خدارا اپنی مصنوعات بیچنے کے لئے اور تجارت کو بڑھاوا دینے کے لئے پاکستانی معاشرے کو نہ بیچیں!

199

ایک مجرم سامنے بیٹھا ہوا ہے اور ایک تفتیشی افسر اس سے تحقیقات کرتے ہوئے سوالات کچھ یوں کررہا ہے اور اس کے وہ مجرم جوابات دے رہا ہے۔
اس نے چوری کی تھی؟
نہیں
چوری نہیں، تو پھر چھورا؟
نہیں
جھوٹ بولا تھا؟
نہیں
بدتمیزی کی تھی؟
نہیں
آوارہ تھی؟
نہیں
تو بہن کو کیوں مارا؟
فون تھا اس کے پاس
تو یہ تھا اُس اشتہار کا سکرپٹ جو خواتین کے عالمی دن کے موقع پر خاص طور پر پاکستان کی موبائل فون نیٹ ورک فراہم کرنے والی کمپنی ’’جاز‘‘ نے جاری کیا تھا۔ ہم نے جب اس موبائل فون کا اشتہار دیکھا تو بڑا چونکا دینے والا لگا، پھر ہم یہ سوچ کر خاموش ہو گئے کہ شاید کچھ ہم ہی زیادہ حساسیت کا شکار ہوں۔ مگر اس کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل اور بے شمار دیگر پاکستانیوں کے ریمارکس نے یہ بات صحیح ثابت کر دی کہ یہ مسئلہ غیر معمولی حساسیت کا نہیں بلکہ حقائق کو توڑ مروڑ کر اپنا بزنس اور تجارت کو فروغ دینے کا ہے جس کی خاطر تمام تر معاشی، اخلاقی، قومی اور انسانی حدود کو پار کر لیا جاتا ہے۔ ہمارا نشریات پر نگاہ رکھنے والا ادارہ ’’پیمرا‘‘ بھی شاید خوابِ غفلت کا مزہ لوٹتا رہا اور پاکستان کے سو سے زیادہ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی نشریات میں یہ مبینہ فون کا اشتہار بڑے دھڑلے سے چلتا رہا۔ جس قدر منفی اور پرتشدد یہ اشتہار ہے اس کے بعد تو ’’جاز‘‘ فون کمپنی کے پاکستان میں بزنس کرنے پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے، آپ کب سے پاکستان کے معاشرتی مسائل سے اس قدر ہمدردی کرنے لگے۔ غضب خدا کا آپ اپنی پروڈکٹ بیچنے کی خاطر پوری دنیا کے سامنے پاکستان کو ایک پرتشدد اور نفسیاتی معاشرے کا عکاس بنا کر پیش کررہے ہیں؟ بقول ڈاکٹر شہباز گل اگر آپ کو پاکستانی عورت کی، بقول اشتہار کے، مجبوری اور لاچارگی سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو آپ کیوں نہیں ملک بھر کی خواتین میں مفت فون تقسیم کر دیتے؟ ہمدردی کرنے کا عملی مظاہرہ تو اسی صورت میں ہی ہوتا ہے؟۔دنیا کے سب سے ترقی یافتہ ملک امریکہ میں ہر شہر،چھوٹے قصبوں، کائونٹیز، سڑکوں اور فری ویز پر بڑے بڑے حروف کے ساتھ ٹول فری نمبرز کے ساتھ بل بورڈز اور سائن کے ساتھ اشتہار لگے ہوئے ہیں کہ اگر آپ عورت ہیں اور زیادتی کا نشانہ بنتی ہیں تو فوراً اس نمبر پر رابطہ قائم کریں لیکن ہم نے آج تک کسی امریکن فوج کمپنی چاہے ٹی موبائل ہو یا ویرائیزن، اسپرنٹ ہو یا اے ٹی اینڈ ٹی کسی کو اپنی تجارتی اور اشتہاری مہم کے لئے اس معاشرتی اور سماجی مسئلے کو استعمال کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ شماریات کے مطابق امریکہ میں ہر تہترویں سیکنڈ میں ایک امریکن جنسی آبرو ریزی کا نشانہ بنتی ہے تو پھر کسی پروڈکٹ کمپنی نے اس دلخراش مسئلے کو اپنی اشتہاربازی کے لئے کیوں استعمال نہیں کیا؟ اس کی وجہ ہے کیونکہ پاکستان کے برعکس مہذب معاشروں میں اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ ساتھ ہر چیز اور بات اور تصویر کیلئے گائیڈ لائن یا حدود کا تعین کر دیا گیا ہے مگر افسوس کہ ہمارا معاشرہ جو قدرے قدامات پسند ہے وہاں پر اس قسم کی حرکات کیلئے کمپنیوں کو مادرپدر آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ بات کوئی تعجب خیز نہیں کہ ہمارے حکمرانوں نے اپنے مفادات کی خاطر اس ملک کو فروخت کر کے کھا لیا۔