عدالت کوٹھے کی وہ بیوا ہے جو جتنا پیسہ دے گا ویسا ہی فیصلہ کرے گی!!

241

ایک ٹاک شو کے پروگرام میں بڑے پائے کے ادیب نے ایک بھارتی (پاکستانی جو بھارتی روپ میں تھا) سے سوال کیا کہ آپ کی ٹیکسٹائل انڈسٹری کیوں اتنی زوال پذیر ہے؟ بھارت نے پوچھا۔ ’’کیوں‘‘ پاکستانی نے جواب دیا کہ ’’آپ کی ہیروئنوں کے لباس دن بدن چھوٹے ہوتے جارہے ہیں‘‘کمر سے اوپر، پھر پیٹ سے اوپر جا کر تو چند انچ دھجی رہ گئی۔ لیکن آج اس پاکستانی سے پوچھا جائے کہ آپ کے ملک میں ٹیکسٹائل کس مقام پر ہے تو جواب نہ بن پڑے گا، ایک ایوارڈ شو دیکھ رہے تھے تو ایک محترمہ دکھائی دیں میکسی کے قسم کا کوئی لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ بڑا اچھا لگا کہ پوری ستر پوش ہے لیکن جب ان محترمہ نے خرامہ خرامہ چلنا شروع کیا تو پتہ چلا بائیں طرف کا حصہ کمر سے لے کر ایڑی تک کھلا ہوا ہے۔ یعنی ’ہواوان‘‘ ہے ان کی کالی کالی ٹانگیں اور اوپر بہتر کچھ دکھائی دے رہا تھا۔ پہلے تو سر تک ہاتھ گیا لیکن بھئی کوئی دوسرا کیوں اپنا سر پیٹے جبکہ سامنے والے نے پیسہ کمانے کے لئے یہ نمائشی لباس پہنا ہے۔
ایک مشہور ایکٹریس جو حال ہی میں بھارت گئی تھیں اور ایک بھارتی اداکار کے ساتھ ان کی بڑی چشم کشا قسم کی تصاویر تھیں، کہتی ہیں کہ عورت مارچ میں جان ڈالنے کے لئے شریک ہوتی ہوں۔ لوگوں نے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ کا غلط مطلب نکالا ہے۔ فرماتی ہیں عورت بھی ایک مکمل انسان ہے اور اسے حق حاصل ہے کہ جو کوئی اس کے جسم کو دیکھے تو وہ اسے روکے کہ وہ ان کے جسم کو نہ دیکھے محترمہ آپ جو انٹرنیٹ پر اپنے جسم کی نمائش کررہی ہیں کس کس کو منع کریں گی کہ آپ کے جسم کی سرعام نمائش نہ دیکھے۔ معاف کیجئے گا آپ نے عورت کا تقدس پامال کیا ہے۔ آپ نے ایک رائٹر کا ٹی وی پروگرام تو دیکھا ہو گا اس نے کتنی سفاکی سے عورت کی تذلیل کی ہے۔ ’’کوئی جواب ہے‘‘ ۔ ’’اگر محرک نہ ہو گا تو تحریک بھی نہیں ہو گی‘‘ کبھی اس فارمولے پر غور کیا ہے۔ یہ جو اینکر خواتین روزانہ نئے نئے ہیر سٹائل بنواتی ہیں آدھے دھڑ کی نمائش کرتی ہیں چہرا میک اپ کی تہوں میں ملفوف ہوتا ہے۔ اس سارے اہتمام کی اس پروگرام سے کیا نسبت ہے؟ یہ وہ خواتین ہیں کہ جب فرشتے شرم و حیا بانٹ رہے تھے تو یہ چھلنی لیکر کھڑی تھیں سو ساری شرم و حیا چھن کر زمین بوس ہو گئی۔ اگر یہ خواتین احتجاج کریں کہ وہ بغیر دوپٹہ یا حجاب کے سکرین پر نہیں آئیں گی تو کیا چینل والے مجبور نہ ہو جائیں گے؟ لیکن جب خواتین کو دوسروں سے اپنے حسن کی داد لینی ہوتی ہے تو اپنے حسن کو کیسے تراشا ہوتا ہے، وہ اس کے لئے کسی حد تک بھی جا سکتی ہیں۔ اگر آپ لوگ ان مرد حضرات کو تخلیئے میں بڑبڑاتے ہوئے سن لیں کہ وہ آپ کے بارے میں کون سے الفاظ استعمال کررہے ہیں تو میرا خیال ہے چلو بھر پانی تلاش کر کے ڈوب مرنے کی فکر کریں گی یا اب یہ خواتین گنگا نہا کر پاک صاف یعنی ’’نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی‘‘ ۔
