کرپشن کے خلاف جنگ ؛ حفیظ شیخ کیوں نشانہ پر؟

212

سب سے پہلے، پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو دلی مبارکباد کہ انہوں نے پورے اعتماد کے ساتھ قومی اسمبلی میںجو اعتماد کا ووٹ مانگا تھا ، عوامی نمائندوں نے بھر پور طریقہ سے انہیں دیا۔ اور ثابت کر دیا کہ وہ کرپشن کے خلاف جنگ میں ان کے ساتھ ہیں۔اگر وہ حزب مخالف کے ان چوروں، راشیوں اور غیر محب وطن عناصر کے ساتھ ہوتے تو ایسا کبھی نہ کرتے۔اس سب کی تہہ میں اصل تو سیاست ہے۔ سیاسی مفادات کا تقاضا یہی تھا کہ ارکان اسمبلی، اسمبلی کو ٹوٹنے سے بچاتے اور وقت سے پہلے عام انتخابات کے اخراجات اور جد و جہد سے بچتے۔ شکست خوردہ عناصر تو چاہتے تھے کہ اسمبلی ٹوٹے اور انہیں دوبارہ قسمت آزمائی کا موقع ملے۔ ان میں سر فہرست ہمارے جانے پہچانے فضل الرحمن تھے جن کو یہ خبر ایک شدید چوٹ بن کر لگی اور ان کا منہ درد و کرب سے اور بھی زیادہ مکروہ نظر آنے لگا۔دوسری پارٹیوں نے بھی سکھ کا سانس لیا۔ پی پی پی اور ن لیگ والے توپہلے ہی اندازہ لگا چکے تھے کہ وہ یہ ووٹ نہیں جیت سکیں گے اس لیے اسمبلی کے باہر مجمع لگا کر بے معنی اور شرمناک مظاہرہ کرتے رہے اور خاقان عباسی نے تو بھڑکیں بھی ماریں جیسے کہ دنگل ہو رہا ہو!
پاکستان کی اقدار اور مفادات کی مخالفین جماعتیں اتنے ڈھٹائی اور بے حیائی سے حکومت کے خلاف ایک ایسی مہم چلائے ہوئی ہیں جس کا فائدہ سوائے پاکستان کے دشمنوں کے اور کسی کو نہیں ہو سکتا۔ کہنے کو یہ جمہوری تماشا ہے لیکن یہ سوائے عوام کے وقت اور وسائل کے ضیاع کے اور کچھ نہیں۔ ان کے جلسوں سے جو کو وڈ پھیلا اس کا حساب کسی دن عوام مانگیں گے۔ان سب کا سر غنہ وہ بھاگا ہوا مجرم ہے جو لندن سے ان سب کی ڈوریں ہلا رہا ہے۔ اپنا ایک دھیلا نہیں نکالتا، زرداری سے پیسے لگواتا ہے یا اپنی پٹواری برادری سے۔پٹواری بھی بیوقوفوں کی طرح اس امید پر پیسے لگا رہے ہیں کہ موجودہ حکومت گر جائے گی تو انکا مجرم قائد واپس آ کر پھر سے حکومت سنبھال لے گا اور ان کے پو بارہ ہو جائیں گے۔ ان بے چاروں کو نواز اور زرداری کے مہروں نے جو امید دلا رکھی ہے اور جو سہانے خواب دکھائے جا رہے ہیں، انکو ہوش تب آئے گی جب تک وہ پوری طرح سے لُٹ چکے ہوںگے۔
زرداری کے پاس کرپشن سے کمایا ہوا بے حساب پیسہ ہے، ملک میں بھی اور باہر بھی۔ وہ اس پیسے کوجس فارمولے کے مطابق استعمال کرتا ہے وہ تیر بہدف ہے۔ مفروضہ بلکہ اصول یہ ہے کہ پاکستانی نظام مکمل طور پر کرپٹ ہے۔ اس کا فائدہ اٹھائو اور جی بھر کر رشوت لو۔ پیسہ جہاں سے بھی ملے، خصوصاً سرکاری ٹھیکوں سے۔ سرکاری ملازمتوں کی فروخت سے، وغیرہ۔ جہاں کہیں کوئی اہلکار شور مچانا چاہے اس کا منہ انہی روپوں سے بھر دو۔ اگر معاملہ عدالت میں پہنچ جائے، خواہ کوئی بھی عدالت۔ احتساب عدالت، ہائی کورٹ وغیرہ۔ سب جگہ پیسہ چلتا ہے۔اگر پکڑے گئے تو کچھ ڈرامہ بازی ہوتی ہے اس کے بعد باعزت بری ہو جاتے ہیں۔یہ سلسہ سالوں سے چلا آ رہا ہے۔نواز شریف چونکہ اپنی خصلت سے مجبور ہے وہ یہی کام بجائے پیسوں کے، سرکاری اثر و رسوخ استعمال کر کے انہیں اہلکاروں کو فائدہ پہنچاتا تھا اور وہ اس کے زر خرید غلام بن جاتے تھے۔حیرت تو ان اہلکاروں پر ہے جو ابھی بھی اس کی وفاداری کرتے ہیں خواہ کتنی بڑی بے ایمانی نہ کرنی پڑے۔ لاہور ہائی کورٹ، محکمہ احتساب اور الیکشن کمیشن، وغیرہ اس کی زندہ مثالیں ہیں۔