استعمال کے بعد اس ماسک کومٹی میں دفنائیں، پھول اگائیں

226

کورونا وبا کو ایک سال سے زیادہ ہوگیا اور اب دنیا بھر میں پلاسٹک کے ساتھ ساتھ چہروں پر پہنے جانے والے ماسک کا ڈھیر خشکی اورپانی کو آلودہ کررہا ہے۔ لیکن اب ہالینڈ کی ایک خاتون نے ایسا ڈسپوزیبل فیس ماسک بنایا ہے جسے استعمال کے بعد پھینکنے کی بجائے مٹی میں دبادیں تو وہاں پھول اگ آئیں گے۔

ہالینڈ کی مشہورمصور ماریانہ ڈی گروٹ پونز، الترخت شہر میں اپنا اسٹوڈیو رکھتی ہیں۔ اور انہوں نے ایسا فیس ماسک بنایا ہے جس کا مٹیریئل زمین میں دبانے کے بعد تیزی سے گھل کر ختم ہوجاتا ہے۔ اس کے اندر موجود پھولوں کے بیج باہر نکل آتے ہیں اور یوں اگرمناسب ماحول اور مٹی مل جائے تو وہاں پھول اگنے لگتے ہیں۔

ماریانہ اپنی ڈیزائننگ اور پینٹنگ میں بھی ماحول کا خیال رکھتی ہیں۔ ان کے روغن زہریلے اجزا سے پاک ہیں اور وہ کینوس کا کاغذ بھی بازیافت (ری سائیکل) شدہ اجزا سے حاصل کرتی ہیں۔ اب انہوں نے کاغذ کے پھوگ میں بعض ریشے ملاکر کووڈ 19 ماسک بنایا ہے۔ اس طرح یہ مکمل طور پر بایوڈیگریڈیبل ہے۔ دوسری جانب انہوں نے ماسک کی تہہ کے اندر پھولوں کے باریک بیج بچھادیئےہیں۔