عائشہ خان کی دو منٹ کی ویڈیو!!!

229

کچھ دن پہلے انٹرنیٹ پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی، ویڈیو ایک تئیس (23)سالہ لڑکی عائشہ کی تھی جو انڈیا گجرات میں ایک ندی کے کنارے بیٹھی ویڈیو بنارہی تھی، اس طرح کی سینکڑوں ویڈیوز روز انٹرنیٹ پر ڈالی جاتی ہیں جس میں نوجوان لڑکے لڑکیاں اکثر اپنے دل کی باتیں ریکارڈ کر کے ڈالتے ہیں، یہ ویڈیوز سو دو سو لوگ دیکھتے ہیں اور پھر یہ غیر اہم ہو جاتی ہیں لیکن عائشہ کی ویڈیو بہت ہی خاص تھی اور اس لئے چند دنوں میں کئی سو ملین لوگ اس دو منٹ کی ویڈیو کو دیکھ چکے ہیں۔
عائشہ کی ویڈیو دیکھنا شروع کریں تو یوں لگتا ہے کہ جیسے یہ کوئی عام سی ویڈیو ہے، جس میں کوئی لڑکی اپنے درد کو بیان کررہی ہے شیئر کررہی ہے، لوگوں کے ساتھ ہنستی، مسکراتی مگر جذباتی ویڈیو میں وہ کہتی نظر آتی ہے کہ میں تھک گئی ہوں، مجھے زندگی نے سب کچھ دیا ، پیار کرنے والے ماں باپ بہت اچھے دوست لیکن شاید مجھ میں ہی کہیں کوئی کمی رہ گئی جو میرا پیار ادھورا رہ گیا، میں اُسے مکمل طور پر حاصل نہیں کر پائی۔
ویڈیودیکھتے دیکھتے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ صرف گلہ نہیں کررہی ہے بلکہ اس دنیا سے پوری طرح تنگ آچکی ہے، وہ صرف شکایت نہیں کررہی بلکہ اپنی زندگی کے آخری دو منٹ ریکارڈ کررہی ہے جس کے فوراً بعد وہ ندی میں کود کر اپنی جان دے دی گی۔
آپ اگر Muteکر کے یہ ویڈیو دیکھیں تو ایک لمحے کو بھی آپ کو یہ خیال نہیں آئے گا کہ یہ ہنستی مسکراتی لڑکی جو کبھی سائیڈ سے اپنا حجاب درست کررہی ہے، کبھی آنکھوں پر پڑی دھوپ ہاتھ کی آڑ بنا کر روک رہی ہے چند ہی منٹ میں اپنے آپ کو ندی کے پانی کے حوالے کر کے اس دنیا کو خیر باد کہہ دے گی۔
عائشہ کی شادی 2018ء میں عارف نامی لڑکے سے ہوئی جو کہ اس کا دور کا رشتہ دار بھی تھا، دونوں اس شادی سے خوش تھے لیکن کچھ ہی عرصے میں سسرال والوں کا رویہ بدلنے لگا اور وہ لوگ جن میں شوہر بھی شامل تھا رقم کا مطالبہ کرنے لگے، عائشہ کو مجبور کرنے لگے کہ اپنے والد سے پیسے لے کر آئو، عائشہ نے ان کا یہ مطالبہ والد تک پہنچایا، وہ ایک درزی ہیں،محنت مشقت کر کے ایک درزی کتنی رقم کما سکتا ہے یہ سب کواندازہ ہے لیکن پھر بھی انہوں نے اس لئے کہ بیٹی کا گھر بسا رہے کسی نہ کسی طرح دو لاکھ روپے سسرال والوں کو دئیے، کچھ دن بہتر گزر گئے مگر پھر وہی مطالبات، وہی ناروا سلوک اب تو بات تشدد، گالیوں اور مارپیٹ تک پہنچ گئی اور ایک دن مارپیٹ کر عائشہ کو گھر سے نکال دیا گیا، عائشہ عارف سے سچ مچ محبت کرتی تھی اور اس سے تعلق توڑنا نہیں چاہتی تھی اُسی کے گھر میں بسنا چاہتی تھی اُس کی کوشش تھی کہ عارف اُسے واپس بلا لے۔