اس لیے،صاحبو، اس ملک میں زرداری کا بال بیکا نہیں ہو سکتا اور نہ ہی ن لیگ کے قائدین کا ۔ یہ سب شو بازی کے لیے چند روز فرسٹ کلاس نظر بندی میں گزارتے ہیں اور پھر باہر آ کر بغلیں بجاتے ہیں۔ بلکہ حکومت کو ٹھینگا دکھاتے ہیں۔یہ لاہور ہائی کورٹ کا کمال ہے کہ آج تک شہباز شریف کو جھوٹا ضمانت نامہ دینے پر باز پُرس نہیں کی گئی جو اس نے اپنے بڑے بھائی کی رہائی کے لیے دیا۔ اور نہ ہی مریم صفدر کی مستقل ضمانت پر مقدمہ کی طرف توجہ دی۔ بقول شاعر، ؎جو چاہے ان کی نگاہ کرشمہ ساز کرے
کرپشن، جس کا اردو ترجمہ بد عنوانیت کیا جاتا ہے، وہ غالباً عام فہم نہیں ہے۔اس لیے ہم انگریزی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔کرپشن پاکستان کا ہی نہیں، ساری دنیا کا مسئلہ ہے۔Corruption Perception Index (CPI) بین الاقوامی ادارہ برائے شفافیت کی وہ فہرست ہے جو یہ ادارہ سالانہ جاری کرتا ہے۔ اس فہرست میں 180ملکوں کو انکی کرپشن کے مرتبے کے لحاظ سے ترتیب کیا جاتا ہے۔ کرپشن کی سطح معروضی بنیادوں کے بجائے سرکاری حکام میں کرپشن کے تاثرکو تاجروںاور ماہرین کی آراء سے جانچا جاتا ہے۔ اس کا پیمانہ صفر سے لیکر ایک سو تک ہے، جس میں کرپشن سے بالکل پاک ملک کا سکور ایک سو ہو سکتا ہے اور سب سے زیادہ کرپٹ کا سکورصفر۔گذشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی دنیا کے دو تہائی ممالک کا سکور پچاس اور اس سے کم پایا گیا، اور اوسط سکور ۴۳ تھا۔ اگرچہ اس میں کچھ بہتری آئی ہے لیکن زیادہ تر ممالک کرپشن پر قابو پانے میں ناکام نظر آتے ہیں۔پاکستان کا سکور ۳۱ تھا اور یہ فہرست میں ۱۲۴ واں تھا۔ پاکستان میں تاثر جاننے والوں کے ۳۵ فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ گذشتہ بارہ ماہ میںکرپشن بڑھی تھی۔ اور سرکاری ملازمین سے کام کروانے لوگوں کی ایک چوتھائی نے رشوت دی تو انکا کام ہوا ۔ پاکستان میں اس ادارہ کا ایڈوکیسی اور لیگل ایڈوائس کا سینٹر موجود ہے جہاں رشوت مانگنے والوں کے خلاف شکایت کی جا سکتی ہے۔ اس کا پتہ ہے: 4-C خیابان اتحاد، فیز ۷، DHA کراچی۔
سرکاری عہدوں کا غلط استعمال کرنے سے عوام کا حکومت اور اداروں پرپر اعتمادختم ہو جاتاہے۔ یہ سرکاری حکمت عملی کو بے معنی بنا دیتا ہے، اور سرکاری خزانے کی رقومات کو بجائے سکولوں، سڑکوں، اور ہسپتالوں پر خرچ کرنے کے ،چرا لیا جاتا ہے۔جو وسائل چوری ہوتے ہیں وہ تو نقصان کرتے ہی ہیں، لیکن کرپشن کی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہے۔ کیونکہ اس سے حکومت کی معاشی حالت بہتر کرنے کی اہلیت کم ہو جاتی ہے، جس سے سب کو فائدہ پہنچتا ۔ عالمی ادارہ برائے شفافیت کی تحقیق بتاتی ہے کہ کرپشن کی وجہ سے کسی ملک کے عوام کو ان قدرتی وسائل سے صحیح فائدہ نہیں پہنچتا جو پہنچنا چا ہیے۔ جن ممالک میں وسائل زیادہ ہوں ان میں اوسطاًادارے کمزور ہوتے ہیں اور کرپشن زیادہ۔ایسے ممالک میں وسائل کا ضیاع کم کرپشن والے ممالک کی نسبت دوگنا ہوتا ہے۔اس لیے کہ کرپٹ معاشروں میں جو پیسہ سرکاری منصوبوں پر خرچ ہونا ہوتا ہے، اس کا ایک بڑا حصہ حکام کھا جاتے ہیں۔ آئی ایم ایف کی عالمی تحقیق بتاتی ہے کہ جن ملکوں میں کرپشن کم ہے وہاں کے طالب علموں کے امتحانات میں نتائج زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔اور یہ کہ سرکاری نگرانی میں چلنے والے اداروں میں زیادہ کرپشن ہوتی ہے، جیسے تیل کی ترسیل، بجلی کی پیداوار اور فراہمی، اور پانی کی فراہمی والے ادارے۔اسی تحقیق سے جو اسباق ملتے ہیںان سے اداروں کو کرپشن سے پاک کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ جیسے:
