سازش!

249

سازش کا لفظ سب سے زیادہ مسلمانوں کی تاریخ میں ملتا ہے، سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد جو مسلم تاریخ لکھی گئی اس میں اس لفظ کا بہت استعمال ہوا، جا بجا لکھا گیا کہ مختلف طاقتوں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کی اور لفظ کو ہجے کر کے پڑھنے والے قاری نے کبھی جاننے کی ضرورت محسوس نہیں کی کہ یہ لفظ اپنے اندر کیا مفہوم رکھتا ہے، اتنی کھوج لگانے کی ضرورت بھی کیا تھی، انگلینڈ نے شیکسپیئر کے ڈراموں سے سیاست سیکھی اور اس کا عملی مظاہرہ یورپ کے ساتھ تعلقات میں دیکھنے میں آیا، مختلف ملکوں کے ساتھ اتحاد بنائے اور توڑے، جنگوں میں ان اتحادوں نے کرشمے دکھائے اور یہی ساری تاریخ لکھی گئی تو اس کا تجزیہ بھی کیا گیا ، اسباب و علل پر بھی مباحث ہوئے اور اس طرح POLITICAL SCIENCEکا اہم سبجیکٹ توجہ کا مرکز بنا، اور یہ بات اہم قرار پائی کہ معاملات سفارت کاری کے ذریعے طے کئے جائیں، ایک بڑی عجیب کہانی ہے کہ انگلینڈ کے ڈاکٹر ایڈورڈ نے نپولین کو خط لکھا کہ انگریز قیدی رہا کر دئیے جائیں، ڈاکٹر ایڈورڈ وہ شخص ہے جس نے چیچک کا ٹیکہ ایجاد کیا تھا اور اس کی اس ایجاد سے سارے یورپ نے فائدہ اٹھایا تھا ڈاکٹر ایڈورڈ کا تعلق انگلینڈ سے تھا مگر نپولین نے اس کی خدمات کو سراہتے ہوئے انگریز فوجیوں کو رہا کر دیا تھا، ان کے عوض انگلینڈ نے کبھی کسی Kind gestureکا مظاہرہ نہیں کیا، جب انگلینڈکے ہی ایک مورخ نے یہ سوال اٹھایا تو ارباب اختیار نے کہا کہ نپولین انگلینڈ کے لئے مستقل خطرہ بنا ہوا تھا سو اس سے رعایت نہیں کی جا سکتی تھی، میکاولی کے نظریات جو ابن خلدون سے ہی مستعار تھے ایسے تمام حربوں کو جائز قرار دیا جو ملک کے مفاد میں ہوں خواہ ان کا political ethicsسے تعلق ہی کیوں نہ ہو، اس نے یہ لکھا کہ POLITICAL ETHICSکا تعلق داخلی معاملات سے تو ہو سکتا ہے مگر بین الاقوامی تعلقات میں ان کا استعمال ملکی سالمیت کے خلاف بھی ہو سکتا ہے، مسلمانوں نے جدید علم کو اپنے اوپر حرام کر لیا تھا سو ان کو معلوم ہی نہ تھا کہ باہر کی دنیا اپنے معاملات کیسے نمٹاتی ہے جب نوآبادیاتی نظام نے ہر طرف اپنے پنجے گاڑ دئیے تو ان کو اپنے مذہب کی اخلاقیات یاد آنے لگی، اور ان کو محسوس ہونے لگا کہ ان کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں، ان میں اہلیت ہی نہ تھی کہ وہ اس سیاسی توڑ جوڑ کا مقابلہ کر سکیں۔
سازش کے بارے میں جو مقالے لکھے گئے ہیں ان میں لکھا گیا ہے کہ سازش عقل کا ایک عمل ہے جو بے عقلی کو آسانی سے قابو کر لیتاہے اور یہ بات ثابت ہو چکی کہ سلطان عبدالحمید نے یورپی طاقتوں سے جو بھی معاہدے کئے ان میں ذہانت اور فراست کا کوئی دخل نہ تھا اس کی مثال ترکی کا برطانیہ کے ساتھ وہ معاہدہ ہے جس کی رو سے سو سال کے بعد وہ سارے علاقے جو ترکی کا حصہ تھے وہ اس کو واپس کر دئیے جائیں گے اور سادہ لوح مسلمان آج بھی سمجھتے ہیں کہ ترکی کو سلطنت عثمانیہ دوبارہ مل جائے گی، یہ لوگ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں، وہ معاہدہ ان لندن میوزیم میں موجود ہے اور سلاطین عثمانیہ کی کم عقلی اور بودے پن پر نوحہ کناں، اب صرف برصغیر کے وہ ٹیکسٹ بورڈ کے تنخواہ دار مورخ ہی لکھتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ ہوا یا سازش ہوئی اور یہ بات بچوں کے ذہن میں بیٹھ جاتی ہے ان کو کالج اور یونیورسٹی پر بھی یہی سابق پڑھایا جاتا ہے اور ان کو کوئی نہیں بتاتا کہ سازش اور دھوکہ ذہانت اور فطانت کم علمی اور بودے پن سے سابقہ پڑے تو علم اور ذہانت ہی جیت جاتی ہے اور قوموں کی ذہانت کے ٹیسٹ پر مسلمان بہت پیچھے ہیں اور لطف یہ کہ ان کو اس کا احساس بھی نہیں۔
