پھکڑ تماشہ!!

205

میں ہر گز یہ نہیں کہہ رہا کہ چند روز پہلے جو کچھ اسلام آباد میں ہوا وہ پھکڑ تماشہ تھا آپ کو اختلاف رائے کا حق حاصل ہے ہم آخر امریکہ میں رہتے ہوے پاکستان میں یکم سے چھ مارچ کے واقعات کو پھکڑ تماشہ کیسے کہہ سکتے ہیں کیا ہمیں چھ جنوری کو کیپیٹل ہل پر حملہ بھو ل گیا ہے وہ تو ایک المیہ تھا اس میں پانچ انسانی جانیںضائع ہوئی تھیں البتہ چھ جنوری سے پہلے چار سال تک یہاں جو کچھ ہوا اسے پھکڑ تماشہ ضرور کہا جا سکتا ہے یہاں جو ہنگامہ چار سال تک جاری رہ سکتا ہے وہ اگر صرف چھ دن تک کہیں اورہوتا رہے تو ہم اس پر اعتراض کرنے والے کون ہوتے ہیں میں اگر اپنی بات کی وضاحت کرنے میں ابلاغی افلاس کا شکار ہوں تو اسکی وجہ یہ ہے کہ میں نے انشراح صدر سے یہ نہیں بتایاکہ وہاں آخر مارچ کے پہلے چھ دنوں میں کیا ہوا میں اب تک مارچ کا ذکر اتنی مرتبہ کر چکا ہوں کہ آپ انگریزی کے مشہور جملے Ides of Marchکے بارے میں سوچ رہے ہوں گے انگریزی اردووکشنری میں Ides کامطلب ’’ پکھواڑا‘‘ ہے روم کے پرانے کیلنڈر کے مطابق پورے چاند کا یہ پہلا دن تیرہ سے پندرہ مارچ تک آتا ہے اس جملے کو شہرت دوام شیکسپیئر نے اپنے مشہور ڈرامے ــ’’ جولیس سیزر‘‘ کے ایکٹ ون سین ٹو میںبخشی اس سین میں ایک کاہن سیزر کو مخاطب کر کے کہتا ہے” Beware the ides of March” یعنی مارچ کی مشکلات سے بچ کر رہوجولیس سیزر یہ سن کر تذبذب میں پڑ جاتا ہے مگر وہ کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پاتا،بلا آخر پندرہ مارچ کو اس کا قابل اعتماد دوست سینیٹر بروٹس اسے سینٹ کی عمارت کے سامنے ایک ہجوم کی موجودگی میں چھرا گھونپ کر ہلاک کر دیتا ہے شیکسپئیر کے ڈرامے میں سیزر اس ڈرامائی منظر میں دم توڑنے سے پہلے اپنے قاتل کی طرف دیکھ کر کہتا ہے Brutus You Too شیکسپیئر کو معلوم نہ تھا کہ یہ دو جملے انگریزی ادب کے آسمان پر روشن ستارے بن کر ہمیشہ جگمگاتے رہیں گےIdes لاطینی زبان کا لفظ ہے سلطنت روم میں پندرہ مارچ کو قرض کی ادائیگی کا آخری دن سمجھا جاتا تھا مغربی دنیا کی تاریخ پندرہ مارچ کے دن برپاہونیوالے المیوں سے بھری پڑی ہے اس دن سلطنتیں تباہ ہوئیں‘ کئی ملک فتح ہوے‘ خوفناک طوفان آئے‘ آتش فشاں پھٹے اور لاکھوں افراد ہلاک ہوے اس لئے مارچ کے مہینے مغربی ممالک میں Ides کا ذکر اکثر ہوتا ہے
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں نجومیوں‘ زائچہ بنانے والوں‘ فال نکالنے والوں ‘ ماہرین علم لاعداد‘ دست شناسوں‘الہامی منصب داروں‘ خدائی فوجداروں اور معاشرتی ٹھیکیداروں کی کوئی کمی نہیں اس لئے وہاں اب تک مارچ میں جو کچھ ہو چکا ہے اورآگے چل کر جو کچھ ہونیوالا ہے اس پر اہل فکر و نظر نے بھی اکابرین زائچہ نویسی سے رجوع کرنا ضروری سمجھا ہے انہیں جو خوفناک زائچے بنا کر دئے گئے ہیں انہیں رہنے دیتے ہیں پہلے دیکھتے ہیں کہ اس پراسرار مہینے میں اب تک اپنے دیس میں کیا ہوا ہے سب سے پہلے تو یکم مارچ کو عدالت عظمیٰ کا سینٹ میں کھلی یا خفیہ ووٹنگ کا وہ تاریخ ساز فیصلہ آیا جسے حکومت اور حزب اختلاف دونوں نے اپنی کامیابی قرار دیا بہ الفاظ دیگر یہ مقابلہ برابر رہا کسی کو بھی دندان شکن شکست نہ ہوئی اسکے بعدتین مارچ کو سینٹ کا معرکتہ لآرا میچ وزیر خزانہ عبدلحفیظ شیخ اور سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے درمیان ہواملتان