے اور جہاں چور اور ڈاکو رہنمائی کے دعویدار ہوں اور اس دعوی کو جائز سمجھنے والے بھی پائے جاتے ہوں پھر اس کی تباہی اور بربادی مقدر ہوجاتی ہے!
در اصل یہ پورا سیاسی نظام گل سڑ چکا ہے اور اس حالت کو پہنچ چکا ہے جہاں اسے کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دینا چاہئے اس کے سوا اس کا کوئی علاج ممکن نہیں ہے۔ مرض اب اس حال میں ہے جہاں اسے فوری سرجری کی ضرورت ہے، جسم کا جو حصہ گل سڑ جائے اسے کاٹنا ضروری ہوجاتا ہے اور یہ موجودہ پارلیمانی نظام اب اسی حالت میں ہے۔ یہ نظام جاگیرداروں، نودولتیوں اور طالع آزماوٗں کی ملکیت بن چکا ہے اس میں نہ عوام کی کوئی شرکت ہے نہ اس سے عوام کی کوئی امید پوری ہوسکتی ہے!
یہ عاجز برسوں سے کہتا آرہا ہے اور آج پھر کہہ رہا ہے کہ پاکستان کی فوری ضرورت پارلیمانی نظام کے بجائے صدارتی نظام حکومت ہے جس کی تائید میں ہماری اپنی تاریخ گواہ ہے کہ ایوب خان کے گیارہ سالہ دورِ اقتدار میں، جب ملک میں صدارتی نظام تھا، پاکستان نے جو ترقی کی نہ اس سے پہلے کی تھی نہ پھر اس کے بعد ممکن ہوئی۔ بعد میں تو یوں بھی اس کا امکان نہیں رہا کہ اقتدار چوروں اور ڈاکووٗں کے قبضہ میں چلاگیا جنہوں نے اس کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا اور اپنے گھر بھرے۔ ملک البتہ قلّاش اور کنگال ہوتا چلاگیا!
سو اب یہ عمران کیلئے چیلنج ہے کہ وہ اس خلأکو پر کریں۔ پہلا کام تو کرنے کا یہ ہے کہ ملک میں اس سوال کا جواب لینے کیلئے ریفرنڈم کروایا جائے کہ پاکستانی عوام صدارتی نظام کے حق میں ہیں یا نہیں؟ اور یہ ریفرنڈم اس بد دیانت الیکشن کمیشن کی سرپرستی میں نہیں بلکہ فوج کی نگرانی میں ہو تاکہ الیکشن کمیشن عوام کے فیصلے کو بدل نہ سکے!
دوسرا کام عمران کیلئے یہ ہے کہ وہ فوجی قیادت کو اس پر قائل کریں کہ یہ موجودہ پارلیمانی نظام اور پاکستان ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔ اس آئین کو بدلنے کی ضروت ہے جو چوروں کیلئے سہولت اور عوام کیلئے زحمت بنا ہوا ہے۔ اس پوری بساط کو لپیٹنے کی ضرورت ہے جس پر ملا فضلو جیسے شاطر اور بے ضمیر اپنی شطرنجی چالیں پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف چلتے رہتے ہیں! پاکستان آج وہاں ہے، ایک کھڈ کے کنارے پر جہاں ایک غلط قدم اسے اس گہرائی میں پھینک سکتا ہے جہاں سے نکلنا شاید ممکن نہ ہو!
پاکستان پر اگلے دس برس تک ڈنڈے سے حکومت ہونی چاہئے تاکہ سیاسی غلاظت اور بے ایمانی کا یہ کوڑا جو پہاڑ بن چکا ہے صاف ہوسکے۔ پاکستان کی موجودہ نسل یہ ثابت کرچکی ہے کہ وہ ایک جمہوری معاشرے کی اہل نہیں ہے کیونکہ اس میں ان اقدار کا ذرّہ برابر احترام نہیں ہے جو ایک معاشرے کو قانون کا پابند رہنا اور قوائد و ضوابط کے تحت کام کرنے کا شعور دیتا ہے! وہ نظام پاکستان کو کچھ نہیں دے سکتا جس میں ہار چور یوسف رضا گیلانی آنکھوں کا تارا بنا ہو اور یہی نہیں چوروں کا ٹولہ اب اسی ہار چور گیلانی کو، جسے ملک کی عدالتِ عالیہ حکم عدولی اور زرداری کی غلامی کے جرم میں وزارتِ عظمی سے برطرف کرچکی ہے، سینٹ کا چیرمین بنوانے کیلئے ڈول ڈال رہا ہے! کیا بدنصیبی ہے پاکستان کی بھی!!!