حکومت اعلیٰ سطح پر شفاف اور غیر جانبدار بیرونی احتساب پر سرمایہ کاری کرے۔ جیسے کولمبیا، کوسٹا ریکا، اور پیرا گوا میں آن لائن سہولتیں بنا دی گئی ہیں جس سے عوام منصوبوں کی کار کردگی اور ترقی دیکھ سکتے ہیں۔ تجربہ بتاتا ہے کہ آزاد صحافت بھی شفاف معیشت کے فوائد دکھا تی ہے۔مثلاً برازیل میں آڈٹ کی وجہ سے کئی امید واروں کو جن پر خرد برد کے الزامات تھے ان کو انتخابات میںمشکلات آئیں۔ اور اس کا اثر وہاں زیادہ تھا جہاں مقامی ریڈیو سٹیشن تھے۔
۔ اداروں میں اصلاح کرنے سے کرپشن میں واضح کمی آ سکتی ہے جیسے ٹیکس کے مروجہ قوانین اور طریق کار کو آسان بنایا جائے جس سے سرکاری حکام کو عمل دخل اور اثر انداز ہونے کا موقع کم ہو۔ان کاموں کے لیے حکومت آئی ایم ایف سے مدد لے سکتی ہے۔
۔ سول سروس میں قابلیت پر مبنی بھرتیاں کی جائیں۔ اور ان کے اعلیٰ نگراں افسر ماتحتوں کو اخلاقی مثال بن کر دکھائیں۔
۔ حکومت کو چاہیے کہ ایسے معاملات پر خاص دھیان دے جہاں رشوت کے مواقع عام ہوتے ہیں جیسے خریداری، مالیہ کا حصول، قدرتی وسائل میں لین دین، اور اندرونی حساب پر کڑی نظر رکھنا۔ چلی اور کوریا میں کمپویٹرائزڈ خریداری سے کرپشن پر بڑی حد تک قابو پایا گیا ہے۔
۔ سرحد پار ممالک سے کرپشن کے خلاف تعاون کیا جائے۔ چالیس سے زیادہ ممالک نے بزنس حاصل کرنے کے لیے، دوسرے ممالک میں رشوت دینے کو خلاف قانون قرار دے دیا ہے۔اس کے علاوہ ملک منی لانڈرنگ کے خلاف جارحانہ اقدامات لے سکتے ہیں،اوردوسرے ملکوں میں ایسے مواقع کم کروائیں جن سے فائدہ اٹھا کر کالا دھن چھپایا جاتا ہے۔
قارئین، اب آپ کو بھی سمجھ آگئی ہو گی کہ کیوں حزب مخالف کو وزیر خزانہ حفیط شیخ پسند نہیں تھے؟ وہ ہر قیمت پر ان کا سینیٹ میں انتخاب روکنا چاہتے تھے ؟ وہ اس لیے کہ حفیظ شیح آئی ایم ایف سے آئے تھے۔ ایک ایسے ادارے سے جو عالمی سطح پر کرپشن کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔اور شیخ صاحب ان کی پالیسیز سے آشنا ہیں اور پاکستان میں کرپشن کے خلاف عمران خان کا دایاں بازو ہیں۔عالمی بینک کے انسٹیٹیوٹ کا تخمینہ ہے کہ دنیا میں سالانہ ایک کھرب ڈالر بطور رشوت لیے دیے جاتے ہیں۔یو این کا کنوینشن بخلاف کرپشن (UNCAC) اس سلسلے میں پہلا وہ قانون بنا ہے جو قابل تعزیر ہے اور کرپشن کے خلاف ہے۔ 12 جولائی 2017 سے 182 ممالک نے اس پر دستخط کئے ہوئے ہیں۔The Sustainable Development Goals(SDGs) ایک اور بین الاقوامی معاہدہ ہے جس پر بھی پاکستا ن پابند ہے اور اس کی شق ۱۶ کے تحت رشوت ختم کرنا، اداروں کو مضبوط کرنا اور معلومات کی فراہمی ان عالمی مقاصد کے حصول کی شرائط بھی ہیں۔اور اقوام متحدہ کی اعانت ان مقاصد کے حصول میں شامل ہے۔عین ممکن ہے کہ پاکستان کو ان عالمی اداروں کی اعانت کی ایک شرط کرپشن کے خلاف موثر کاروائی کرنا بھی ہو،جو بہر حال پاکستان کی اپنی بہتری کے لیے بھی ہے۔کاش کہ عمران خان کے مخالفین اب بس کر دیں اور رشوت خوروں کی حمایت چھوڑ دیں۔ اگر عوام کو کسی دن سمجھ آ گئی تو وہ ان کو ناکوں چنے چبوا سکتے ہیں!