کشمیر کی صورتحال کو قریب سے دیکھ رہے ہیں، امریکا

234

واشنگٹن: امریکا نے عالمی برادری کو یقین دلایا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں اور کشمیر میں پیشرفتوں کو بہت قریب سے دیکھ رہا ہے اور اس معاملے پر بھارت اور پاکستان کے درمیان براہ راست مذاکرات کی حمایت کرتا ہے۔

20 جنوری کو جو بائیڈن انتظامیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد سے امریکی وزیر خارجہ کی روزانہ کی نیوز بریفنگ میں مسئلہ کشمیر کو باقاعدگی سے اٹھایا جارہا ہے۔

امریکی میڈیا کے صحافی یہ جاننے کے لیے بے چین نظر آتے ہیں کہ نئی انتظامیہ جنوبی ایشیا کی دو ایٹمی قوتوں، بھارت اور پاکستان کے درمیان اس پرانے تنازع سے نمٹنے کا ارادہ کس طرح کرتی ہے۔

نیوز بریفنگ کے دوران ایک صحافی نے محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس کو یاد دلایا کہ بھارت اور پاکستان نے گزشتہ ماہ کے آخر میں کشمیر میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے ساتھ امن برقرار رکھنے کے اپنے عہد کی تجدید کی تھی۔

اس کے بعد سے ہی دونوں نے 2003 میں جس جنگ بندی معاہدے پر دستخط کیے تھے ان کی خلاف ورزیوں سے گریز کیا ہے لیکن امن بدستور کمزور ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ ‘امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن جنگ بندی برقرار رکھنے کو یقینی بنانے کے لیے کیا کرنے جا رہے ہیں’۔

نیڈ پرائس نے جواب دیا کہ ‘یہ سچ ہے کہ ہم جموں و کشمیر میں ہونے والی پیش رفت کو بہت قریب سے دیکھتے آرہے ہیں، خطے کے بارے میں ہماری پالیسی تبدیل نہیں ہوئی’۔