عائشہ کے والد نے جب دیکھا کہ سسرال والوں کا اور عارف کا رویہ جوں کا توں ہے بلکہ مارپیٹ اور مطالبات میں زیادتی ہوتی جارہی ہے تو انہوں نے ان لوگوں کے خلاف پولیس میں شکایت درج کروا دی۔ عائشہ مستقل عارف کو فون اور ٹیکسٹ کرتی تھی لیکن وہ اُس کا جواب نہیں دیتا تھا، ایک دن عارف نے اُس کا فون اٹھا لیا، عائشہ متواتر دو سال کے ٹارچر سے تھک گئی تھی اُس نے عارف سے کہا کہ اگر یہ سب ختم نہیں ہوا تو میں خودکشی کر لوں گی، عارف جو کہ غالباً اپنے آپ کو فلمی ہیرو سمجھ رہا تھا نہایت بے رخی سے بولا کہ اچھا تو جائو کر لو لیکن خودکشی کی ویڈیو بنا کر ضرورت بھیج دینا تاکہ مجھے یقین ہو جائے کہ تم نے خودکشی کر لی ہے۔بس یہ لمحہ، یہ جملہ تھا کہ جب عائشہ کے حساب سے اس کی زندگی ختم ہو گئی، وہ اُس وقت احمد آباد گجرات کے دریا سابرمتی کے پاس ہی بیٹھی تھی، اُس نے اپنے گھر والوں کو فون کیا اوراپنے والد سے کہا کہ میں خودکشی کررہی ہوں، والد نے بہت منت سماجت کی، یہ بھی کہا کہ میں پولیس کیس بھی واپس لے لوں گا والدہ نے بھی خوشامدیں کیں کہا بھائی آرہا ہے تم کو لینے خدارا ایسا مت کرنا، باپ نے کہا کہ اگر تم ایسا کرو گی تو میں سارے گھر والوں کو مار کر خود بھی مر جائوں گا جس پر عائشہ نے کہا کہ اچھا میں گھر آرہی ہوں، باپ نے لوکیشن پوچھی تو عائشہ صحیح طرح بتا نہیں پائی جس پر باپ نے کہا کہ تم رکشہ لے کر آئو اور پھر لائن کٹ گئی جس کے بعد عائشہ نے کسی سے بات نہیں کی۔
عائشہ کی لاش 25فروری کو دریا سے ملی، اُس وقت سے یہ ویڈیو اور والد سے گفتگو انٹرنیٹ پر وائرل ہیں۔
عائشہ کے والد نے ایک چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ کاش میری عائشہ کی موت سے اوروں کو سبق حاصل ہو اور جہیز کی لعنت سے مکمل نجات حاصل کی جائے۔ میری عائشہ تو چلی گئی لیکن دوسری بچیاں بچ سکیں، ہر مذہب ہر قوم کی بیٹی کو عزت سے زندہ رہنے کا حق ملنا چاہیے، ایک اچھی زندگی، کامیاب زندگی وہ ہوتی ہے جہاں خوشحال گھرانہ خوشی خوشی ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوتا ہے، گھر کا ماحول خوشگوار اور صحت مند ہے تو آپ باہر بہت سی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں، وہ عائشہ جو صرف 23سال کی تھی اور عارف جو 25سال کا تھا آپس میں مل جل کر رہتے، محنت کرتے، عائشہ ایم اے پاس تھی اور ایک بنک میں ملازم تھی اور عارف بی کام تھا یہ اپنی تعلیم اپنی صلاحیتوں کو کام میں لاتے تو ہو سکتا ہے کہ دو لاکھ روپے سسرال سے لینے والا عارف کروڑوں روپے کماتا، عائشہ کی تعلیم اور سمجھداری کا فائدہ اٹھا کر لیکن اس کے لالچ نے اُس کو ایسا اندھا کیا کہ اُسے کچھ نظر ہی نہیں آیا، دو خاندان تباہ ہو گئے۔
ہم امید کرتے ہیں، دعا کرتے ہیں کہ جہاں جہاں جہیز کی لعنت ہے۔ خاص طور سے انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش میں وہاں وہاں عائشہ کے والد کا پیغام پہنچے، جہیز کی لعنت سے چھٹکارا ملے اور کسی عائشہ کو اپنے آپ کو دریا برد نہ کرنا پڑے، جہیز کے خلاف قوانین تو موجود ہیں لیکن اصل چیز ان پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہے۔