ماں بولی پنجاب زبان کا حشر!!

369

پچھلے دنوں دنیا بھر میں ماں بولی زبانوں کا دن منایا گیا جس میں دنیا بھر کے عوام نے اپنی اپنی ماں بولی زبانوں پر فخریہ مضامین اور کلمات لکھے اور ادا کئے۔ پاکستان میں بھی ماں بولی زبانوں کے پیروکاروں نے اپنی اپنی زبانوں پر فخریہ جشن منائے جس کو بچانے اور نافذ کرنے کا اعادہ کیا جس پر اہل پنجاب خاموش نظر آیا جو اپنا کلچر ،زبان، رسم رواج اور تہذیب و تمدن کھو بیٹھے ہیں جبکہ چڑھدے اورلہندے پنجاب کی پنجابی زبان برصغیر کی تیسری بڑی اور پاکستان کی سب سے بڑی زبان کہلاتی ہے جس کے بولنے والوں کی تعداد تقریباً پچاس فیصد ہے جس میں سرائیکی زبان شامل نہیں ہے۔ پنجابی زبان بھی برصغیر کی قدیم زبان کہلاتی ہے جو دراصل سنسکرت، اُردو، سندھی، سرائیکی، گجراتی، کشمیری، راجھستانی ،رانگڑی زبانوں کی طرح ایک زبان ہے جووادی سندھ کی سب سے بڑی زبان کہلاتی ہے جس میں گیارہ سو سال پہلے حضرت بابا فرید گنج شکر نے اپنا صوفیانہ کلام پیش کیا جس کے بعد حضرت بابا بلھے شاہ، شاہ حسین، سلطان باہو، وارث شاہ، میاں محمدبخش اور دوسرے بڑے شاعر پیدا ہوئے جنہوں نے مکمل طرز پر پنجابی زبان میں پڑھنے، لکھنے اور بولنے کو اپنایا مگر آج پنجابی زبان صرف بولنے تک محدود ہو چکی ہے جس کی پڑھائی لکھائی ختم ہو چکی ہے جو اہل پنجاب کے خلاف ایک سازش ہے کہ اگر خدانخواستہ کل کلاں پاکستان کا جغرافیہ بدل جائے جو تاریخ میں ہوتا رہا ہے جو آج کے ملک ہیں وہ کل نہ تھے، اس لئے ایسے میں پنجاب کی زبان کیا ہو گی۔ کیا اہل پنجاب بھارتی پنجاب سے گرومکھی کا رسم الخط ادھار لے کر زبان کو اپنائیں گے جنہوں نے مشرقی پنجاب میں پنجابی زبان کو گرومکھی میں اپنا رکھا ہے جو مشرقی پنجاب کی سرکاری زبان ہے جس کا لکھنا، پڑھنا اور بولنا ہر محکمے میں پایا جاتا ہے جس سے مغربی پنجاب کے لوگ محروم ہو چکے ہیں جن کی درسگاہوں میں پنجاب زبان کی بجائے اردو،فارسی، عربی، انگریزی زبانیں پڑھائی اور لکھائی جاتی ہیں حالانکہ صوفیائے اور اولیائے کرام فارسی زبان کو جانتے تھے مگر انہوں نے پھر بھی پنجابی زبان کو اپنایا جس سے کروڑوں پنجابی لوگ اولیائے کرام کی پنجابی زبان کی وجہ سے اسلام لانے میں کامیاب ہوئے تاہم پاکستان میں پنجابی زبان بولنے والوں کی تعداد زیادہ ہے جو بسااوقات بے ساختہ اپنی پنجابی زبان میں دوسرے لوگوں سے گفتگو کرنا شروع کر دیتے ہیں جو پنجابی بولتے نظر آتے ہیں مگر جب انہیں کہا جائے کہ آپ پنجابی زبان کو پڑھنے اور لکھنے کے لئے کیوں تیار نہیں ہو تو وہ احساس کمتری کا شکار ہو کر جواب دینے کی بجائے اُردو زبان کو پڑھنے لکھنے بولنے کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ اُردو قومی رابطے کی زبان ہے اور پنجابی مادری زبان ہے مگر اہل پنجاب اپنی ماں بولی پنجابی زبان کی بجائے بدیسی زبانوں کو اپنانے پر فخر کرتے ہیں یہی وجوہات ہیں کہ آج پنجابیوں کے گھروں میں پنجابی زبان کی بجائے اُردو یا انگلش پڑھی اور لکھی اور بولی جاتی ہے جس کی وجہ سے ماں بولی پنجابی زبان پر تالے لگ چکے ہیں ظاہر ہے جب اہل پنجاب اپنی دھوتی پگڑی اور زبان کو جاہلوں اور گنواروں کا لباس اور زبان قرار دیں گے تو پھر مادری زبان کا وہی حشر ہو گا جو آج امریکہ میں پرائی زبان انگلش پر گزارہ کیا جاتا ہے حالانکہ جنرل جارج واشنگٹن نے جنگ آزادی برطانوی استعماریت کے خلاف لڑی تھی مگر ٹیڑھی میڑھی زبان انگریزی اپنانا پڑی کیونکہ امریکی قوم جو دنیا بھر کی ایک قوموں کی ایک قوم ہے جس کا اپنا کوئی مخصوص کلچر، زبان، رسم و رواج اور تہذیب و تمدن نہیں ہے لہٰذا انہوں نے دنیا بھر کے کلچر، رسم و رواج اور زبانیں اپنا رکھی ہیں جبکہ پنجابی ایک قوم ہے جس کی اپنی صدیوں پرانی زبان کلچر رسم و رواج اور تہذیب و تمدن ہے مگر پنجاب کی مڈل کلاس نے اہل پنجاب کو ان کی زبان کلچر اور رسم و رواج اور تہذیب و تمدن سے محروم کر دیا ہے جو پنجابی لہجے ہیں اردو یا انگریزی بولتے نظر آتے ہیں برعکس پاکستان کے دوسرے حصوں میں سندھی، گجراتی، پشتو اور بلوچی زبانوں کو فخریہ پڑھا، لکھا اور بولا جاتا ہے، کوئی سندھی پٹھان، بلوچ یا گجراتی اپنے بچوں سے اپنی ماں بولی زبان کے لئے دوسری کوئی زبان نہیں بولتے ہیں۔ اگر پنجاب میں پنجابی فلموں، ڈراموں، مزاحیہ پروگراموں اور دوسرے دلچسپی کے فنکاروں کو دیکھیں تو وہ صرف اور صرف پنجابی زبانوں میں اداکاری اور فنکاری کرتے نظر آتے ہیں مگر جب ان کو پنجابی زبان کو اپنی مادری ماں بولی زبان کہنے کو کہا جائے تو وہ ناراض ہو جاتے ہیں ورنہ یہی طبقہ حکومت پنجاب سے مطالبہ کرے کہ آج کے بعد پنجابی زبان صوبے میں نافذ ہو گی۔ پنجابی زبان سکولوں میں لازمی زبان کے طور پر پڑھی، لکھی اور بولی جانی چاہیے ۔انگلش سکول نہ ہو تو پنجابی زبان کو بچایا جا سکتا ہے ورنہ پنجابی زبان دوسری زبانوں کی طرح مٹ جائے گی جس کے بعد پنجابی کلچر، رسم رواج اور تہذیب و تمدن ایک پرانی داستان کا حصہ کہلائے گا جس کا نام لینے والا کوئی نہیں ملے گا جو پاکستان کے بارہ کروڑ پنجابیوں کے ساتھ تاریخ کا سانحہ برپا ہو گا۔