پاکستان کی تاریخ میں بدقسمتی سے قوم کو کوئی ذہین حکمران نہیں ملا، میں دانستہ لیڈر یا رہنما کا لفظ استعمال نہیں کررہا، لیڈر یا رہنما وہ ہوتا ہے جس کی نظر کم از کم تین نکات پر ہوتی ہے ایک تو یہ کہ قوم کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں دوم یہ اس قوم کے مسائل کیا ہیں اور سوم یہ کہ ان کا حل کیا ہے، ایسا کوئی حکمران گزرا جس کو ان عوامل کی درک ہو، ایوب خان کے بی ڈی سسٹم کی بڑی مخالفت ہوئی مگر اس نے لوگوں کو مسائل کا ادراک دینا شروع کر دیا تھا، لوگوں میں CIVIC SENSEجاگنا شروع ہوگیا تھا GRASS ROOTپر کچھ اچھے لوگ اوپر آنے لگے تھے اور امید ہو چلی تھی کہ پاکستان معاشی طور پر طاقتورہو چلا ہے اور وہ خطے میں ایک اہم طاقت ور ملک بن کر ابھرے گا اور اپنی قومی سلامتی کی حفاظت خود کر سکے گا، اور اپنی شرائط پر، پاکستان میں یہی وہ مثبت تبدیلی کچھ عالمی طاقتوں کو پسند نہیں آئی جو پاکستان کے معاشی، سیاسی اور سماجی حالات پر نظر رکھے ہوئے تھے ان کو اندازہ ہورہا تھا کہ پاکستان میں عوامی سطح پر بیداری آ گئی تو ان کے وہ مقاصد پورے نہ ہو سکیں گے جو ان کے HIDDEN AGENDAپر تھے اور ان میں سب سے اولین یہ تھا کہ پاکستان کو بفر زون رکھا جائے، مختلف سیاسی افراد اور پھر فوج کی مدد سے اس بیداری کی لہر کو روک دیا گیا اور ظاہر ہے اس کے کامیاب ہونے کی وجہ عوام کی جہالت، حکمرانوں کی کوتاہ عقلی اور بڑھتی ہوئی بیرونی مداخلت تھی، مختلف کتابوں میں یہ اعتراف کر لیا گیا ہے کہ پاکستان میں چلنے والی تمام سیاسی تحریکیں FOREIGN SPONSEREDتھیں، پاکستان میں کوئی بھی حکمران ایسا نہ تھا جو ملک و قوم کو بیرونی ملکوں کی سیاسی ہوسناکی کو پہنچ سکتا اور بچا سکتا، بیرونی قوتوں کو معلوم تھا کہ ان کو ضرب کہاں لگانی ہے، انہوں نے ملک میں سرکایہ کاری کو روک دیا اور سارے تعلیمی ادارے جو بین الاقوامی سطح پر RECOGNIZEDتھے اور جن کی اسناد کو شرفِ قبولیت بخشا جاتا تھا وہ سب کی سب تباہ کر دی گئیں، اس کے بعد ہر تعلیم، صحت اور روزگار NOSE DIVEکر گیا۔ پاکستان کو اسلام پرستی اور عربوں کی دوستی بھی مہنگی پڑی اور اس کی وجہ سے ملک میں فرقہ واریت، انتہا پسندی اور دہشتگردی آئی، ان تمام چیزوں پر بند باندھنا کیسی لیڈر یا رہنما کا کا م ہوتا ہے کوئی لیڈر یا رہنما تو کوئی تھا نہیں سب حکمران بن کر آئے اور سب کے سب فیوڈل لاڈز، جن کی عقلی استعداد نامعلوم، اب اگر نابالغ میڈیا عوام کو یہ بتائے کہ پاکستان کے خلاف سازشیںہوئیں تو ان کی عقل پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے ،ویسے تعجب تو یہ ہے کہ دیگر مسلم ممالک کواپنی حالتِ زار کا احساس ہو چکا ہے سو سازش کی گردان بیشتر مسلم ممالک میں اب ہوتی نہیں ان ممالک میں بھی نہیں جو پاکستان سے چھوٹے ہیں، پاکستان کے پائوں میں بہت سے چکی کے پاٹ باندھے گئے ہیں ایک تو یہ کہ یہ ملک اسلام کے نام پر بنا ہے اس جھوٹ پر اہل محراب نے اللہ کا نام لکھ دیا پھراس ملک کو اسلامی جمہوریہ بنا دیا جبکہ یہ نہ اسلامی ہے نہ جمہوریہ، اسلامی نظریاتی کونسل اور ناموس رسالت کی رسیاں اس قوم کے گلے میں ڈال دی گئی ہیں اور ہر ناکامی پر کہا جاتا ہے کہ یہ کافروں کی سازش ہے۔