ایک خبر آئی ہے کہ ملک میں جنسی جرائم بڑھ گئے ہیں تو یقیناآپ اس پر غور کریں گے کہ ’’محرک کیا ہے‘‘؟ جو یہ تحریک اٹھی لوگ جرائم کی بات تو کرتے ہیں لیکن یہ غور نہیں کرتے کہ اس کا سدباب کس طرح کیا جائے۔ ان جرائم کی وجوہات کیا ہیں؟ جنسی جنون کو ابھارنے والے وہ کون سے محرکات ہیں ان کا خاتمہ کرنا چاہیے۔ ہر جرم کے پیچھے کوئی وجہ ضرور ہوتی ہے۔ معاشرے میں بڑھتی ہوئی نمائش اور عریانی نے سلفی جذبات کی آبیاری کی ہے۔ دوسری وجہ دولت کی ہوس ہے جسے حاصل کرنے کے لئے انسان انتہائی پستی میں گرتا چلا جاتا ہے۔ پہلے لوگ اپنی انا، خوداریوں، خاندانی شرافت کوا ہمیت دیتے تھے، ان کا ضمیر زندہ تھا اور اپنی شرافت کو بچانے کئے لئے گھٹیا عمل کو نہیں اپناتے تھے۔ معاشرے کا خوف تھا کہ لوگ تھو تھو کریں گے۔ برادری سے علیحدہ کر دیں گے۔ کوئی رشتہ کرنا تو درکنار ملنا بھی پسند نہ کرے گا لیکن اب لوگ ان اقدار سے پیچھا چھڑا چکے ہیں۔ ان کے نزدیک دولت مند ہونا فخر ہے۔ اب کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ بھئی یہ دولت تمہارے پاس کس طرح آئی؟ دولت مندوں سے میل جول کو قابل فخر گردانا جاتا ہے۔ امی فلاں کروڑ پتی یا ارب پتی ہمارا جگری دوست ہے۔ چاہے وہ امیر کبیر شخص انہیں منہ بھی نہ لگاتا ہو۔ دوسری بیماری چاپلوسی ہے، تعلقات کو مضبوط کرنے کے لئے ایسی ایسی خوبیاں اس شخص میں بیان کرنا جو سرے سے اس میں ہوتی ہی نہیں۔ جھوٹی تعریفوں سے بڑے بڑے حکمرانوں کو بے وقوف بنایا گیا ہے۔ اصل مقصد سے بہکا دیا گیا۔ بقول شخصے ’’بانس پر چڑھا دیا‘‘ بھٹو ایک ذہین شخص تھا بہت کچھ ملکی مفاد میں کرسکتا تھا لیکن اس کے یہ ناعاقبت اندیش حواریوں نے اس کی سوچوں کے دھارے کو ہی بدل دیا۔ سب اچھا ہے سب اچھا ہے کہہ کر اصل معاملات سے دور کر دیا۔ ایک خطرناک سیاسی چال نے ریاست کی بربادی کی اور مضبوط لیڈر سے اسلامی دنیا محروم ہو گئی۔ اس میں شک نہیں کہ بھٹو ایک دبنگ لیڈر تھا، اس نے تمام مسلم ممالک کو یکجا کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی اور یہی کوشش اسے لے بیٹھی۔
اب یہ مخنثوں کا چیئرمین اس کا نواسا اور پھولن دیوری جیسی مکار جھوٹی، بے حیاء، بے غیرت عورت کسی نے نہ دیکھی ہو گی جس نے اپنے گیڈر باپ کو بھگوڑا بنا دیا جس کو پاکستان میں اٹھتے بیٹھتے ہارٹ اٹیک ہورہے تھے۔ پچاس روپے کے سٹام پیپر پر NRO لیکر نکل گیا اور پی ڈی ایم کا یہ فضلو غدار ابن غدار ضمیر و ایمان فروش جس کا باپ پاکستان کے وجود کے خلاف تھا۔ یہ نمک حرام دولت کمانے پاکستان میں کیوں بیٹھا ہے۔ اربوں کی جائیداد بچانے کے لئے۔ پھولن دیوی اور مخنث کے ساتھ ہو لیا۔ پاکستان کے عوام سو رہے ہیں سینیٹ کے الیکشن ہو گئے پیسے کی بارش ہوئی ’’اور زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی آتا ہے‘‘ عدالت کوٹھے کی وہ بیوا ہے جو جتنا پیسہ دے گا ویسا ہی فیصلہ کرے گی۔ چوروں، ڈاکوئوں کی ہم نوا ۔ تو عوام بتائیں انہیں چوروں، ڈاکوئوں کی حکومت پسند ہے۔ تو عدالت ختم کرو جیلوں سے چھوٹے ڈاکوئوں کو رہا کرو۔ مت سوچو، سوتے رہو۔ روز قیامت تمہیں اب حضرت عزرائیل ہی سور پھونک کر جگائیں گے۔ تم آنکھیں کھو ل کراردگرد کا جائزہ لو گے اور کہو گے ’’سب کچھ تو لٹ چکا اب جاگنے سے فائدہ ‘‘ ۔وقت تمہارے ہاتھوں سے سونے کی چڑیا بن کر اڑ رہا ہے پکڑ لو ورنہ پچھتاوے کا بھی یارا نہ ہو گا؎
فقیرانہ آئے صدا کر چلے
میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے!!