کے مخدوم غیر متوقع طور پر وفاقی وزیر سے پانچ ووٹ زیادہ لے کر سرخرو ہوے حکومتی جماعت نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کر دیا ہے لہٰذا Ides of March کے مقولے کے مطابق عدالت کی مشکلات میں ایک مرتبہ پھر اضافہ ہو گیا ہے اگلے مرحلے میں چار مارچ کو وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے دھواں دھار خطاب کیا اور حسب توقع چور ڈاکو اور لٹیرے جیسے مشہورو معروف اسم ہائے صفت کی بوچھاڑ کر دی اس روز سڑکوں پر بھنگڑوں کی خبریں تو نہیں آئیں البتہ اس گرمئی گفتار نے سوشل میڈیا کو چکا چوند کر دیاعرف عام میں جس مخلوق کو Base کہا جاتا ہے وہ اتنی چارج یا گرم ہوئی کہ حریفوں کی زبان کو دندل پڑ گئے اگلے روز وابستگان علم و ادب نے اخلاقیات کے مروجہ سماجی تصورات اور معاشرے کے اجتماعی شعور جیسی بیش بہا اور گرانقدر اصطلاحات کو بیچ میدان لا کھڑا کیا اس درس و تدریس کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے یہ اخلاقی گرفت اور وجدانی تاثر ابھی دھوم مچا رہا تھا کہ چھ مارچ کو وزیر اعظم نے قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ بڑے طمطراق اور تزک و احتشام سے لے لیا اس کے بعد ہمارے شعلہ مزاج وزیر اعظم نے ایک مرتبہ پھر قوم کے سواد اعظم سے استباط کیا اس روز اقتدار و اختیا ر کے ایوان میں کھڑے ہوکر انہوں نے کرپشن کے دیو قامت بتوں کے پرخچے اڑا دیئے ایسا تڑکہ ہوا کہ حریفوں کے چودہ طبق روشن ہو گئے حزب اختلاف کی رد خلائق اور مطعون برادری کے ایسے لتے لئے گئے کہ انکی دنیائے دل زیر و زبر ہو گئی احتساب‘ مواخذے اور اخلاقی گرفت کی گردان بام فلک کے ستارے نوچ لائی اظہارلحق صاحب کا لافانی شعر ہے
غلام بھاگتے پھرتے ہیں مشعلیں لے کر
محل پر ٹوٹنے والا ہو آسماں جیسے!!
اس آپا دھاپی کا نتیجہ یہ ہوا کہ Base ایک مرتبہ پھر چارج ہوگئی اہل صدق و صفا نے وہ اودھم مچایا کہ حریف چلا اٹھے داور حشر میرا نامہ اعمال نہ دیکھ اسکے بعد سے اب تک فیس بک اور ٹوٹر پر اشتعال کی سپاہ کف در دہان ہے وہ اپنے تئیں حق گوئی کا غسل صحت منا رہے ہیں اور نحیف و نزار عوام ہے کہ ڈھائی سالوں سے غربت و افلاس کی چکی میں پسنے کے بعد اب تالیاں بھی نہیں بجا سکتے یہ لٹھم لٹھا یہاں ختم نہیں ہوتا اب بارہ مارچ کو چئیرمین سینٹ کا انتخاب ہے ‘ اسی مہینے کی اٹھارہ تاریخ کو ڈسکہ کے ضمنی انتخاب میں وابستگان سیاست و صحافت پھر آمنے سامنے ہوں گے مارچ کے اختتام سے پانچ روز پہلے پھر گھمسان کا رن پڑے گاشمشیر خارا شگاف پھر بے نیام ہو گی سود و زیاں کا بہی کھاتہ پھر کھلے گا یہ لانگ مارچ کا دن ہو گاایکٹ ون سین ٹو ’’ جولیس سیزر‘‘ Beware the ides of March
چلتے چلتے پھکڑ تماشے کے مفہوم کے لئے عصر حاضر میں اردونظم کے بادشاہ اور بے مثال انشا پردازقابل صد احترام ڈاکٹر ستیہ پال آنند سے رجوع کرتے ہیں میں نے اس کالم کا عنوان ان کے آٹھ مارچ کے برقی پیغام سے لیاہے اس میں لکھا ہے’’ اردو شاعری کی مروجہ اصناف میں ‘ ڈرامہ کے تحت‘ جہاں طربیہ تمثیل کا ذکر آتا ہے وہاں پھکڑ تماشہ کا ذکر مفقود ہے۔۔۔۔۔ناٹک کی صنف کے تحت جہاں پھکڑ تماشہ ملتا ہے وہاں دیگر اصناف بھی موجود ہیں‘‘ اس کے بعد ڈاکٹر آنند نے اس اصطلاح کے مفہوم اور پس منظر پر روشنی ڈالی ہے اس کا ذکر پھر کبھی سہی فی ا لحال مارچ کے ختم ہونے کا انتظار کرتے ہیں۔۔۔